فیض آباد، اسلام آباد کی شہ رگ

فیض آباد، اسلام آباد کی شہ رگ

دو دن سے اسلام آباد میں ہوں۔ پھیلتا اور بڑھتا ہوا خوبصورت شہر، جس کی خوبصورتی میں یہاں کے سبزہ اور مناظر اضافہ کر دیتے ہیں۔ جب کبھی اسلام آباد آنا ہوتا ہے، تبدیلی نظر آتی ہے۔

سڑکیں کھلی ملتی ہیں اور کئی راستے نئے ایجاد کر لئے جاتے ہیں مگر اس کے باوجود ٹریفک کا اژدھام ہر طرف نظر آتا ہے۔ ٹریفک جام اور لمبی لمبی قطاروں میں گھنٹہ آدھ گھنٹہ ضائع ہونا تو معمولی کی بات ہے ،تاہم اطمینان یہ ہوتا ہے کہ ٹریفک چل رہی ہے، مگر درمیان میں یہ فیض آباد چوک آ جاتا ہے۔ فیض آباد اب اندرون و بیرون ملک پاکستانیوں کے لئے کوئی اجنبی نام نہیں، یہاں کے دھرنے اور پھر کئی کئی روز تک زندگی کے رک جانے کی کہانیاں سب نے سن رکھی ہیں، اسلام آباد کے مکینوں کو اس فیض آباد چوک کے بند ہونے سے کن اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا، اس کا مجھے کل تجربہ ہوا۔

ہوا یہ کہ معروف دانشور، کالم نگار اور محقق جبار مرزا نے مجھے فون کیا اور بتایا کہ ان کی شادی کی آج سالگرہ ہے، آپ اس میں شامل ہوں، انہوں نے آئی ٹین سیکٹر میں اپنی رہائش گاہ کا پتہ مجھے میسج کیا تاکہ میں آسانی کے ساتھ وہاں پہنچ جاؤں، ساتھ ہی انہوں نے یہ حکم بھی صادر کیا کہ اسلام آباد میں انکار کی گنجائش نہیں ہوتی، جسے پیشی کا حکم صادر ہو جائے اسے آنا پڑتا ہے ۔ محبت میں انکار کی گنجائش نہیں ہوتی، اس لئے آنے کا کہا ہے۔ میں نے حامی بھر لی اور دو گھنٹے میں گھر پہنچنے کا وعدہ کر لیا۔

جس وقت میں تیار ہو کر نکلنے والا تھا مجھے میرے بھانجے شہباز رشید نے بتایا کہ فیض آباد پر کسی تنظیم نے دھرنا دیا ہوا ہے جس کی وجہ سے راستے بند ہو گئے ہیں، آپ آئی ٹین نہیں جا سکتے۔

میں نے کہا یار کوئی متبادل راستہ بتا دو، مجھے تو جبار مرزا نے بہت زور دے کر بلایا ہے، نہ گیا تو ناراض ہو جائیں گے۔ شہباز رشید کا کہنا تھا کہ فیض آباد اسلام آباد کی شہ رگ ہے۔

اسے بند کر دیا جائے تو پورے اسلام آباد کی رگیں بند ہو جاتی ہیں، اچانک دھرنے کی وجہ سے صورت حال زیادہ خراب ہو جاتی ہے، کیونکہ لوگ سڑکوں پر رواں دواں ہوتے ہیں کہ مین گزر گاہ بند کر دی جاتی ہے، گاڑیاں جہاں ہوں وہیں رک جاتی ہیں اور پھر یہ سلسلہ شہر کے چاروں کونوں میں پھیل جاتا ہے، اس لئے بہتر یہی ہے کہ آپ اپنا پروگرام کینسل کر دیں۔

میں نے جبار مرزا کو فون کیا اور کہا کہ فیض آباد بند ہو گیا ہے، یعنی سماج کی دیوار آڑے آ گئی ہے اس لئے اس تقریب میں شرکت ممکن نظر نہیں آتی، انہوں نے کہا متبادل راستے تو ہیں لیکن آپ شاید بھول بھلیوں میں گم ہو جائیں، اس لئے میں اپنا حکم واپس لیتا ہوں، ملاقات اب کل ہو گی

میں نے اس ’’رہائی‘‘ پر ان کا شکریہ ادا کیا، لیکن یہ سوچتا رہا کہ دنیا میں کہاں ایسا ہوتا ہے کہ اچانک شہر کو بند کر دیا جائے، میرے پاس بڑے بھائی محمد فاروق خان بیٹھے تھے، جوکینیڈا میں رہتے ہیں اور کل ہی واپس آئے تھے۔ میں نے جب انہیں یہ قصہ سنایا تو کہنے لگے، جب حکومتیں ایک بار کسی ایشو پر سرنڈر کر دیں تو پھر مافیاز انہیں دوبارہ نہیں اٹھنے دیتے، اب ایسے لوگوں کو یہ علم ہو چکا ہے کہ اسلام آباد کی کس شہ رگ پر ہاتھ رکھیں گے تو ان کی بات فوری سنی جائے گی۔

جہاں کے دھرنے ختم کرانے کے لئے حکومت نے ہر شرط مانی ہو، وہاں دھرنوں کی روایت کیوں نہیں پڑے گی۔ اگر فیض آباد کے دھرنے کو شرائط مان کر ختم نہ کر دیا جاتا تو دوسروں کو بھی عقل آ جاتی، اب تو ایک راستہ کھل گیا ہے جو بھی کچھ منوانا چاہے گا، وہ یہی راستہ اختیار کرے گا۔ محمد فاروق خان نے مسئلے کی بڑی گہرائی کے ساتھ توجیح پیش کی۔

پھر مجھے یہ خیال آیا کہ میں تو ایک خوشی کی تقریب میں جانا چاہتا تھا، نہیں جا سکا، کوئی بات نہیں، لیکن وہ لوگ جو بیمار ہو جاتے ہیں، اپنی پرائیویٹ گاڑیوں یا ایمبولینسوں میں ہسپتال پہنچنا چاہتے ہیں، جب وہ اس صورتِ حال سے دوچار ہوتے ہوں گے تو ان پر یا ان کے لواحقین پر کیا گزرتی ہوگی۔

ہم نے ملک کے دوسرے بڑے مسائل کیا حل کرنے ہیں، ہم تو ابھی تک یہ مسئلہ بھی حل نہیں کر سکے کہ لاہور میں مال روڈ، کراچی میں صدر اور اسلام آباد میں فیض آباد پر دھرنوں کو کیسے روکنا ہے، جو جب چاہتا ہے وہاں آ بیٹھتا ہے اور پھر آسانی سے اٹھتا نہیں۔

میڈیا ایک طرف یہ بریکنگ نیوز چلا چلا کے حکومت کی ناک میں دم کر دیتا ہے کہ سڑکیں بند ہونے سے عوام کو مشکلات درپیش ہیں اور ایمبولینسوں کو بھی راستہ نہیں مل رہا، دوسری طرف اگر حکومت دھرنا دینے والوں کو بزور اٹھانا چاہے تو آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے کہ پانی سے انہیں دھو دیا گیا یا لاٹھی چارج سے ان کی اچھی طرح مالش کی گئی، اب صرف یہی ایک راستہ بچتا ہے کہ حکومت ان کے جائز یا ناجائز مطالبات مان لے اور دھرنا ختم کرا دے۔

یہ کام بھی ہو جاتا ہے تو عدالتیں پوچھنے لگتی ہیں کہ مظاہرین کی شرائط کیوں مانیں، کیوں غیر قانونی دھرنے کو قانونی تحفظ دیا۔ فیض آباد کے دھرنے کا یہی کیس اسلام آباد ہائی کورٹ میں چلا اور عدالت نے وزارتِ داخلہ کو پوچھ پوچھ کر ہلکان کر دیا۔ یہ صورتِ حال تو ریاست کے اندر ریاست کی نشاندہی کرتی ہے۔

ایک ریاست پارلیمنٹ اور سیکرٹریٹ سے چلائی جاتی ہے اور دوسری فیض آباد سے کنٹرول ہوتی ہے۔ ہمیشہ فیض آباد والی ریاست حاوی نظر آتی ہے اور آئین کے تابع ریاست یرغمال بنی ہاتھ ملتی رہ جاتی ہے۔

اسلام آباد میں نیشنل بک فاؤنڈیشن کے تحت کتاب میلے کی تقریبات بھی آج کل جاری ہیں، جن کا افتتاح صدر مملکت ممنون حسین نے کیا۔

چائنا سنٹر کی طرف جانے والی سڑکوں کے کھمبوں پر مختلف ادیبوں وشاعروں کے پینا فلیکس لگے تھے، جن پر ان کی تصاویر لگا کر خوش آمدید کہا گیا تھا۔ یہ آئیڈیا کس کا ہے اور اس پر اس طرح پیسہ کیوں ضائع کیا گیا، اس کا حساب کون لے گا؟

پھر اہم بات یہ ہے کہ ان ادیبوں و شاعروں کا انتخاب کس بنیاد پر کیا گیا، کیا میرٹ رکھا گیا، چند شہروں سے اپنے من پسند ادیب و شاعر بلا کر اور ان کے یہ پینا فلیکس لگا کر ادب کی کیا خدمت کی گئی۔

یہ نواں کتاب میلہ ہے اور اس میں زیادہ تر وہ ادیب وشاعر شامل ہیں جو ہر بار بلائے جاتے ہیں، کیونکہ ڈاکٹر انعام الحق جاوید صرف انہی کو بلاتے ہیں جن کے ان سے مضبوط تعلقات ہیں۔

حکومتی خرچے پر یہ دوست نوازیاں ادب کے لئے کیا کردار ادا کر سکتی ہیں؟ ایک صاحب نے میری توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ اس میلے میں بے شمار موضوعات پر گفتگو کے سیشن کرائے گئے، مگر اردو کی اہمیت اور نفاذ اردو کے لئے کوئی سیشن نہیں رکھا گیا۔

اندرون سندھ ،جنوبی پنجاب، بلوچستان سے نمائندگی نہ ہونے کے برابر تھی۔ہر ایسی قومی کانفرنس میں قوم کو صرف کراچی، لاہور اور اسلام آباد تک محدود سمجھ لیا جاتا ہے۔یہ اقربا پروری سالہاسال سے جاری ہے،جبکہ ملک کے دیگر خطوں کے اہلِ قلم ہمیشہ نظر انداز کئے جاتے ہیں۔

اسلام آباد کی پولیس کو میں نے بہت منظم اور سلجھی ہوئی فورس کے طور پر نمایاں دیکھا۔ پنجاب کی ٹریفک پولیس جیسے ماردھاڑ والے حالات بھی مجھے یہاں نظر نہیں آ رہے۔ بلاوجہ گاڑی روکنا اور پھر لازمی چالان کرنا اسلام آباد کی ٹریفک پولیس کا وطیرہ نہیں۔

لاہور کی معروف ماہر نفسیات جہاں آرا رانا نے ابھی دو روز پہلے لاہور میں ٹریفک وارڈن کی ہٹ دھرمی کے بارے میں بتایا کہ صرف ان کی گاڑی کو روک کر سڑک پر کئی منٹ تک تماشا لگایا گیا اور انہیں بڑی مشکل سے پانچ سو روپے موقع پر نقد ادا کرکے جانے کی اجازت ملی۔

مَیں اسلام آباد کے آئی جی سلطان اعظم تیموری کو ذاتی طور پر جانتا ہوں، وہ جب ملتان میں آر پی او تھے تو ان سے ملاقاتیں رہتی تھیں، ان کا سب سے زیادہ زور پولیس کی خوش اخلاقی پر ہوتا تھا، خاص طور پر وہ ٹریفک پولیس کی خوش اخلاقی کو بڑی اہمیت دیتے تھے۔

انہوں نے ملتان میں ٹریفک کوارڈینیشن کمیٹی کی بنیاد رکھی جس میں معاشرے کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو شامل کیا۔ اتفاق سے میں بھی اس کمیٹی کا ممبر ہوں۔ اس کے ذریعے انہوں نے شہر کی ٹریفک کو بہتر بنانے کے لئے تجاویز اور نگرانی کا سلسلہ شروع کیا، جس کے مفید نتائج برآمد ہوئے۔

اسلام آباد میں بھی جب انہوں نے آئی جی کا چارج سنبھالا تو ٹریفک پولیس سے خصوصی خطاب کیا۔ انہوں نے یہ واضح پیغام دیا کہ ٹریفک قوانین کا نفاذ پولیس کی ذمہ داری ہے، لیکن ان کی آڑ میں کسی شہری کی تذلیل کا انہیں کوئی حق نہیں، یہ چیز کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ شاید یہ ان کی اسی واضح ہدایت کا اثر ہے کہ میں نے ٹریفک پولیس کو جگہ جگہ ناکے لگا کر چالان کرتے نہیں دیکھا اور ایک دو جگہ جب راستہ پوچھنے کے لئے کسی سے مکالمہ کیا تو اس کا رویہ اور لہجہ بھی شستہ اور مودبانہ پایا۔

ابھی مجھے دو چار دن اسلام آباد میں مزید رہنا ہے، دیکھتے ہیں اس شہر اقتدار کے پردۂ زنگاری سے اور کیا کچھ نکلتا ہے، مگر ایک بات طے ہے کہ کئی دہائیوں پہلے جب صدر ایوب خان نے مار گلہ کی پہاڑیوں میں نیا دارالخلافہ بنانے کا سوچا تھا تو شاید اس وقت یہ ایک عجیب فیصلہ نظر آتا ہو، کیونکہ کراچی جیسے ملک کے سب سے بڑے شہر کو چھوڑ کر ایک نئے شہر کو دارالخلافہ بنانا کوئی معمولی بات نہیں تھی، مگر آج اسلام آباد کی خوبصورتی اور ترقی دیکھ کر یہ ماننا پڑتا ہے کہ ایوب خان نے جس نئے دارالخلافہ کا خواب دیکھا تھا، وہ آج پوری آب و تاب سے دنیا کے ماتھے پر چمک رہا ہے۔

یہ بات بلا مبالغہ کہی جا سکتی ہے کہ اسلام آباد دنیا کے خوبصورت ترین دارالخلافوں کی صف میں شامل ہے۔ کاش اس کی خوبصورتی اور خوبصورت فضاؤں کی بدولت یہاں بیٹھنے والے ہمارے اہل اقتدار بھی امورِ حکمرانی کو خوبصورتی اور محبت سے چلائیں اور ملک کے کونے کونے تک اس حسین دارالخلافے کی مہک اچھی گورننس کی صورت میں پہنچے۔ ابھی تک تو ملک کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والے عوام کو یہی لگتا ہے کہ اسلام آباد میں بیٹھے حکمران کبھی ان کے بارے میں نہیں سوچتے، اُن کی سوچ کا محور اپنی ذات یا پھر ایک محدود طبقے کے مفادات ہوتے ہیں۔