آج ہندوستان کےنامور ادیب افسانہ نگار کرشن چندر کا جنم دن ہے

آج ہندوستان کےنامور ادیب افسانہ نگار کرشن چندر کا جنم دن ہے

کرشن چندر اردو کے نامور افسانہ نگار تھے۔ ان کی پیدائش 23 نومبر 1914ء کو وزیر آباد، ضلع گجرانوالہ، پنجاب (موجودہ پاکستان) میں ہوئی تھی۔ ان کے والد گوری شنکر چوپڑا میڈیکل افسر تھے۔ کرشن چندر کی تعلیم کا آغاز اردو اور فارسی سے ہوا تھا۔ اس وجہ سے اردو پر ان کی گرفت کافی اچھی تھی۔ انہوں نے 1929ء میں ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد 1935ء میں انگریزی سے ایم۔ اے۔ کیا۔ بعد ازاں انہوں نے قانون کی پڑھائی بھی کی تھی۔
کرشن چندر کے معاصرین میں سعادت حسن منٹو اور راجندر سنگھ بیدی تھے۔ خامہ فرسائی کے زریں دور کی بات کریں توپتہ چلتا ہے کہ کرشن چندر 1955ء سے لے کر 1960ء تک اپنا بہترین ادب تخلیق کر چکے تھے۔ ان کی کئی تخلیفات، مثلاً ’کالو بھنگی‘، ’مہالکشمی‘ اور ’ایک گدھے کی سرگزشت‘ کافی مقبول ہوئے تھے۔
کرشن چندر اپنے معاصرین میں ایک خاص امتیازی اسلوب سے ممتاز نظر آتے ہیں۔ اسی دور میں منٹو جیسے قلم کار موجود تھے جس شیطان سے رحمان اور غلاظت کے ڈھیر سے شرافت تلاش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے،جنسیات پر لکھنے کی وجہ سے منٹو کو بہت ساری مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا البتہ صرف اسی نقطہ نظر سے دیکھنا منٹو پر ظلم کے سوا کچھ نہی۔۔ دوسری جانب ایک بہت بڑا نام بیدی کا ہے ان کا خاص موضوع عورتوں،بوڑھوں اور بچوں کے مسائل کو سماج کے گوش گزار کرنا تھا، “اپنے دکھ مجھے دے دو” میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ کیسے ایک عورت گھر پورے انہماک کے ساتھ چلاتی ہے سب کے دکھ کا مرہم ہے لیکن اس کی دکھتی ہوئی رگ پر کوئی انگلی رکھنے والا نہیں ہوتا۔۔ اور کرشن چندر کے موضوعات شروعات میں بھلے ہی رومانوی اور کشمیری طرز پر چل رہے تھے البتہ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے “مہا لکشمی کا پل” سے مظلوم و مفلس عورتوں کے پھٹے پرانے کپڑوں سے ایئر کنڈیشن AC گاڑی میں چل رہے نیتا جی کے خوبصورت چہرے کو بھی دیکھا۔ چونکہ کرشن چندر کیہ زندگی کا اکثر حصہ شہروں میں گزرا اس لیے انہوں نے شہری زندگی کے مسائل کو اپنی تخلیقات کا موضوع بنایا۔۔
کرشن چندر نے کئی فلموں کی کہانیاں، منظرنامے اور مکالمے لکھے۔ ’دھرتی کے لال‘، ’دل کی آواز‘، ’دو چور‘، ’دو پھول‘، ’من چلی‘، ’شرافت‘ وغیرہ ایسی فلمیں ہیں جنہوں نے کرشن چندر کی صلاحیتوں کو پردہ سیمیں پر پیش کیا۔
8 مارچ 1977ء کو کرشن چندر کا انتقال ہو گیا تھا۔