سائنسدانوں نے دبلا پتلا ہونے کا نیا اور جدید طریقہ دریافت کر لیا

سائنسدانوں نے دبلا پتلا ہونے کا نیا اور جدید طریقہ دریافت کر لیا

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کا پتہ لگانے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ کیوں کچھ لوگ دبلے پتلے ہوتے ہیں اور کچھ لوگوں میں وزن آسانی سے بڑھ جانے کا رجحان ہوتا ہے۔

نئئ تحقیق ان نئے ان جینیاتی حصوں ظاہر کرتی ہے جن کا تعلق بہت دبلا پتلا ہونے سے ہے۔

ماہرین کی اس بین الاقوامی ٹیم کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق اس خیال کی تائید کرتی ہے کہ کچھ لوگوں کے پتلے ہونے کا زیادہ تعلق وراثتی طور پر ایسے ‘خوش قسمت’ جینز کو پانے سے ہے بجائے درست خوارک یا طرزِ زندگی سے۔

یہ تحقیق ‘پی ایل او ایس جینیٹکس’ جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

گزشتہ کچھ عشروں میں محققین نے ان سینکڑوں جینیاتی تبدیلیوں کو دریافت کیا ہے جو کسی انسان کے موٹاپے کا شکار ہونے کے امکانات کو بڑھا دیتی ہیں لیکن دبلے پتلے افراد کے جینیات پر کم توجہ مرکوز کی گئی ہے۔.

اس تحقیق میں سائنسدانوں نے 1600 صحت مند مگر دبلے پتلے افراد کے ڈی این اے نمونوں کا موازنہ 2000 انتہائی غیر معمولی موٹے افراد اور 10400 عام وزن کے افراد سے کیا ہے۔

انھوں نے ان افراد کے طرزِ زندگی سے متعلق سوالنامے کا بغور جائزہ لیا ہے تاکہ کھانے پینے میں بےقاعدگیوں کو خارج از امکان کیا جا سکے۔

محققین کو پتا چلا کہ فربہ افراد میں مٹاپے سے تعلق رکھنے والے جینیات کے پائے جانے کا زیادہ امکان ہے۔

تاہم دبلے پتلے افراد میں نہ صرف مٹاپے سے تعلق رکھنے والے جینیات کم پائے گئے بلکہ ان کے جینیاتی حصوں میں،جو صحت مند دبلے پن سے تعلق رکھتے ہیں، بھی فرق ہے۔

‘رائے قائم کرنے میں جلدی’
محققین کی سربراہ اور کیمبرج یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی پروفیسر صدف فاروقی نے لوگوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ دوسروں کے وزن کے حوالے سے منفی اندازے لگانے میں احتیاط سے کام لیں۔

انھوں نے کہا ‘یہ نئی تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ صحت مند دبلے پتلے افراد ایسے اس لیے ہیں کیوں کہ اِن پر اُن جینیات کا وزن کم ہوتا ہے جو کسی انسان کے وزن میں اضافے کے امکان کو بڑھا دیتے ہیں نہ کہ اخلاقی برتری کی بنا پر جیسا کے کچھ لوگوں کا خیال ہے۔’

“لوگوں کے حوالے سے اندازہ قائم کرنا اور ان کے وزن کی بنا پر تنفید کا نشانہ بنانا بہت آسان ہے لیکن سائنس بتاتی ہے کہ اس حوالے سے معاملات کافی پیچیدہ ہیں‘۔

پروفیسر صدف فاروقی نے کہا: ’ہمارا اپنے وزن پر قابو رکھنے کا اختیار اس سے بہت کم ہے جتنا ہم گمان کرتے ہیں۔‘

سائنسدان کہتے ہیں کہ اگلے مرحلے میں وہ اس مطلوبہ جین کی نشاندہی کریں گے جس کا تعلق صحت مند دبلے پن سے ہے۔

ان کا طویل مدتی ہدف یہ ہے کہ اس دریافت کے ذریعے وہ وزن گھٹانے کی نئی حکمتِ عملی بنا سکیں۔

‘جینیاتی طور پر مختلف’
تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے کنگز کالج لندن میں غذائی امور کے سابق پروفیسر ٹام سینڈرز کہتے ہیں کہ یہ ایک اہم اور اچھی طرح سے کی گئی تحقیق ہے جو تصدیق کرتی ہے کہ قبل از وقت شدید موٹاپے کا عمومی تعلق جینیات سے ہے اور یہ کے وہ افراد جو بہت پتلے ہیں وہ جینیاتی طور پر عام لوگوں سے مختلف ہیں۔

ان کا مذید کہنا تھا زیادہ موٹاپہ بلوغت حاصل کرنے کے بعد کی زندگی میں ہوتا ہے اور اس کا تعلق موٹاپے کی بالیدگی کرنے والے ماحول سے ہے جس میں ہم رہتے ہیں۔ زیادہ بیٹھے رہنے کا متقاضی رہن سہن اور زیادہ کیلوری والی غذائیں۔

کنگز کالج لندن کے پروفیسر ٹم سپیکٹر کہتے ہیں کہ اس کے باوجود زیادہ تر ممالک میں ایک تہائی کے لگ بھگ لوگ دبلا پتلا رہنے میں کامیاب رہتے ہیں۔

’اس میں جین کا تعلق بھی ہے لیکن دوسرے عوامل جیسا کہ انفرادی طرزِ زندگی میں فرق یا آنتوں میں پائے جانے والے جراثیم بھی اس کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں۔‘

ماہرین کہتے ہیں کہ آپ کے جینز کی جو بھی شکل اور ترکیب ہو آزمودہ مشورہ یہ ہی ہے کہ بہتر ورزش اور اچھی خوراک بہت کام کی چیز ہے۔

بشکریہ: بی بی سی