انٹر نیٹ پر پیسے کمانے کا قابل عمل طریقہ

انٹر نیٹ پر پیسے کمانے کا قابل عمل طریقہ

لاہور(نیوزلیب ویب ڈیسک) انٹرنیٹ پر پیسے کمانے کیلئے دو طریقے ہیں، کونٹینٹ کے ذریعے اور دوسرا ای کامرس یا انٹرنیٹ کے ذریعے اشیا کی خریدوفروخت کرنا ہے۔ اس مضمون میں ہم کونٹینٹ کے ذریعے پیسے کمانے پر توجہ مرکوز رکھیں گے۔

کونٹینٹ سے مراد ایسا مواد ہے جسے دیکھنے، پڑھنے یا سننے کے لیے لوگ کسی پلیٹ فارم پر آئیں اور اس کے بدلے کونٹینٹ بنانے والے کو پیسے ملیں۔ یہ کونٹینٹ ویڈیو، تصاویر، آڈیو، بلاگنگ یا وی لاگنگ جیسا کوئی بھی کام ہوسکتا ہے جسے لوگ پسند کرتے ہوں اور مزید دیکھنا چاہیں۔

میڈیا رپورٹ میں ماہرین کے توسط سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں اس وقت تقریبا 6 کروڑ انٹرنیٹ صارفین ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صرف پاکستان کے اندر ہمیں کافی بڑی مارکیٹ دستیاب ہے۔ اگر اس میں دیگر ممالک میں موجود اردو زبان سمجھنے والوں کو شامل کیا جائے تو یہ تعداد بہت زیادہ ہو جائے گی۔

اب سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں انٹرنیٹ صارفین کی ضرورت اور دلچسپی جاننے کی ضرورت ہے کہ وہ کس قسم کا مواد پڑھنا، سننا یا دیکھنا چاہتے ہیں۔ ویڈیو ویب سائٹ یو ٹیوب پر لوگوں کی بڑی تعداد آتی ہے اور یہاں پر درمیانے سے طویل دورانیے کی ویڈیوز بہتر کام کرتی ہیں، خیال یہ رکھنا چاہئے کہ وہ صارفین کی پسند کے مطابق ہوں۔

اگر فیس بک کی بات کی جائے تو وہاں مختصر دورانیے کی ویڈیوز زیادہ بہتر کارکردگی دکھاتی ہیں۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ فیس بک پر مالی فائدہ حاصل کرنے کے لیے آپ کو دو مہینے کے اندر کم از کم تین منٹ کی ویڈیوز پر 30ہزار ویوز حاصل کرنا ہوں گے اور آپ کے پیج کے کم از کم 10 ہزار فالورز ہوں۔

انٹر نیٹ پر آن لائن کونٹینٹ کے ذریعے پیسے کمانے کے لیے یوٹیوب، فیس بک، ورڈ پریس یا بلاگنگ تین بڑے ذرائع ہیں تاہم گوگل اس لحاظ سے سب سے نمایاں ہیں کیونکہ اس کے دو بڑے پلیٹ فارمز ایک یوٹیوب جو دنیا کا سب سے بڑا ویڈیو سرچ انجن ہے اور دوسرا گوگل ایڈز جنھیں مختلف بلاگز پر اشتہارات لگا کر پیسے کمائے جا سکتے ہیں۔

یوٹیوب پر مختلف ویڈیوز اپ لوڈ کی جاتی ہیں جنھیں دیکھنے کے لیے صارفین کی بہت بڑی تعداد یوٹیوب پر موجود ہیں۔ تحریر یا تصویر کی شکل میں مختلف معلومات شائع کی جاتی ہیں جن کے ساتھ جب گوگل یا دوسرے اشتہارات لگتے ہیں تو ان کے ذریعے پیسے کمائے جاتے ہیں۔

اگر آپ پریکٹس کے بعد ایسا مواد بنانا شروع کریں جو لوگوں کی پسند پر پورا اترتا ہو تو اشتہارات دینے والا خود آپ کے پاس آئے گا۔ ماہرین کے مطابق اس طرح ایک پورا نظام بن جاتا ہے کیونکہ ایڈورٹائزر کو قارئین چاہئیں اور قارئین کو اچھا مواد چاہیے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ آپ کو اپنے مواد کے لیے ایک ذریعہ چاہیے۔ وہ یوٹیوب چینل ہو سکتا ہے، فیس بک پیج ہو سکتا ہے۔ ویڈیو، آڈیو یا تصویری بلاگ ہو سکتا ہے یا سادہ تحریروں پر مشتمل بلاگ ہوسکتا ہے تو سب سے پہلے آپ کو اپنے مواد کی اشاعت کے لیے ایک ڈیجیٹل اثاثہ بنانا پڑے گا۔ اگر یہ ویب سائٹ ہے تو اس کے لیے ڈومین کے ساتھ آپ کو ہوسٹنگ بھی خریدنی پڑے گی جس کے ذریعے آپ کی ویب سائٹ انٹر نیٹ پر دستیاب ہو جائے گی۔

ویب سائٹ کی صورت میں ایک پروگرام اپلائی کرنا ہو گا جو گوگل کا ایک پروگرام ہے، گوگل ایڈ سینس۔ اس کے بعد جب آپ اپنے پلیٹ فارم پر مواد ڈالنا شروع کریں گے تو ایک خاص وقت کے بعد آپ کی ویب سائٹ پر ایک خاص حد تک جب کچھ سو یا کچھ ہزار لوگ آنا شروع ہو جائیں گے۔ تو آپ گوگل ڈاٹ کام کے ایڈسینس پر جا کر اپلائی کر سکتے ہیں اور یوں آپ کو اپنی ٹریفک کے مطابق آپ کو معاوضہ ملنا شروع ہو جائے گا۔

یوٹیوب پر ایڈورٹائزر پیسے دیتے ہیں، جن میں وہ ویڈیوز پر اشتہارات دیتے ہیں اور 45 فیصد یوٹیوب والے رکھتے ہیں اور 55 فیصد ویڈیو بنانے والے کو دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق لوگوں کی پسند معلوم کرنے کیلئے کہ وہ عموما کیا دیکھنا چاہتے ہیں، سب سے آسان اور سائنٹیفک طریقہ یہ ہے کہ گوگل کے کچھ مفت اور تھرڈ پارٹی ٹولز ہیں جو آپ استعمال کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر گوگل ٹرینڈز ایک ٹول ہے۔ وہاں جا کر آپ دیکھ سکتے ہیں کہ لوگ دنیا میں کیا چیز مانگ رہے ہیں، کیا چیز ڈھونڈ رہے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ یہ سب تحقیق چھ مہینے پہلے کرنی ہو گی اور اس کے مطابق مواد ابھی سے بنانا ہے تا کہ آپ سرچ انجنز کی درجہ بندی میں آ جائیں۔ جب رزلٹ پیجز میں آئیں گے تو آپ کے پاس خود بخود ٹریفک آئے گی۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ مواد کیا بنانا ہے یا کیا نہیں یہ سب سائنٹیفک بنیاد پر ہونا چاہیے نہ کہ مفروضوں یا ذاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر۔ سائنٹیفک ڈیٹا آپ کو بتائے گا کہ لوگ کیا پڑھ رہے ہیں اور سرچ کر رہے ہیں۔

قارئین کیلئے سب سے دلچسپی کا سوال کہ پیسے کتنے ملتے ہیں تو اس کا اندازہ پیش کرتے ہوئے ماہرین کہتے ہیں کہ دس لاکھ ویوز سو ڈالرز سے لے کر ہزار ڈالرز تک کمائے جا سکتے ہیں اور یہ کمائی ایک بار نہیں ہوتی کیونکہ لوگ سالوں تک ان ویڈیوز کو دیکھتے رہتے ہیں۔