ابو ظہبی: باز کے علاج کا سب سے بڑا اسپتال قائم

ابو ظہبی: باز کے علاج کا سب سے بڑا اسپتال قائم

ابو ظہبی(نیوزلیب)عرب شیوخ کے محبوب اور مہنگے ترین شکاری پرندوں (باز) کے علاج کے لیے ابو ظبی  میں دنیا کا سب سے بڑا ہسپتال قائم کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات دنیا کا ایسا ملک ہے جہاں جانوروں کے لیے بھی خصوصی اسپتال قائم کیے گئے ہیں، دارالحکومت ابوظبی میں عرب شیوخ نے اپنے محبوب ترین پرندے باز کی دیکھ بھال و بہتر نگداشت کےلیے دنیا کا سب سے بڑا اسپتال قائم کیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ گذشتہ 25 سال سے ان شکاری پرندوں بازوں کا علاج کرنے والے جرمن معالج اور ہسپتال کے ڈائریکٹر مارگیٹ ملر نے بتایا کہ شکاری پرندے (باز) ان کے بچے ہیں اور وہ ان کے لیے کچھ بہترین چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض اوقات ان شکاری پرندوں کو رات میں حادثہ پیش آجاتا ہے تو ان کے عرب مالکان کئی گھنٹوں تک ان کے پاس بیٹھ کر گزار دیتے ہیں یہاں تک کہ صبح ہوجاتی ہے۔

خیال رہے کہ یہ شکاری پرندے عربوں کے لیے پالتوں جانوروں سے زیادہ اور انہیں پالنے کا مشغلہ ایک کھیل سے بھی زیادہ ہے۔

واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک، جن میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب قابل ذکر ہیں، میں بازوں کا پالنا ان کے صحرائی ورثے کا حصہ ہے، جس پر کئی ہزار سالوں سے عمل ہورہا ہے۔

اسپتال کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ بدّو (صحرا میں رہنے والے عربوں کو اس نام سے پکارا جاتا ہے) ان شکاری پرندوں سے گوشت کے حصول کے لیے شکار کرواتے ہیں اور یہ ان بدّووں کے خاندانوں کی بقا کے لیے انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یہ پرندے خاندان کے بچوں کی طرح تصور کیے جاتے ہیں اور ایسا آج بھی ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ پرندے، اپنی تیز ترین پرواز 300 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد کی وجہ سے اکثر کسی مقام سے ٹکرانے یا زمین پر اترنے کے باعث حادثات کا شکار ہوکر زخمی ہوجاتے ہیں جبکہ ان کی بیماری کی ایک اور وجہ متاثرہ گوشت کا استعمال بھی ہے۔