امریکہ میں شدید ترین سردی کی لہر، کم از کم سات افراد ہلاک

امریکہ میں شدید ترین سردی کی لہر، کم از کم سات افراد ہلاک

امریکی مڈ ویسٹ یعنی ملک کے وسطی اور مغربی شہر اس وقت شدید ترین ٹھنڈ کی لہر سے گزر رہے ہیں۔ قطب شمالی سے آنے والی اس برفیلے موسم کو ‘پولر وورٹیکس’ کہا جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں اب تک سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکہ کے تیسرے بڑے شہر شکاگو میں درجہ حرارت گر کر منفی 30 تک پہنچ گیا تھا جبکہ شمالی ڈاکوٹا میں درجہ حرارت منفی 37 تک گر گیا تھا۔ یہ دونوں اس وقت دنیا کے سب سے ٹھنڈے مقام، قطب جنوبی کے کچھ علاقوں سے بھی زیادہ سرد ہیں۔

اموات کیسے واقع ہوئیں؟

خبروں کے مطابق امریکی ریاست مشی گن میں دو افراد کی سردی کی وجہ سے موت ہو گئی کیونکہ وہ سخت ٹھنڈ میں بغیر حفاظتی اقدامات کیے باہر نکل گئے تھے۔

منگل کو ریاست وسکونسن کے شہر ملواؤکی میں ایک 55 سالہ شخص اپنے گیراج میں گر گر مر گیا۔ حکام نے بتایا کہ وہ اپنے گھر کے باہر جمی ہوئی برف کی صفائی کر رہا تھا۔

الے نوائے ریاست کے شہر پیکن میں خبروں کے مطابق ایک 82 سالہ شخص ہائپو تھرمیا یعنی جسم کا درجہ حرارت کم ہوجانے کی وجہ سے ہلاک ہو گیا۔

اس کے علاوہ شکاگو میں بھی ایک 75 سالہ شخص کی موت ہو گئی اور شمالی انڈیانا میں ایک مرد اور عورت سردی کی وجہ سے پیش آنے والے ٹریفک حادثے میں ہلاک ہو گئے۔

اگلے چند دنوں میں موسم کی پیش گوئی کیا ہے؟

موسمیاتی اداروں کے مطابق آنے والے دنوں میں ‘گریٹ لیکس’ یعنی امریکہ اور کینیڈا کی سرحد کے نزدیک قائم پانچ بڑی جھیلوں والے علاقوں میں برفباری کے خدشات ہیں۔ ریاست وسکونسن میں 24 انچ برفباری کے امکانات ہیں جبکہ الےنوائے میں چھ انچ برفباری کے امکانات ہیں۔

اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے وسکونسن، الےنوائے اور مشی گن سمیت پانچ ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ کری گئی ہے۔

ان امریکی علاقوں میں سردی اس قدر شدید ہے کہ قومی موسمیاتی ادارے کے مطابق صرف دس منٹ باہر سردی میں کھڑے رہنے کے باعث فراسٹ بائٹ ہو سکتا ہے۔

آنے والے دنوں میں ہفتے کے اختتام تک امریکہ بھر میں کم سے کم دو کروڑ افراد سخت سردی سے متاثر ہو سکتے ہیں جہاں درجہ حرارت گر کر منفی 28 تک پہنچ سکتا ہے۔

شکاگو میں کیا ہو رہا ہے؟

شکاگو میں سخت سردی ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن اس کے باوجود شہر کے باسیوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ اس دفعہ حالات کافی مختلف ہیں اور سردی خطرناک حد تک ہونے والی ہے۔

شہر کے دو مرکزی ایئر پورٹس پر اب تک 1500 سے زیادہ پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں اور ٹرین سروس معطل کر دی گئی ہے۔

مشی گن جھیل سے آنے والی برفیلی ہواؤں کے باعث شہر میں ہونے والی سردی اتنی ہوگی جیسے وہاں کا درجہ حرارت منفی 45 ڈگری تک پہنچ گیا ہو۔

شہر میں اسی ہزار بے گھر افراد کو گرم رکھنے کے لیے عارضی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔

’ہڈیوں میں گودا منجمد کر دینے والی سردی‘
موسم کی پیشنگوئی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس ہفتے امریکی باشندے ’ہڈیوں میں گودا منجمد کر دینے والی سردی‘ کی لہر کی لپیٹ میں ہوں گے۔

خطے میں درجہ حرارت اتنا کم ہو جائے گا کہ ایسا محسوس ہوگا کہ منفی 53 سیلسیئس ہو گیا ہے اور اس کی وجہ ’پولر وورٹیکس‘ ہے جو دراصل انتہائی سرد قطبی ہواؤں کا بگولا ہے۔

درجہ حرارت نقتہ انجماد سے نیچے گرنے کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کی زندگی مفلوج ہو جائے گی۔

امریکی ریاست آیووا میں حکام نے لوگوں کو گہرا سانس نہ لینے اور کم بات چیت کرنے کی تاکید کی ہے۔

موسم کی پیشنگوئی کرنے والے ادارے کا کہنا ہے کہ امریکی ریاست الینوائے کے شہر شکاگو میں ماؤنٹ ایوریسٹ اور انٹارٹیکا سے بھی زیادہ ٹھنڈ پڑے گی۔

مِڈ ویسٹ اور گریٹ لیکس سب سے شدید برفباری کا نشانہ بنیں گی، جس کی وجہ سے سفر کرنا پُرخطر یا ناممکن ہو جائے گا۔

سی این این کے مطابق درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گرنے کی وجہ سے امریکہ کی 75 فیصد آبادی متاثر ہو گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ شہر کا کم سے کم درجہ حرارت منفی 32 ہو گا لیکن یخ بستہ ہواؤں کی وجہ سے درجہ حرارت منفی 45 جیسا محسوس ہو گا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نیشنل اوشیانِک اینڈ ایٹموسفیریک ایڈمنسٹریشن کے سربراہ ڈیرک ایرنت کا کہنا تھا ’آرکٹک کی سرد ہواؤں کے امریکہ میں داخل ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پوری دنیا کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ پولر وورٹیکس ایک مقامی واقعہ ہے اور امریکہ کا مِڈ ویسٹ دنیا کا بہت چھوٹا سا حصہ ہے۔

ایرنت کہتے ہیں کہ امریکہ اور کینیڈا کے کچھ حصوں میں انتہا کی سردی پڑ رہی ہے لیکن باقی دنیا گرم ہی ہے اور اگر آپ اوسط نکالیں تو آپ دیکھیں گے کہ دنیا کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔