مقررہ اوقات پر کھانا کھانے سے ذیابیطس پر قابو پانا ممکن

مقررہ اوقات پر کھانا کھانے سے ذیابیطس پر قابو پانا ممکن

لندن(نیوزلیب) نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ کھانے کے اوقات پر سختی سے عمل کرنے کا بہترین فائدہ خون میں شکر کی مقدار قابو کرنے کی صورت میں ظاہرہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر ذیابیطس کے مریض اپنا کھانا 9 گھنٹے کے اندر ختم کریں تو اس سے خون میں شکر کی مقدار کو قابو کرنے میں بہت مدد مل سکتی ہے۔ ذیابیطس کی کیفیت میں بہت سے عوامل اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں جن میں کھانے کے اوقات اور طرزِ زندگی بھی شامل ہے۔ ریسرچ کے مطابق غذا سے ذیابیطس پر اثر ہوتا ہے لیکن اپنے وقت پر کھانے سے بھی اس پر فرق پڑتا ہے۔

تحقیقی عمل کے دوران ماہرین نے پہلے چوہوں کو ذیابیطس میں مبتلا کیا اور اس کے بعد انہیں صبح 9 سے شام 6 بجے تک تمام کھانے کھلا کر اس پر سختی سے عمل کرایا۔ اس کے بعد انسانوں پر اس کی آزمائش کی گئی جس کیلئے 15 ایسے مردوں کو بھرتی کیا گیا جو ٹائپ ٹو ذیابیطس مرض کے قریب پہنچ چکے تھے۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ وہ ایک ہفتے تک صبح 9 بجے سے شام 6 بجے کے درمیان اپنے تمام کھانے کھاکر مکمل کرلیں۔

اس تجربے میں شرکا کے ایک اور گروہ کو دن کے وسط سے رات 9 بجے تک کھانا کھانے کی اجازت دی گئی۔ لیکن اس دوران وہی عام غذا کھلائی گئی جسے وہ پسند کرتے تھےاور ان کے خون میں گلوکوز کی مقدار کو روزانہ کی بنیادوں پر نوٹ کیا گیا۔

اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ اگر دن میں 9 گھنٹے کے دوران کھانے پینے کے سارے ادوار مکمل کرلیے جائیں تو اسطرح خون میں شکر کی مقدار برقرار رہتی ہے۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے اس طرح وزن میں معمولی کمی بھی نوٹ کی گئی جس کے دور رس اثرات رونما ہوسکتے ہیں اور انسان شوگر پر قابو پا سکتے ہیں۔