لفظوں کو زندگی بخشنے والے اداکار قادر خان انتقال کرگئے

لفظوں کو زندگی بخشنے والے اداکار قادر خان انتقال کرگئے

بالی ووڈ کے لیجنڈ اداکار قادر خان طویل علالت کے بعد کینیڈا میں انتقال کرگئے۔ قادر خان کے بیٹے کی جانب سے والد کی موت کی تصدیق کی گئی ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ سے جاری خبروں کے مطابق معروف بالی ووڈ اداکار، ڈائریکٹر، رائٹر، مزاحیہ اداکار قادر خان کے بیٹے سرفراز خان نےتصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے والد قادر خان انتقال کرگئے ہیں، قادر خان کا انتقال صبح چار بجے ہوا۔ وہ کینیڈا کے شہر ٹورنٹو کے اسپتال میں زیر علاج تھے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق 81 سالہ قادرخان کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا ، جب کہ وہ بات کرنے سے بھی قاصر تھے۔ ڈاکٹرز نے قادرخان کو وینٹی لیٹر پر منتقل کر رکھا تھا۔ چند سال قبل قادر خان کے گھٹنوں کی سرجری بھی ہوئی تھی۔

قادر خان کے بیٹے سرفراز خان کا مزید کہنا ہے کہ ہمارا پورا خاندان کینیڈا میں ہے، لہٰذا ان کے والد کی آخری رسومات یہاں ادا کی جائیں گی۔ قادر خان کئی عرصے سے اپنے بیٹے اور بہو کے ساتھ کینیڈا میں مقیم تھے۔

قادر خان 22 اکتوبر 1937 کو کابل میں پیدا ہوئے۔  ان کا تعلق کاکڑ خاندان سے تھا۔ انہوں نے 300 سے زیادہ فلموں میں مختلف حیثیت سے کردارادا کیے اور ان کا ہر کردار امر رہا۔ قادر خان نے اپنی مزاحیہ اداکاری سے بھی شائقین کو محظوظ کیا۔ وہ ایک ورسٹائل فنکار تھے۔

اپنی لازوال اداکاری  کی بدولت انہوں نے کامیڈی فلموں کیلئے 9 فلم فیئرایوارڈز اپنے نام کیے۔ ان کی مشہورفلموں میں امر اکبر اینتھونی، قلی، خون بھری مانگ، بیوی ہو تو ایسی،بول رادھا بول، میں کھلاڑی تو اناڑی، دلہے راجا، حسینہ مان جائے گی، مقصد، نیا قدم، آنکھیں، شامل ہیں، جب کہ ان کی آخری فلم سال 2015 میں ہو گیا دماغ کا دہی تھی۔

واضح رہے گزشتہ روز قادر خان کی حالت تشویشناک ہونے کے بعد بعض بھارتی ویب سائٹس پر ان کی موت کی خبر پھیل گئی، بعد ازاں ان خبروں کی تردید ان کے بیٹے سرفراز خان نے کی تھی۔

کچھ اور قادر خان کے بارے میں!

شاید ہی کوئی شخص ہوگا جس نے بالی ووڈ لیجنڈ امیتابھ بچن کا شہرہ آفاق ڈائیلاگ”رشتے میں تو ہم آپ کے باپ لگتے ہیں۔۔۔۔نام ہے شہنشاہ”نہ سنا ہو اور اسے سُن کر سر نہ دھنا ہو،مگر بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ایسے اور اس جیسے سیکڑوں یادگار جملوں کے خالق بالی ووڈ کے لیجنڈ اداکار اور مکالمہ نویس قادر خان تھے۔

کاکڑ خاندان کے چشم و چراغ قادر خان نے22 اکتوبر 1937 کو کابل میں آنکھ کھولی،ان کی والدہ کا تعلق بلوچستان کے علاقے پشین سے تھا،قادر خان کی پیدائش سے قبل ان کے چاربھائی پیدا ہوئے مگر وہ ایک خاص عمر تک آ کر ہی فوت ہو جاتے تھے ، جب قادر خان کی پیدائش ہوئی تو ان کی والدہ نے شوہر کو قائل کیا کہ یہ علاقہ ان کے بچوں کے لیے ٹھیک نہیں، ہمیں یہاں سے ہجرت کر لینی چاہیے۔کافی سوش بچار کے بعد بالاخر اس خاندان نے کابل سے ہجرت کر کے سپنوں کے شہر بمبئی میں پڑاو ڈال لیا۔

اس خاندان نے بچوں کے مستقبل کے لیےہجرت تو کر لی مگر انھوں نے بمبئی میں اپنےدن انتہائی کسمپرسی کے عالم میں گزارے اور اسی کسمپرسی میں قادرخان کے والد نے ان کی والدہ کو طلاق دے دی،اور یوں چھوٹی عمر میں ہی قادر خان کو باپ کی شفقت سے محروم ہونا پڑا،ماں کی دوسری شادی اور سوتیلے باپ کے آنے کے بعد بھی ان کی مشکلیں کم نہ ہوئیں۔

ابتدا میں تھیٹر کے لیے مکالمہ نگاری اور اداکاری کرنے والے قادر خان کو فلموں میں لانے کا سہرا معروف ہدایتکار نریندر بیدی کے سر جاتا ہے جنہوں نے انھیں اپنی فلم “جوانی دیوانی “کے مکالمے لکھنے کے لیے راضی کر لیا بعد ازاں انھوں نے 1974 میں یش چوپڑا کی ہدایات میں بننے والی فلم “داغ” سے چھوٹے چھوٹے کرداروں کے ساتھ اداکاری کے میدان میں بھی قدم رکھ دیا۔

آغازمیں قادرخان کو اس وقت کے سپر اسٹار راجیش کھنہ کی وجہ سے متعدد فلمیں ملیں پھر بعد ازاں من موہن ڈیسائی جیسے جوہری نے اس ہیرے کو پرکھ لیا اور اس کے بعد ان دونوں نے 1974 میں راجیش کھنہ کی فلم “روٹی” سے لے کر 1988 کی ” گنگا جمنا سرسوتی” تک متعدد فلمیں ساتھ کیں،من موہن ڈیسائی کی ہی ہدایات میں بننے والی شہرہ آفاق فلم “امر اکبر انتھونی” سے کہانی کار اور مکالمہ نویس قادر خان کی جوڑی امیتابھ بچن کے ساتھ بھی چل پڑی، اس دور میں امیتابھ کی فلمیں یا تو سلیم جاوید کی جوڑی لکھ رہی تھی یا پھر قادر خان ہی ان کی بیشتر فلمیں لکھ رہے تھے۔

قادر خان نے امیتابھ بچن کے ساتھ بےنام،پرورش،مقدر کا سکندر،سہاگ،مسٹر نٹور لال،یارانہ،دیش پریمی،لاوارث،خودار،قلی،شرابی،شہنشاہ اور بہت ساری فلمیں کیں جن میںکہانی اور مکالمے کے ساتھ ساتھ انھوں نے اداکاری بھی کی اس کے علاوہ قادر خان نے اسی کی دھائی کے اواخر میں تیزی سے ابھرے والے نئے اداکار گووندا کا ہاتھ بھی تھاما اور ان کے کئریر کوبام عروج تک پہنچانے میں اپنا اہم کردار ادا کیا اور نہ صرف ان کے لیے کمال فلمیں لکھیں بلکہ ان کے ساتھ اسکرین پر بھی کمال کی کیمسٹری دکھائی۔

اپنے طویل کئریر میں 200 فلمیں لکھنے اور 400 سے زائد فلموں میں اداکاری کرنے والے قادر خان کو تین بار فلم فئیر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا جب کہ 9 بار ان کی فلم فئیر ایوارڈ کے لیے نامزدگی بھی ہوئی۔

قادرخان کافی طویل عرصے سے صاحب فراش تھے،وہ نسیان سمیت سانس کی بیماری میں مبتلا تھے اور کینڈا میں اپنے اداکار بیٹے سرفراز خان کے پاس ہی مقیم تھے۔