کاش مجھے بھی کوئی جنسی ہراساں کرتا:پریتی زنٹا

کاش مجھے بھی کوئی جنسی ہراساں کرتا:پریتی زنٹا

ممبئی( نیوز لیب ویب ڈیسک) پریتی زنٹا نے بولی وڈ ہنگامہ کو اپنی جلد ریلیز ہونے والی فلم ’بھئیا جی سپرہٹ‘ کی تشہیر کے دوران انٹرویو دیا، جہاں ان سے بھارت میں می ٹو مہم کے حوالے سے پوچھا گیا۔ تاہم اداکارہ کے جواب کو سوشل میڈیا پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

بھارت میں جاری می ٹو مہم کا حصہ کئی نامور شخصیات بن رہی ہیں اور اب اداکارہ پریتی زنٹا نے بھی اس مہم کے حوالے سے بات کی ہے۔ اس انٹرویو کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہورہی ہے۔

می ٹو مہم کے حوالے سے اداکارہ پریتی زنٹا نے بتایا کہ ’میرا خیال ہے کہ می ٹو مہم کا شروع ہونا ضروری تھا، لیکن خواتین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس مہم کو صحیح جگہ استعمال کریں، کیوں کہ ایسی بھی بہت سی خواتین ہیں جو اپنے مفاد کے لیے اسے استعمال کر رہی ہیں تاکہ انہیں مقبولیت مل سکے‘۔اس پر پریتی سے سوال کیا گیا کہ کیا انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں سے کبھی کسی نے انہیں جنسی ہراساں کیا؟ تو اس پر اداکارہ نے ہنستے ہوئے حیران کن جواب دے ڈالا۔

پریتی زنٹا کا کہنا تھا کہ ’نہیں میرے ساتھ می ٹو کا کوئی تجربہ نہیں، لیکن کاش ہوتا، تاکہ میں بھی کچھ شیئر کر سکتی‘۔ اداکارہ نے یہ بھی کہا کہ بچوں کو چھوٹی عمر سے سکھانا چاہیے کہ کیا صحیح اور کیا غلط ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فلم انڈسٹری سب سے محفوظ جگہ ہے، یہاں بہترین لوگوں کے ساتھ انہوں نے کام کیا ہے، اور انہیں کافی افسوس ہوتا ہے جب لوگ اس انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کو برا کہتے ہیں۔

اداکارہ نے می ٹو مہم کے حوالے سے یہ بھی کہا کہ ’آج کی سویٹو کل کی می ٹو ہوسکتی ہے‘۔ (aj ki sweeto kal ki meetoo hosakti hai).

اداکارہ کے اس انٹرویو کے سامنے آنے کے بعد سے انہیں سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کسی نے کہا کہ پریتی زنٹا کو ایسا کہنے پر شرم آنی چاہیے۔

انہوں نے سوال کیا کہ یہ انٹرویو سننے کے بعد لوگوں کے دلوں میں پریتی زنٹا کے لیے کتنی عزت باقی رہ گئی ہے؟ان کا کہنا تھا کہ انہیں پریتی سے ایسے غیر ذمہ دارانہ بیان کی توقع نہیں تھی۔

تاہم چند ایسے صارفین بھی تھے جنہوں نے پریتی زنٹا کا ساتھ دیا اور کہا کہ یہ انٹرویو ایڈٹ کیا گیا ہے۔

بعدازاں اداکارہ نے اپنے ٹوئٹر پر انٹرویو کے میزبان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان کو غلط انداز دیا گیا۔ پریتی زنٹا نے کہا کہ اس روز انہوں نے 25 انٹرویوز دیے تھے، تاہم صرف اس ایک انٹرویو میں ان کے بیان کو متنازع بنا کر پیش کیا. اداکارہ نے ایک اور انٹرویو شیئر کیا، جس میں انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے بیان میں می ٹو کہ بارے میں یہ کہنا چاہتی تھیں۔

یاد رہے کہ بھارت میں می ٹو مہم کا آغاز اداکارہ تنوشری دتہ نے ستمبر میں کیا تھا۔تنوشری نے اپنے ایک انٹرویو میں اداکار نانا پاٹیکر پر انہیں جنسی ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا۔تنوشری کے بعد بولی وڈ کی اور کئی خواتین بھی سامنے آئیں، جنہوں نے می ٹو مہم کا حصہ بنتے ہوئے اپنی کہانیاں شیئر کیں۔