کیا سانحہ ساہیوال کے واقعے کی باضابطۂ کارروائی ہوئی ہے؟

ساہیوال میں پنجاب پولیس کے دہشتگردی کے خلاف بنائے گئے ادارے کاؤنٹر ٹیرریزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی کارروائی کے بارے میں بہت سے سوالات کیے جار ہے ہیں۔

ہفتے کے روز پیش آنے والے اس واقعے میں ایک بچی اور عورت سمیت چار لوگ ہلاک ہوئے جبکہ گاڑی میں موجود تین بچے محفوظ رہے۔

سی ٹی ڈی کے دعوے کے مطابق گاڑی کے ڈرائیور کا ’تعلق دہشتگرد تنظیم داعش‘ سے بتایا جا رہا ہے جس میں وہ مبینہ طور پر ’سہولت کار‘ تھے۔

سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس واقعے میں سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے معمول کے ضوابطِ کار کے مطابق کارروائی کی یا نہیں؟

تاہم مختلف تجزیہ کاروں کی رائے دیکھی جائے تو پولیس کی جانب سے اطلاع سے لیکر واقعے کے بعد گاڑی اور لاشوں کو جائے وقوعہ پر چھوڑ جانے تک ہر چیز پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

کیا اس کیس کو غیرپیشہ ورانہ طریقے سے نپٹایا گیا؟

بی بی سی نے اس بارے میں سابق آئی جی پنجاب شوکت جاوید سے بات کی اور پوچھا کہ اس واقعے میں کیا غلط ہوا؟

شوکت جاوید نے جواب میں کہا کہ اہلکاروں نے ’بالکل اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے، اور ان سے لا پرواہی ہوئی ہے۔’

ان کے خیال میں ’منصوبہ بندی میں کمی رہ گئی تھی۔ حساس اداروں اور سی ٹی ڈی کے پاس معلومات تھیں لیکن جو حکم دیا گیا تھا وہ واضح نہیں تھا۔‘

انھوں نے واقعے میں ملوث اہلکاروں کی ذہنی کیفیت کے بارے میں اندازہ لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں ’اہلکار گھبرا گئے، انھوں نے خواتین اور بچوں کو سی سی ٹی وی پر نہیں دیکھا۔ انھوں نے دو لوگوں کو دیکھا جو فرنٹ سیٹ پر بیٹھے تھے جس کے بعد انھوں نے لاپرواہی کا مظاہرہ کیا۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘

جبکہ ساتھ بچوں یا غیر متعلقہ افراد کی موجودگی سے متعلق طے شدہ ضوابط کے بارے بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’اگر یہ پتا ہو کہ ساتھ یرغمال ہیں اور ساتھ عورتیں، بچے یا بے گناہ لوگ ہیں پھر تو اور احتیاط کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔’

اس سلسلے میں جب پنجاب پولیس میں ایک سینیئر اہلکار سے پوچھا گیا کہ اس قسم کے حالات میں کیا مروجہ طریقۂ کار پر عملدرآمد کیا گیا تو انھوں نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ ’فی الحال جس نہج پر یہ کیس چل رہا ہے اور اس پر جے آئی ٹی کام کر رہی ہے تو اس بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

اہلکار نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایک بات اہم ہے کہ عام پولیس کی نسبت سی ٹی ڈی کے اہلکاروں کی تربیت اور طریقۂ کار زیادہ سخت ہوتا ہے۔ اسی نسبت سے ان سے توقعات بھی زیادہ ہوتی ہیں کہ وہ اس قسم کے حالات میں بہتر طریقے سے ردعمل دکھائیں۔‘

فائرنگ کے واقعات کے بارے میں سوال کیا گیا کہ جب زخمی یا ہلاک شدگان کو پولیس سڑک پر مرنے کے لیے یا مردہ حالت میں چھوڑ کر چلی گئی۔ جس کے بعد سامنے آنے والی فوٹیج سے واضح ہوتا ہے کہ جائے وقوعہ پر عوام نے اپنی مرضی سے تصویریں بنائیں۔ اور پولیس نے بچوں کو ایک پیٹرول سٹیشن پر چھوڑ دیا۔

گاڑی میں والدین کے ساتھ یہ دو بچیاں اور ان کا ایک بھائی بھی موجود تھا

اس کے جواب میں ان اہلکار نے کہا ’اس معاملے میں پولیس سے ایسے رویے کی توقع نہیں تھی بلکہ میرا ذاتی تاثر یہ ہے کہ پولیس کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ کیونکہ پولیس کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ زخمیوں کو ہسپتال تک پہنچائیں اگر ہلاکتیں ہوئی ہیں تو ان کے پوسٹ مارٹم کا انتظام کریں۔ یہاں تو لواحقین میں بچے ہیں جنہیں اس طرح نہیں چھوڑا جا سکتا۔

شوکت جاوید کا کہنا تھا ’پوری کوشش کرنی چاہیے کہ کسی طرح سے گاڑی کو روکا جائے اور مطلوبہ شخص کو گرفتار کیا جائے یا اس طریقے سے کاروائی کی جائے کہ صرف اسی شخص کو نقصان پہنچے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ نشانہ لے کر فائر کیا گیا ہے ’تو پھر ان کے لیے کوئی معافی نہیں ہے۔ اور اگر پیچھے گاڑی سے فائرنگ ہوئی تو یہ جلد بازی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔’

جائے وقوعہ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’جو اسلحہ بارود ملا ہو وہ میڈیا کو دکھانا چاہیے اور اگر پولیس پر فائرنگ ہوئی ہے تو خول بھی ملنے چاہئیں جن کے فرانزک ٹیسٹ بھی ہونے چاہئیں ۔‘

حسن عباس، دانیال آدم خان
نوٹ: نیوزلیب کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں!