سانحہ لورالائی کے 7 شہدا کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی

سانحہ لورالائی کے 7 شہدا کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی

لورالائی(نیوزلیب) نماز جنازہ میں صوبائی وزیر داخلہ، آئی جی پولیس، دیگر سول اور عسکری حکام نے شرکت کی۔ دوسری طرف شہر میں گزشتہ روز ہونے والے دہشتگردوں کے حملے کے خلاف شہر میں ہڑتال ہے۔ تمام چھوٹے، بڑے تجارتی مراکز بند اور سڑکوں پ ٹریفک معمول سے کم ہے۔

قومی پرچموں میں لپٹے تابوت، سانحہ لوارلائی کے 7 شہدا کی نماز جنازہ لورالائی کینٹ میں ادا کر دی گئی۔ نماز جنازہ میں صوبائی وزیر داخلہ، آئی جی پولیس اور دیگر سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔

نماز جنازہ کے بعد شہدا کی میتیں تدفین کے لئے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئیں۔ شہید ہونے والےایک شہید کی تدفین قلعہ سیف اللہ اور ایک کی جعفر آباد میں ہوگی۔

اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ ضیا لانگو نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے ملک کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔ آئی جی پولیس بلوچستان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، سی ٹی ڈی حکام ہمارے ساتھ ہیں۔

دوسری طرف دہشت گرووں کے بزدلانہ حملے کے خلاف لورالائی میں تمام چھوٹے بڑے تجارتی مراکز بند ہیں، سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم ہے۔

گزشتہ

سانحہ ماڈل ٹاؤن جے آئی ٹی سست روی کا شکار ہے، 27 دن گزرنے کے باوجود ابتدائی کارروائی ہی شروع نہ ہوسکی، شہباز شریف کو اب تک طلب کرنے کا فیصلہ نہ ہوسکا۔

حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات پر سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دی تھی۔ ذرائع کے مطابق سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو طلب کرنے کا فیصلہ تاحال نہ ہوسکا جبکہ سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثنااللہ کو 19 جنوری کو طلبی نوٹس بھیجا گیا تھا لیکن وہ بھی طلبی کے باجود پیش نہ ہوئے۔

واقعے میں ملوث پولیس افسران و اہلکاروں کو بھی جے آئی ٹی نے ابھی تک سمن جاری نہیں کیے جبکہ ابھی تک صرف عوامی تحریک کے رہنما ہی جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہوئے۔