خوشامد کی عکاسی کرتا مضمون بعنوان خوشامد:تحریر:محمد سلیم الرشید

خوشامد کی عکاسی کرتا مضمون بعنوان خوشامد:تحریر:محمد سلیم الرشید

خوشامد

بلا وجہ کی خوش آمدید خوشامدی کی طرف پہلا قدم  ہے، چاہیں تو اسے چاپلوسی کہہ لیں یا عجزِ بے بنیاد۔چلتے پھرتے آتے جاتے اپنے قُرب و جوار  پہ نگاہ ڈالیں جو شخص آپ کو محسوس ہو کہ  کچھ اختیار رکھتا ہے، افسر محسوس ہوتا ہے،ٹھاٹھ باٹھ سے رہتا ہے، بس اسی کے قریبی صاحبان پہ نظر رکھیے، جو  جو بلا وجہ کی  ‘جی ہاں ، جی ہاں’ کرتے نظر آئیں سمجھ لیں کہ یہ وہی ہیں جن کی آپ کو تلاش  ہے اور یہ وہی عظیم ہستیاں ہیں جن سےآپ نےخود  کو بچا کے رکھنا ہے۔ خوشامدی کی ایک نشانی اور بھی ہے، محفل میں خاموش رہے گا اور تنہائی میں جو بھی میسر آئے گا اس کے کان بھر کے اپنی پیاس بجھائے گا،  بیک وقت ہر کسی کے ہاں مقبول ہونے کی کوشش میں لگا رہے گا۔

جس طرح جھوٹ کی سزا اب فقط کتابی بات بن کے رہ گئی ہے اسی طرح خوشامد کی نا پسندیدگی بھی بس کتابی یا مروتی بات بن کے رہ گئی ہے۔ دورِ حاضر میں تو ایسی کہانیاں بھی نہیں بن پا  رہیں یا پھر بنائی نہیں جا رہیں۔

محبوب کی خوشامد فطری ہے، جبکہ فطرتی خوشامد غیر فطری ہے، خالِق کی خوشامد حمد ہے اور حمد گوئی عبادت ہے۔ مخلوق کی خوشامد بالآخر رُسوائی پہ ختم ہو گی۔ خوشامد  اس بے چارگی کو کہتے ہیں جب آپ یہ بھول جائیں کہ آپ اشرف المخلوقات ہیں ۔انسانی زندگی میں وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان کا خود  ذلیل ہونے کا ارادہ ہو، اور ایسا ارادہ تب تک نہیں بن سکتا جب تک کہ آپ بد بخت نہ ہوں۔ اپنے آپ کو تسخیر کیجئیے آپ کے اندر ایسا بہت کچھ ہے جو اوروں میں بہت کم ہے۔ اپنی خدا داد صلاحیتوں کو خوشامدی کے مذبح خانے میں قربان مت کیجیئے،کیا آپ فطرت سے تصادم چاہتے ہیں؟ آپ خود کُشی کے طریقے کیسے کیسے ایجاد کر رہے ہیں!!
خوشامد کے خلاف بہت کچھ لکھا جا چکا ہےاور خوشامد کی خوشامد میں بھی بہت خوشامد ہو چکی ہے۔ یہ ایک نظر نہ آنے والی دیمک ہے جو صرف محسوس کی جا سکتی ہے۔

خوشامد کسی کی ضرورت ہے تو کسی کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ اگر خوشامدانہ طبیعت آپ میں سرائیت کر چکی ہےاور آپ اس عادتِ غیر فطری سے مجبور ہیں تو کسی اچھے مقصد کے پیشِ نظر کیجئے۔ ملکی مفاد کی خاطر  خوشامد کرنا  کارِخیر ہےتاہم ذاتی مفاد کی خاطر خوشامد کرنا ایسے ہے جیسے کسی مردے کے کان میں اذان دینا اور یہ بھی معلوم نہ ہو کہ مردود مسلمان بھی ہے یا نہیں۔

شاعر  پہ آمد اور افسر کی خوشامد بِن مانگے کی عنایات ہیں۔
آپس کی بات ہے خوشامد ہر انسان کرتا ہے بالکل ایسے جیسے محبت ہر انسان کرتا ہے بس انداز مختلف ہیں۔آپ یاد کریں آپ نے پہلی بار خوشامد کب کی تھی؟ کس قدر ہچکچائے ہوں گے؟ کتنی ہی بار سوچا ہو گا؟ ہر بار نگاہیں جھُک گئی ہوں گی!!یہ سب دلیلیں خوشامد کے غیر فطری ہونے  کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں ۔

ایک خوشامدی انسان ایک خوشامدی ٹولے سے کئی گنا بہتر ہے، ایک ظالم کتنا ظلم کر لے گا؟جب گروہ ظلم  پہ اُتر آئیں پھر افراد و ملت سب کے لیے اضطراب ہی اضطراب ہے۔

اس خوشامد کی ضرب بھلی جو عین  موقعہ  پہ کی جائے ورنہ بلا وجہ کی خوشامد انسان کو ذلیل و رسوا کر کے چھوڑتی ہے۔
خوشامد الفاط کی محتاج نہیں۔
خوشامد محتاج کے الفاظ ہیں۔
محتاج محتاط الفاظ سے خوشامد کر لے۔خوشامد اسکی محتاجی شاید ختم کر لے!

تحریر:محمد سلیم الرشید