برائے توجہ،چیف جسٹس آف پاکستان:ڈاکٹر صلاح الدین بابر کا تجزیاتی کالم

برائے توجہ،چیف جسٹس آف پاکستان:ڈاکٹر صلاح الدین بابر کا تجزیاتی کالم

برائے توجہ قابل احترم ،چیف جسٹس آف پاکستان
تحریر:پروفیسر ڈاکٹر سید صلاح الدین بابر

ایئر کنڈیشنڈ،کمرے کا درجہ حرارت کنٹرول کرنے میں ناکام ہو چکا تھا۔ایس پی صاحب بار بار پسینہ پونچھ رہے تھے اور میڈیا ٹیم کے سوالات کے جوابات دینے میں بری طرح قاصر تھے۔ان کی زبان کی لکنت اور الفاظ کا بے ترتیب چناﺅ اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ پولیس کے مرکزی عہدے پر فائز ،وہ قانون کا رکھوالا کسی بڑے جرم کی چشم پوشی کر رہا تھا۔دراصل آٹھ سال قبل موصوف کے بیٹے عبدالرحمن نے چند آوارہ اور لفنگے لڑکوں کے ساتھ مل او۔لیول کے طالب علم قاسم انجم انصاری کو سر پر ہاکیوں کے پے درپے وار کرکے شدید زخمی کر دیا تھا ۔سر کی چوٹ نے ہنستے کھیلتے قاسم انجم انصاری کو ذہنی اور جسمانی طور پر اپاہج کر دیا۔وہ ”کاما“ کی حالت میں چلا گیا۔وقت گزرنے کے ساتھ قاسم انجم انصاری کی طبیعت میں بس اتنی ہی بہتری آئی کہ وہ وینٹیلیٹرسے قدرتی طور سانس لینے کے قابل ہو گیا ہے تاہم اس کی زندگی بے رنگ اور ذائقے سے خالی ہے ۔ اس پر تشدد واقعے نے اسے زندہ لاش بنا کر رکھ دیا ہے۔وہ جسمانی اور ذہنی کام انجام نہیں دے سکتا۔
دوسری جانب قاسم انجم انصاری کے والدین اپنے بیٹے کی صحت یابی کے ساتھ انصاف کے منظر ہیں کہ ان کے لخت جگر کو دانستہ طور اس حال تک پہنچانے والا مرکزی ملزم عبدالرحمن کب قانون کی گرفت میں آئے گا وقت گزرنے کے ساتھ اس بات کے امکان معدوم ہوتے چلے
جا رہے ہیں کیونکہ اس کیس کے مرکزی ملزم عبدالرحمن کے والد راﺅ قاسم، پولیس ملازم اور اعلیٰ عہدے پر فائز ہونے کے علاوہ ایک انتہائی بے ضمیرانسان ہیں ۔قانون کے محافظ نما اس درندے نے اپنے بدکردار بیٹے کو قانون سے بچانے کے لیے نہ صرف ایف آئی آر میں تحریف کروائی بلکہ اسے عدالت حاضر نہیں کیا جس کی بنا پرعبدالرحمن کو دو مرتبہ اشتہاری قرار دیا گیا۔حال ہی میں موصوف راﺅ قاسم ا یس پی کے عہدے سے سبکدوش ہو گئے ہیں اور یقینا باقی زندگی بھی چٹی دلالی میں گزاریں گے کیونکہ جب انسان کا ضمیر ہی مر جائے تو پھر وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں قانون پر عمل پیرا ہو کر شرافت کی زندگی گزارنے والے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کیوں کرنا پڑتا ہے؟بقول محسن شاداب
عشق کرتے ہو لہو لاﺅ،لہو جلتا ہے
ان چراغوں میں فقط تیل نہیں جلتا ہے
تم شرافت کو کہاں بازار میں لے آئے ہو
یہ وہ سکہ ہے جو برسوں سے نہیں چلتا ہے
معصوم قاسم انجم انصاری کا آخر کیا قصور تھا؟ ڈاکٹری کے مقدس پیشے سے وابستہ قاسم انجم انصاری کے والدین انتہائی شفیق اور رحم دل انسان ہیں ان کی زندگی میں اتنا بڑا طوفان پرپا ہوا اور مرکزی ملزم اپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے جیل کی ہوا کھانے کی بجائے آزاد گھوم رہا ہے۔یہ امر یقینی طور پر ہمارے ملک کے عدالتی نظام پر طمانچے سے کم نہیں۔
یہ مارچ 2010 کا واقعہ ہے ۔ان دنوں قاسم انجم انصاری صادق پبلک اسکول بہاولپور میں
زیر تعلیم تھا اور اولیول کا ہونہار طالب علم تھا۔وہ صبح اسکول اور شام کو اکیڈمی جایا کرتا تھا۔ایک شام وہ ماڈل ٹاﺅن اے میں واقع لیڈزاکیڈمی ٹیوشن پڑھنے گیاتو واپسی پر چند آوارہ لڑکوں نے قاسم انجم انصاری پر اچانک ہاکیوں اور ڈنڈوں سے حملہ کر دیا ۔اس حملے میں ولید ولد اشرف جمال،شہروز ولد راﺅ انعام،شہروز ولد سید شاہد حسین بخاری اور عبدالرحمن ولد راﺅ قاسم شامل تھے اوراس پرتشدد واقعے کا مرکزی مجرم عبدالرحمن تھا جس کا باپ اس وقت ڈی اسی پی کے عہدے پر تعینات تھا۔قاسم انجم انصاری ہاکیوں اور ڈنڈوں کی شدیدضربوں کو برداشت نہ کر سکے اور موقع پر ہی بے ہوش گئے انہیں بے ہوشی کی حالت میں بہاول وکٹوریہ ہسپتال لایا گیا۔قاسم انجم انصاری کو سر اور سینے پر لگنے والی شدید ضربوں نے کاما کی حالت میں پہنچا دیااور وہ مہینوں تک دنیا سے بے نیاز زندگی اور موت کے درمیان کشمکش کی حالت میں رہا۔
اس دوران اس پرمذمت واقعے کے ذمہ داران کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی گئی ۔معاملہ تھانے سے عدالت پہنچا اور عدالت نے واقعے کے مرکزی ملزم عبدالرحمن اور ڈی ایس پی راﺅ قاسم کے بیٹے کو عدالت نے بار بار طلب کیا مگر وہ عدالت پیش نہ ہوا جس پر عدالت نے اسے دو دفعہ اشتہاری قرار دیا۔اس تمام واقعے میں عبدا رحمن کے والد راﺅ قاسم نے اپنا ذاتی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے ایف آئی آر اور دیگر دستاویزات میں ردو بدل کروایا اور اپنے اشتہاری بیٹے کوسزا سے بچانے کے لیے ہر منفی حربہ اختیار کیا۔چاہئے تو یہ تھا کہ راﺅ قاسم اپنے قانون شکن اور درندہ صفت بیٹے کو چور راستوں سے بچانے کی بجائے زندگی اور موت کی کشمش میں مبتلا قاسم انجم انصاری کی خیریت دریافت کرتے ، اس کے والدین کو تسلی دیتے
اور اپنے بیٹے کے کردہ سنگین جرم کی معافی مانگتے مگر ایسا کچھ نہیں ہوا کیونکہ بے ضمیر اور غیرت سے عاری لوگوں کی دنیا میں کوئی کمی نہیں۔
موجودہ ملکی حالات کے تناظر میںپاکستان کے سدھار ،وطن عزیز کی لیے مثبت سمت متعین کرنے اور قانون پر عمل درآمد کروانے میں چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے جو کردار ادا کیا ہے اس سے انکار ممکن نہیں ۔وہ اداروں اور بالخصوص عدالتی نظام کی بہتری کے لیے کوشاں دکھائی دیتے ہیں اور ان کے سینے میں ایک انسان دوست دل دھڑکتا ہے ۔میری عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار سے گزارش ہے کہ اس معاملے ہونے والی ناانصافی کا خود جائزہ لیں اور معصوم قاسم انجم انصاری کو انصاف فراہم کریں تاکہ آئندہ کوئی پاکستانی قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے سے اجتناب کرے اور شر پسند اور درندہ صفت لوگ قرار واقعی اپنے انجام کو پہنچیں۔کالم کا اختتام ہمیشہ کی طرح ایک شعر پر
ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے
کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے