پورن دیکھنے والے صارفین کو بلیک میل کرنے والے نوجوان گرفتار

پورن دیکھنے والے صارفین کو بلیک میل کرنے والے نوجوان گرفتار

لندن شہر کے 24 سالہ نوجوان زین قیصر کو پورن دیکھنے والے صارفین سے بلیک میل کے ذریعے لاکھوں پاؤنڈ بٹورنے کے الزام میں کم از کم چھ سال جیل قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔

تفتیش کاروں کوزین کے پاس سے سات لاکھ پاؤنڈ کی رقم ملی ہے لیکن انھیں خدشہ ہے کہ زین قیصر کے گروہ نے صارفین سے تقریباً 40 لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ رقم بٹوری ہے۔

کنگسٹن کراؤن کورٹ کو بتایا گیا کہ وہ لوگ جنھوں نے برطانیہ میں سائبر کرائم کے ذریعے سب سے وافر تعداد میں رقم بنانے کے الزام میں سزا پانے والے افراد کی فہرست میں زین قیصر کا نام سب سے اوپر ہے۔

1600 افراد کی خفیہ کیمروں سے ہوٹلوں میں پورن بنائی گئی

سزا سنانے والے جج ٹموتھی لیمب نے کہا: ‘تمہارے جرم سے لوگوں کو جو اذیت پہنچی ہے، وہ اس قدر شدید ہے کہ اس جیسا کوئی اور کیس ماضی میں سامنے نہیں آیا۔’

چھ سال اور پانچ ماہ پر محیط سزا برطانیہ کی قومی ایجنسی برائے جرائم (این سی اے) کی دوسری سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اس سے قبل انھوں نے چند ماہ قبل ایک اور شخص کو جیل تک پہنچایا تھا جس نے برطانیہ کا انٹرنیٹ بند کر دیا تھا۔

‘بیڈ روم سے حملہ’

زین قیصر کو پانچ سال قبل حراست میں لیا گیا تھا لیکن اس وقت ان پر کیس نہ چل سکا کیونکہ تفتیشی مرحلہ بہت پیچیدہ تھا اور ان کی ذہنی صحت پر شکوک تھے۔

مشرقی لندن کے علاقے بارکنگ میں اپنے گھر سے کام شروع کرنے والے زین قیصر نے 17 سال کی عمر سے لوگوں کو لوٹنا شروع کیا تھا۔

ان کا طریقہ کار یہ تھا کہ وہ پورن دیکھنے والے صارفین کے کمپیوٹر پر ایسے وائرس بھیجتے جس سے اس صارف کا کمپیوٹر بند ہو جاتا اور رقم دیے بغیر وہ استعمال کرنے سے قاصر ہوتا۔ اس وائرس کو ‘رینسم وئیر’ بھی کہا جاتا ہے یعنی ایسا سافٹ وئیر جس سے تاوان حاصل کیا جائے۔

زین قیصر نے روس سے تعلق رکھنے والے جرائم پیشہ افراد سے رینسم وئیر حاصل کیا اور معاہدہ کیا کہ اگر ان کا حملہ کامیاب ہو جائے تو وہ حاصل کی گئی رقم کا آدھا حصہ بانٹ لیں گے۔ اسی طرح انہوں نے سائبر کرائم کرنے والے مختلف ممالک کے جرائم پیشہ افراد سے رابطہ قائم کیا جن کا تعلق چین اور امریکہ سے تھا۔

اگلے 18 ماہ میں زین قیصر نے انٹرنیٹ پر مقبول پورن ویب سائٹس پر اشتہارات کے لیے جگہ خریدی لیکن ہر اشتہار جو انھوں نے دیا وہ ‘اینگلر’ نامی رینسم وئیر کے ساتھ تھا۔

ان پورن ویب سائٹس پر کوئی بھی صارف جو اشتہار پر کلک کرتا اس کے کمپیوٹر پر وہ رینسم وئیر ڈاؤن لوڈ ہو جاتا اور اگر اس صارف کی مشین پر وائرس کا مقابلہ کرنے کا سافٹ وئیر نہ ہوتا تو اس کی مشین زین کے کنٹرول میں آجاتی۔

اس وائرس کے ذریعے صارف کی مشین پر قانون نافذ کرنے والے ادارے جیسے ایف بی آئی سے ایک پیغام سامنے آتا جس میں ان پر قانون توڑنے کا الزام لگایا جاتا اور دھمکی دی جاتی کہ اگر انھوں نے 200 ڈالر کا جرمانہ نہ بھرا تو انھیں تین سال جیل قید ہو جائے گی۔

سرکاری وکیل جوئیل سمتھ نے عدالت کو بتایا کہ کئی لوگوں نے گھر والوں اور دوستوں کے سامنے خفت سے بچنے کے لیے اور اس ڈر سے کہ وہ انھیں فحش ویب سائٹ دیکھنے کی وجہ سے شرمندہ کریں گے، زین کو تاوان ادا کیا۔

‘اسی شرمندگی کی وجہ سے بہت ہی کم لوگوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کیا۔’

اس وائرس کے ذریعے صارفین کو دیے جانے والے پیغام میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پولیس نے صارف کے کمپیوٹر میں نصب کیمرے سے اس کی تصویر لے لی ہے اور انھیں تاوان ادا کرنے کے لیے وقت دیا جاتا ہے۔

این سی اے کے مطابق یہ بتانا ممکن نہیں ہے کہ کتنے لوگوں نے زین قیصر کو رقم ادا کی لیکن فرانزک تفتیش سے معلوم ہوا کہ ان کا منصوبہ کتنا بڑا تھا۔ صرف جولائی 2014 میں انھوں نے 11000 پاؤنڈ کی رقم کمائی۔

این سی اے کے مطابق زین قیصر کا دیا ہوا جعلی اشتہار پر ہر ماہ دو کروڑ سے زائد ویب براؤزرز پر نظر آتا ہے جن میں سے تقریباً نو لاکھ مرتبہ وہ برطانیہ میں فحش ویب سائٹس پر شائع ہوا۔

معاشی معاملات کی تفتیش کرنے والوں کے مطابق زین قیصر کے آپریشن سے تقریباً چالیس لاکھ پاؤنڈ کرپٹو کرنسی کے ذریعے منتقل کیے گئے لیکن اس میں سے رقم کی بڑی تعداد اشتہارات کو خریدنے کے استعمال کیا گیا۔

این سی اے کے ذرائع کے مطابق حراست میں لیے جانے کے موقع پر کمپیوٹر سائنس کے سابق طالبعلم زین قیصر نے ذاتی طور پر ساڑھے پانچ لاکھ پاؤنڈ کی رقم وصول کی تھی۔

این سی اے کے سائبر کرائم ونگ کے سربراہ مائیک ہولیٹ نے کہا کہ ‘زین قیصر سائبر جرائم کرنے والوں میں سب سے اہم کردار ہے جس کے بارے میں ہمارے ادارے نے تفتیش کی ہے۔ اس کے آپریشن کا سائز اور اس میں ملوث لوگوں کی تعداد بہت بڑی تھی اور ان تمام وجوہات کی بنا پر وہ اتنا کامیاب رہا۔ میرا نہیں خیال کہ ہم کبھی یہ معلوم کر سکیں گے کہ کتنے لوگوں نے اسے پیسے دیے تھے۔’

صارفین کو بلیک میل کرنے کے عرصے کے دوران زین قیصر کہیں ملازمت نہیں کر رہے تھے لیکن اس کے باوجود وہ کافی شاہانہ انداز میں زندگی بسر کر رہے تھے۔

انھوں نے پانچ ہزار پاؤنڈ کی رولیکس گھڑی خریدی تھی جبکہ لندن کے علاقے چیلسی میں دو ہزار پاؤنڈ کے عوض ہوٹل میں وقت گزارا تھا۔ وہ باقاعدگی کے ساتھ جسم فروش خواتین، منشیات اور جوئے میں رقم صرف کرتے۔

زین پکڑ میں کیسے آئے؟
تفتیش سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کسی صارف نے زین کی شکایت نہیں کی تھی بلکہ بالغوں کی ویب سائٹس جہاں پر زین قیصر اپنے اشتہارات لگاتے تھے انھوں نے حکام کو بتایا۔

کینیڈا کی اشتہارات بیچنے کی کمپنی نے زین قیصر کو اشتہارات دینے سے منع کیا تو انھوں نے اس کمپنی کے خلاف سائبر حملے شروع کر دیے جس سے اس کمپنی کو بہت نقصان ہوا اور انھوں نے دھمکی بھی دی کہ ساتھ کام کرنا بہتر ہوگا۔

اس دھمکی پر اس کمپنی نے پولیس سے رابطہ کیا۔

پکڑے جانے پر زین قیصر نے لگائے گئے الزامات کی تردید کی اور کہا کہ ان کو کسی نے ہیک کر لیا تھا لیکن بعد میں انھوں نے خود پر لگائے گئے 11 الزامات قبول کر لیے۔

یہ جرائم انھوں نے 2012 سے 2014 کے بیچ میں کیے تھے۔