شعبہ نفسیات و دماغی امراض کی زبوں حالی:کالم ڈاکٹر سید صلاح الدین بابر

شعبہ نفسیات و دماغی امراض کی زبوں حالی:کالم ڈاکٹر سید صلاح الدین بابر

پاکستان میں شعبہ نفسیات و دماغی امراض کی زبوں بختی

تحریر: پروفیسر ڈاکٹر سید صلاح الدین بابر

جسمانی صحت و تندرستی ، خوشی و راحت کی کیفیت کا انحصار ذ ہنی صحت پر ہوتا ہے۔ اگر کوئی انسان ذہنی طورپر صحت مند نہ ہو تو اس کے اثرات پورے جسم پر مرتب ہوتے ہیں ،کیونکہ دماغ ہی انسان کے سارے جسمانی نظام کو کنٹرول کرتا ہے۔دماغی صحت کے بغیر ایک مکمل صحت مند زندگی کا تصور ممکن نہیں۔ انسانی جسم میں دماغ کی حیثیت ایک ”کنٹرول روم“ کی ہوتی ہے۔ اگر کنٹرول روم یعنی دماغ کی کارکردگی درست نہیں تو انسانی زندگی کا تمام تر نظام درہم برہم ہوجاتا ہے۔ دماغ ہی انسان کے جسم کا وہ حصہ ہے جو سارے جسمانی نظام کو کنٹرول کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دماغی اور نفسیاتی بیماریاں اکثر اوقات جسمانی امراض کی شکل میں ظاہر ہوتی ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ کسی بھی معاشرے میں موجود 10,000 ذہنی مریضوں کے لئے ایک ڈاکٹر کا ہونا بے حد ضروری ہے اور اگر انہی اعداد و شمار کا پاکستان سے موازنہ کیا جائے تویہاں لاکھوں ذہنی مریضوں کے لئے ایک ہی ڈاکٹر دستیاب ہوتو غنیمت تصور کیا جاتا ہے۔عالمی طور پر ہر سال ذہنی امراض میں مبتلا 8 لاکھ افراد اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتے ہیں۔پاکستان میں تقریباً 15 لاکھ افراد ذہنی امراض کے مسائل سے دو چار ہیں۔ پاکستان میں صحت کے لیے مختص کیے گئے بجٹ میں سے صرف 2 فیصد دماغی امراض اور ان کے علاج کے لیے خرچ کیا جاتا ہے۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے ۔
شمار اس کی سخاوتو ں کا کیا کریں کہ وہ شخص
چراغ بانٹتا پھرتا ہے چھین کر آنکھیں
مجھے آج کے کالم بہ طور خاص ملک میں ماہر نفسیات و دماغی امراض کی کم یابی کا تذکرہ کرنا ہے۔ اس کم یابی کے کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور اس کے انسداد کے لیے کیا کیا جائے؟ ۔ میں آج تمام اہل علم و فکر اور دانشوروں کو دعوت دیتا ہوں ہے کہ خدارا! مل کر سوچیں کہ ہمارے ملک میں نفسیاتی و دماغی امراض کے حوالے سے آج صورتحال کیا ہے؟ اوّل الذکر تو یہ کہ کیا واقعی دماغی امراض بڑھ رہے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ کیا علاج معالجے کی سہولیات بروقت اور مناسب مہیا کی جارہی ہیں۔ تیسرا نکتہ یہ ہے کہ کیا ان امراض کے تدارک کیلئے لوگوں کو وسیع معلومات حاصل ہیں۔یہ بات بلا شک و شبہ کہی جا سکتی ہے کہ ذہنی امراض، دل کی بیماریوں سے زیادہ پیچیدہ اور کینسر سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔ ذہنی اور دماغی بیماریاں ہر جگہ اور ہر عمر کے لوگوں میں پائی جاتی ہیں۔غریب ہو یا امیر، جوان ہو یا بوڑھا ہر معاشرے اور نسل کے لوگ اس کی زد میں ہیں۔
وطن عزیز میں ناقابل فہم اور عجیب منطق ہے۔ دنیا میں جس شعبے کی اہمیت اور ضرورت ہوتی ہے اسے پاکستان میں انتہائی شدت سے نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔میری مراد شعبہ امراض نفسیات، دماغی امراض اور منشیات سے ہے۔ سچی بات یہی ہے کہ ہمارے ہاں اس شعبے کی اہمیت زبانی جمع خرچ سے زیادہ نہیں۔ سمجھ دار ڈاکٹرز نفسیاتی و دماغی مریض کی علامات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسے مریضوں کو ماہر نفسیات و دماغی امراض کی طرف ریفر کر دیتے ہیں۔ دیگر ڈاکٹرز اپنی تمام تر کوششوں میں ناکام ہو کر اسے ”کچھ نہیں“ کی سند جاری کر دیتے ہیں۔وہ مریض ماہر نفسیات کے پاس لائے جاتے ہیں۔
ماہر نفسیات و دماغی امراض اس مریض کا علاج شروع کرتا ہے اور اللہ کے کرم سے وہ مریض صحت پاتا ہے اور یوں نہ صرف مریض بلکہ اس کے گھر والے بھی ایک ذہنی کرب سے نجات حاصل کرلیتے ہیں۔ذہنی اور دماغی امراض کا معاملہ دیگر بیماریوں سے الگ نوعیت کا ہوتا ہے اس کا بہتر طور اندازہ ان لوگوں کو ہے جو خود ذہنی مریض رہ چکے ہوں یا ان کا کوئی اپنا اس تکلیف سے دوچار ہو۔وہ اس بیماری میں درپیش مسائل اور مریض کی کیفیت اور شفا یافی تک کے سفر کو بخوبی سمجھتے ہیں اور انہیں اس شعبے کی اہمیت کا بہ طور خاص پتہ ہوتا ہے۔اس بیماری میں ٹیسٹ نارمل ہوتے ہیں ،ماہر نفسیات و دماغی امراض کے ڈاکٹر کو صرف علامات سے مرض تک پہنچنا ہوتا ہے۔
میری زندگی کی تقریبا ً دو دہائیاں بہاول وکٹوریہ ہسپتال میں بطور سربراہ شعبہ ذہنی و دماغی امراض کے گزری ہیں ۔ اس دورا ن آگہی سیمینارکا انعقاد، دیہی علاقوں،قصبوں اور شہر سے منسلک گاﺅں میں لوگوں سے گفتگو ،ناخواندہ افراد کو نفسیاتی مسائل بارے بتانا ، تحصیل اور ضلع کی سطح پر بنیادی میڈیکل یونٹس کے ڈاکٹرز کے ساتھ معلوماتی سیشنز اور کیمپ لگانا، مساجد میں جمعہ نماز سے قبل لوگوں کو نفسیاتی امراض بارے آگہی دینا، نفسیات اور دماغی امراض پر اخبارات میں معلوماتی اور مفید آرٹیکلز لکھنا وغیرہ شامل تھے۔ ان تمام سرگرمیوں کا مقصد مقامی سطح پر ذہنی صحت کی اہمیت کا شعور اجاگر کرنا اور ذہنی امراض سے بچا ﺅکے لیے رہنمائی فراہم کرنا تھا۔ پھر وقت نے کروٹ بدلی اور جدید دور میں یہ کام صرف کارروائی
کی حد رہ گیا۔ عملی کام نہ ہونے کے برابر ہے۔
مجھے یاد ہے یہ غالباً1990 ء کی بات ہے لاہور میں پنجاب سیکرٹری ہیلتھ کی زیر صدارت اجلاس ہواتھا ۔ بڑے بڑے میڈیکل کالجز کے پروفیسرز اور ڈاکٹرز کو مدعو کیا گیا تھا۔ اجلاس میں ،میں نے بہاولپور کی نمائندگی کی تھی ۔اجلا س میں شریک پاکستان سائیکاٹرسٹ سوسائٹی کے صدر نے مجھے بتایا کہ ہم نے حکومت پنجاب کو ڈیمانڈ دی ہے کہ ہمیں ہر ضلعی سطح پر ایک سائیکاٹرسٹ کی ضرورت ہے اوروہاں سائیکاٹری کا ایک یونٹ بنایا جائے۔ میرے لیے یہ خوشی کا لمحہ تھا۔اجلاس سے فارغ ہو کر میں سیدھا سیکریٹریٹ چلا گیا اور شعبہ ہیلتھ جا کر ایڈیشنل سیکرٹری سے ملا اور ان سے مذکورہ ڈیمانڈ بارے استفسار کیا تو انہوں نے بتایا کہ میرے علم میں نہیں تاہم انہوں نے اپنے اسسٹنٹ کو بلایا اور ڈیمانڈ کی فائل منگوائی مگر فائل میں کوئی ڈیمانڈ تو موجود نہ تھی صرف ایک اخباری تراشہ منہ چڑا رہا تھا۔
میں اس واقعہ سے خاصا دل برداشتہ ہوا۔ اس واقعے کو تقریباً پچیس سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے ۔اب بھی پنجاب میں خصوصاً اور پاکستان کے دیگر صوبوں میں بالعموم یہی صورت حال ہے۔ پنجاب بھرنفسیات و دماغی امراض سے وابستہ پروفیسر اور تدریسی اسٹاف اپنے مفاد پر مکمل فعال دکھائی دیتے ہیں اور اپنے اثر و رسوخ کی بنیاد پر اسسٹنٹ پروفیسراپنی سیٹ کو اپ گریڈ کروا کر ایسوسی ایٹ پروفیسر بن جاتا ہے یوں اسسٹنٹ پروفیسر کی سیٹ ختم ہو جاتی ہے ۔ اسی طرح اسسٹنٹ پروفیسر اپ گریڈ ہوکرپروفیسرہو جاتا ہے مگر نئی سیٹ پیدا ہی نہیں ہونے دیتا جس پر کوئی اور ڈاکٹر خدمات انجام دے سکے۔پچیس سال پہلے سیالکوٹ ، ڈسٹرکٹ رحیم یار خان میں ماہر نفسیات و دماغی امراض کی صرف ایک ایک سیٹ تھی۔ ایک سیٹ بہاولپور میں میری بھرپور کوشش کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔ گذشتہ تین دہائیوں میں ان تین سیٹوں کے علاوہ میرے علم میں نہیں کہ نفسیات و دماغی امراض کے ڈاکٹر کی سیٹیں نکالی گئی ہوں۔اس کا سب سے بڑا فائدہ وہی ڈاکٹر اٹھا رہے ہیں جو نئے ڈاکٹرز کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں ۔انہیں شام میں اپنا کاروبار چمکانا ہوتا ہے اور وہ شام کو ڈیڑھ سو سے دو سو ،مریض دیکھتے ہیں۔ہر مریض کو دو سے تین منٹ ملتے ہیں جس سے نہ مرض کی تشخیص ہوتی ہے علاج تو بہت دور کی بات ہے اور سونے پر سہاگہ یہ کہ دوائیاں لکھنے کے لیے ایک اسسٹنٹ موجود ہوتا ہے۔
بہاول وکٹوریہ ہسپتال،بہاولپور میں پچیس سال قبل نفسیاتی اور دماغی امراض کا بہترین آﺅٹ ڈور ہوا کرتا تھا آج اسے ایک تہہ خانے میں ایک کمرے تک محدود کر دیا گیا ہے۔ ملتان کا شعبہ نفسیات و دماغی امراض دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے
جسے سیڑھیوں کے نیچے بانس لگا کر بنایا گیا ہے اور مریض ان بانسوں میں پرندوں اور جانوروں کی طرح مقید دکھائی دیتے ہیں ۔ رحیم یار خان کی صورت حال بھی مختلف نہیں ہے ۔یہاں شیخ زید ہسپتال کا قیام عمل میں آیا ہے۔ تاہم رحیم یار خان نے شعبہ نفسیات اور دماغی امراض کی کوئی نئی سیٹ پید ا نہیں کی۔
پاکستان میں آج بھی مریض نفسیات کے ڈاکٹر کے پاس جانا معیوب سمجھتا ہے ۔ حکومت کی سب سے بڑی ناکامی ہے کہ وہ اس انتہائی اہم شعبے کو مسلسل نظر انداز کرتی رہی ہے۔حکومت کی ذمہ داری ہے کہ میڈیکل سے وابستہ تمام شعبوں کے ڈاکٹرز کو تین سال سے زیادہ کا عرصہ ایک شہر میں ملازمت نہ کر دیں۔ حکومت تین سال بعد ہر ڈاکٹر کے تبادلے کو لازمی قراد دے۔ یہاں تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے ۔ جو ڈاکٹر جس شہر میں تعینات ہوتا ہے وہ سبکدوش ہونے تک اس شہر سے ہلنے کا نام نہیں لیتا۔ اس کی بڑی وجہ اثر و رسوخ کے علاوہ حکومتی ناکام پالیسیاں ہیں۔ارباب اختیار کو چاہئے کہ اس شعبے پر خصوصی توجہ دیں اور اس شعبے کی ترویج اور فروغ میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ شعبہ نفسیات و دماغی امراض کے حوالے سے علیحدہ تجرباتی و تحقیقی مراکز قائم کیے جائیں جن کے لیے بلڈنگز مستقل بنیادوں پر مختص کی جائیں۔پیرامیڈیکل اسٹاف کی طرزپر شعبہ نفسیات و دماغی امراض کے لیے بھی کمیونٹی ہیلتھ ورکرز اور کونسلر کی باقاعدہ آسامیاں نکالی جائیں ۔حکومت کسی ڈاکٹر کو ترقی دیتے وقت اس کے تحقیقی کام کو بھی مد نظر رکھے بلکہ اسے ،اے،سی۔آر کا لازمی حصہ بنائے تاکہ اس شعبے سے وابستہ ہر ڈاکٹر محنت،دیانت داری اور تحقیق کے بغیر ناجائز ترقی نہ لے سکے۔ کالم کا اختتام اختر ہوشیار پوری کے اس شعر پر
یہ مانا آندھیوں کا حق ہے سب پر یورشیں کرنا
مگر یہ میں کہ میری آنکھ ہے خستہ مکانوں پر