کراچی: ڈاکٹروں کا تیسرے روز بھی احتجاج، مریض پریشان

کراچی: ڈاکٹروں کا تیسرے روز بھی احتجاج، مریض پریشان

کراچی(نیوزلیب) حیدر آباد سمیت سندھ میں ڈاکٹروں کا احتجاج تیسرے روز میں داخل ہو گیا، تنخواہیں اور الاؤ نسز بڑھانےکا مطالبہ زور پکڑ گیا، بیشتر ہسپتالوں کی او پی ڈی بند ہونے سے مریض رلنے لگے۔

یاد رہے گزشتہ روز نو شہرو فیروز میں ڈاکٹروں کے احتجاج کے باعث مبینہ طور پر 2 مریض علاج نہ ہونے سے چل بسے۔ ایک طرف یہ خبر گردش کرتی رہی کہ سندھ حکومت نے سرکاری ہسپتالوں میں تعینات ڈاکٹرز کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں اور دوسری طرف یہ اطلاعات بھی ملی کہ ہڑتالی ڈاکٹرز اور صوبائی سیکریٹری صحت کے درمیان مذاکرات ناکام ہو گئے۔

ڈاکٹرز نے مطالبات نہ ماننے پر 31 جنوری کو وزیر اعلٰی ہاؤس کے سامنے احتجاجی دھرنے کی کال دی ہے۔ صوبائی وزیر صحت عذرا فضل پیچوہو نے بتایا کہ مختلف کیڈرز میں 25 ہزار سے 75 ہزار تک اضافہ کیا گیا ہے۔ گریڈ 17 اور 18 کے ڈاکٹرز کو 60 ہزار، جب کہ گریڈ 19 اور 20 کے ڈاکٹرز کو 90 ہزار روپے تک الاؤنس ملے گا۔

گزشتہ

حیدر آباد، لاڑکانہ سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں ڈاکٹروں نے دوسرے دن بھی اپنے مطالبات کے حق میں ہڑتال کی، مسیحاؤں کی ہڑتال کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

مسیحا جان لیوا مرض میں مبتلا مریضوں کی پرواہ کئے بغیر ہر دوسرے مہینے اپنے مطالبات منوانے نکل پڑتے ہیں، سول ہسپتال حیدر آباد میں ہڑتال کے باعث برا حال ہے، حکومت سندھ خاموش ہے۔ ڈاکٹروں نے مطالبہ کیا ہے کہ تنخواہیں اور الاؤنسز دوسرے صوبوں کے برابر کیے جائیں۔ چانڈکا ہسپتال لاڑکانہ کے ڈاکٹر بھی پیچھے نہ رہے، او پی ڈی بند ہونے سے مریض بے حال جبکہ لواحقین پریشان ہیں۔

خیر پور میں مسیحاؤں نے اظہار یکجہتی کے طور ساتھ دیا۔ او پی ڈی بند کر دی اور مین دروازے پر تالا ڈال دیا۔ ان کا بھی یہ ہی کہنا ہے اتنے ہی پیسے دو جتنے دوسرے صوبوں کے ڈاکٹروں کو دیئے جا رہے ہیں۔