ٹیکنالوجی کی دوڑ امریکہ چین کو پیچھے دھکیلنے کے لیے کس حد تک جائے گا

ٹیکنالوجی کی دوڑ امریکہ چین کو پیچھے دھکیلنے کے لیے کس حد تک جائے گا

امریکہ اور چین کے درمیان اگر کوئی تجارتی معاہدہ ہو بھی جاتا ہے تب بھی لگتا نہیں کہ دنیا کی ان دو بڑی معاشی طاقتوں میں جاری مخاصمت ختم ہو جائے گی۔

گزشتہ ایک برس سے دونوں ملک ایک ایسی تجارتی جنگ میں الجھ ہوئے ہیں جس کے برے اثرات سے عالمی معیشت بھی محفوظ نہیں رہی۔

لیکن کئی ماہرین کہتے ہیں کہ یہ جھگڑا محض تجارت کا نہیں بلکہ یہ اصل میں طاقت کی وہ لڑائی ہے جس میں دو مختلف نقطہ نظر ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں۔ ان ماہرین کے بقول چاہے کوئی باہمی تجارتی معاہدہ ہوتا ہے یا نہیں، امریکہ اور چین کے درمیان لڑائی کا دائرہ پھیلتا رہے گا اور آنے والے وقت میں اس مسئلے کو حل کرنا مشکل تر ہو جائے گا۔

سیاسی و معاشی مشاورت فراہم کرنے والی ایک کمپنی ’یوریشیا گروپ‘ کے ایشیا کے ڈائریکٹر مائیکل ہِرسن کہتے ہیں کہ ’ہم امریکہ اور چین کے درمیان جاری سیاسی و معاشی مقابلہ بازی کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں، اس ’نیو نارمل‘ میں دونوں کے درمیان مقابلہ زیادہ سخت اور زیادہ واضح ہو گیا ہے۔‘

’ تجاری معاہدے سے امریکہ اور چین کے درمیان طاقت کی جنگ کے ایک مرحلے میں کمی آ جائے گی، لیکن یہ کمی عارضی ہو گی اور اس کے اثرات بھی محدود ہوں گے۔‘

ماہرین کا خیال ہے کہ چونکہ دونوں فریق خود کو ٹیکنالوجی کی دنیا میں سب سے بڑی طاقت منوانے کی کوشش کر رہے ہیں، اس لیے اب ان کی جنگ کا اگلا میدان ٹیکنالوجی کی دنیا ہو گی۔

یہ بات درست لگتی ہے کیونکہ گزشتہ چند ماہ میں دونوں ملکوں کے درمیان جو بھی تجارتی مذاکرات ہوئے ہیں ان میں ٹیکنالوجی کا تبادلہ (ٹیکنالوجی ٹرانسفر) کا معاملہ سر فہرست رہا ہے۔

تجارتی مشاورت کی عالمی تنظیم ’ہِرنچ فاؤنڈیشن‘ سے منسلک محقق سٹیفن اولسن کا کہنا ہے کہ ’اب ہر ملک کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ اس کی خوشحالی، دولت، معاشی تحفظ اور اس کے عسکری تحفظ کا تقاضا یہی ہے کہ اسے ٹیکنالوجی کے میدان میں برتری حاصل ہو۔‘

ٹیکنالوجی پر لڑائی
بہت سے ماہرین سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی کی لڑائی پہلے ہی شروع ہو چکی ہے اور اس لڑائی کے عین درمیان جو چیز ہے وہ ہے چین کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کپمنی ’ہواوے‘۔

ماضی قریب میں امریکہ اور کچھ دیگر ممالک کی طرف سے ہواوے کی مصنوعات سے منسلک سکیورٹی خدشات پر بین الاقوامی سطح پر خاصی لے دے ہوتی رہی ہے۔ امریکہ نے نہ صرف اپنے وفاقی اداروں کو کمپنی کی مصنوعات استعمال کرنے سے منع کر دیا ہے بلکہ اپنے اتحادی ملکوں سے بھی کہا کہ وہ ہواوے کے ساتھ کاروبار ٹھپ کر دیں۔

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ دونوں نے اپنے ہاں ہواوے کی ’فائیو جی‘ ٹیکنالوجی کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔

لیکن ہواوے کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک نجی کپمنی ہے اور اس کا چینی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس سال فروری میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ہواوے کے بانی رین زینگفی نے کہا تھا کہ ان کی کمپنی کسی قسم کی خفیہ کارروائیوں میں ملوث نہیں ہو گی۔

ہواوے کے کردار پر تنازعہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب کمپنی کے بانی کی بیٹی کو کینیڈا میں حراست میں لے لیا گیا اور پھر حال ہی میں کمپنی نے امریکی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔

قانونی چارہ جوئی کے علاوہ کمپنی نے عوام میں بھی اپنا موقف کھل کر بیان کرنا شروع کر دیا ہے اور اس سلسلے میں معروف امریکی روزنامے وال سٹریٹ جرنل میں ایک پورے صفحے کا اشتہار بھی دیا گیا جس میں امریکی عوام سے کہا گیا کہ وہ ’ہر سنی سنائی بات پر یقین نہ کریں۔‘

اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں ’سرد جنگ‘ کی اصطلاح کا استعمال کچھ زیادہ ہی ہو رہا ہے، لیکن ’یوریشیا گروپ‘ کے ڈائریکٹر مائیکل ہِرسن کے بقول اگر ’دونوں ملکوں میں ٹیکنالوجی کی دوڑ کو دیکھیں تو یہ اصطلاح درست ثابت ہو رہی ہے۔‘

’ہواوے پر جو جھگڑا چل رہا ہے وہ عالمی سطح پر اثر و رسوخ کی جنگ کی عکاسی کرتا ہے۔ اور تجارتی معاملات کے مقابلے میں اس کشمکش کو ختم کرنا زیادہ مشکل ہے۔‘

حالات یہاں تک پہنچے کیسے؟
جوں جوں گزشتہ برسوں میں دنیا میں چین کے اثرو رسوخ میں اضافہ ہوا ہے، چین کے حوالے سے امریکی خدشات میں بھی اضافہ ہوتا رہا ہے۔

چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیئیٹِو جیسے عظیم تعمیراتی منصوبے، 2025 تک ہر چیز ’میڈ انِ چائنا‘ کے منصوبے اور چین کی ہواوے اور علی بابا جیسی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت، ان تمام چیزوں نے امریکی خدشات کو تقویت دی ہے۔

ان خدشات کا احاطہ خود امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اکتوبر میں خود ایک تقریر میں بھی کر دیا تھا جب انھوں نے کہا تھا کہ چین نے جب سے اپنی معیشت کو آزاد کیا ہے اس نے ’وسیع تر تعاون‘ کی بجائے عالمی سطح پر ’معاشی چڑھائی‘ کی پالیسی کو ترجیح دی ہے۔

یہ امید کہ آخر کار چین معیشت کا مغربی ماڈل اپنا لے گا، اسے اس بات سے تقویت ملتی ہے کہ چین کی معیشت نے سرکاری نظام کے ساتھ ساتھ ترقی کی ہے، اس کا حصہ بن کر نہیں۔

مشاورتی کمپنی ’کنٹرول رِسکس‘ کے ڈائریکٹر انیڈریو گِلہومز کہتے ہیں کہ ’چین کے عزائم گزشتہ چند برسوں میں زیادہ کھل کر سامنے آئے ہیں۔ اسی لیے کوئی بھی اب یہ نہیں سوچتا کہ آنے والے برسوں میں چین ترقی کا مغربی جمہوری ماڈل اپنائے گا یا مارکیٹ اکانومی کو پوری طرح اپنا لے گا۔‘

اسی لیے کچھ ماہرین سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی ایک دن پیدا ہونا ہی تھی۔

چونکہ کسی موجودہ اور ابھرتی ہوئی طاقت یا نظام کے درمیان جنگ تاریخ میں کوئی نئی بات نہیں، اس لیے عالمی معیشت کے تناظر میں اگر امریکہ اور چین آپس میں ہمیشہ بغلگیر رہتے تو ہر کسی کو تعجب ہوتا۔

محقق سٹیفن اولسن کہتے ہیں کہ ’جو چیز ہمیں دکھائی دے رہی ہے وہ اصل میں یہ ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس اور حکومتی کنٹرول میں چلنے والا ایک معاشی نظام، روایتی آزاد مارکیٹ اور آزاد معیشت کے سامنے کھڑا ہو چکا ہے اور نیا نظام یہ کھیل بھی نئے قوائد سے کھیل رہا ہے۔‘

اب ہو گا کیا؟
جوں جوں ٹیکنالوجی کی دوڑ میں تیزی آ رہی ہے، ماہرین سمجھتے ہیں کہ امریکہ چین کو پیچھے دھکیلنے کے لیے اضافی ٹیکسوں کی بجائے دوسرے اقدامات کرتا رہے گا۔

ان ماہرین کے مطابق امریکہ میں چینی سرمایہ کاری پر پابندیاں لگانا، چین کو برآمد کی جانے والی امریکی مصنوعات کو محدود کرنا اور چینی کمپنیوں پر دباؤ میں اضافہ کرنا، یہ ایسے ہتھیار ہیں جو امریکہ استعمال کرتا رہے گا اور ان میں اضافہ بھی کر سکتا ہے۔

اس قسم کے نان ٹیریف یا غیر محصولاتی اقدامات کے بارے میں زیادہ بات نہیں ہوتی کیونکہ انھیں عددی شکل میں نہیں دکھایا جا سکتا، لیکن اس قسم کے اقدامات کے اثرات محصولاتی پابندیوں جیسے اقدامات سے زیادہ دیرپا ہو سکتے ہیں۔

گزشتہ برس امریکہ نے ایک نیا قانون منظور کیا تھا جس سے چین کو پیچھے دھکیلنا زیادہ آسان ہو سکتا ہے۔

اس قانون کے تحت امریکی حکومت کے اس اختیار میں اضافہ ہو گیا جس کے تحت وہ بیرونی کمپنیوں کے معاملات کی جانچ پڑتال زیادہ کر سکتی ہے بلکہ چاہے تو ان کمپنیوں کو امریکہ میں کاروبار سے روک بھی سکتی ہے۔

نئے قانون سے امریکہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری پر نظر رکھنے والی کمیٹی ’سی آیف آئی یو ایس‘ کے اختیارات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

یہ کمیٹی دیکھتی ہے کہ آیا کسی غیر ملکی سرمایہ کاری سے امریکہ کی قومی سلامتی کو خطرہ تو نہیں۔

گزشتہ برس ہی اس کمیٹی نے ترسیل زر کی مشہور امریکی کپمنی ’منی گرام‘ اور علی بابا کے درمیان ایک بہت بڑے متوقع معاہدے کو رد کر دیا تھا حالانکہ اس وقت نیا قانون منظور بھی نہیں ہوا تھا۔

امریکہ اور چین کے درمیان ’نیو نارمل‘
مستقبل میں امریکہ اور چین کے تعلقات کیا ہوں گے، اس کا انحصار کسی حد تک اس بات پر ہے کہ دونوں کے درمیان تجارتی معاہدہ کس قسم کا ہو گا۔

کافی عرصے سے ’جیسے کو تیسا‘ کی پالیسی پر عمل کرنے کے بعد دونوں کے درمیان دسمبر میں صلح پر جو اتقاق ہوا ہے، اس کے بعد سے دونوں بات چیت پر رضامند دکھائی دے رہے ہیں۔

لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ کسی قسم کی تجارتی ڈیل کے باوجود بھی مستقبل میں دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان تعلقات کوئی نئی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔

مسٹر اولسن کے خیال میں ہو سکتا کہ دونوں ممالک کچھ معاملات میں ایسا ’تعاون کریں جو دونوں کے لیے نہایت فائدہ مند‘ ہو اور کچھ معاملات میں تجارتی رکاوٹیں اور پابندیاں جاری رکھیں۔

مسٹر اولسن کے بقول ہو سکتا ہے کہ دونوں ٹیکنالوجی جیسے معاملات کو پابندیوں کے دائرے کے اندر ہی رکھیں۔

’کیا ہواوے کو مستقبل میں کبھی امریکہ میں فائیو جی سے لیس نیٹورک کی تعمیر میں کوئی حصہ دیا جائے گا؟ لگتا نہیں ایسا ہوگا۔‘