لورالائی میں دہشت گردوں کا حملہ، 2 پولیس اہلکار شہید، 17 افراد زخمی

لورالائی میں دہشت گردوں کا حملہ، 2 پولیس اہلکار شہید، 17 افراد زخمی

لورالائی(نیوزلیب) بلوچستان کے ضلع لورالائی میں ڈی آئی جی کے دفتر پر دہشت گردوں کے حملے میں دو پولیس اہلکار شہید جبکہ اہلکاروں سمیت 17 افراد زخمی ہوگئے جبکہ دو دہشت گرد بھی مارے گئے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق لورالائی کے کوئٹہ روڈ پر قائم ڈی آئی جی پولیس ژوب ڈویژن کے آفس اور تحریری امتحان دینے والے امیدواروں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ اس دوران دفتر کے داخلی گیٹ پر ایک دہشت گرد نے حملہ کر کے اپنے اپ کو اڑا لیا۔

بھگدڑ مچ جانے کے دوران تین دہشت گرد ڈی آئی جی آفس کے اندر داخل ہو گئے، فائرنگ شروع کر دی اور دستی بموں سے حملہ بھی کیا۔ حملے کے فوری بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ مزید نفری بھی موقع پر پہنچ گئی۔

فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گرد بھی مارے گئے جبکہ حملے کے دوران دو پولیس اہلکار شہید جبکہ اہلکاروں سمیت 17 افراد زخمی ہوئے جن میں سے 4 کی حالت تشویشناک ہے۔

زخمیوں کو فوری طور پر مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق آپریشن تاحال جاری ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

گزشتہ سے پیوستہ

کراچی کے علاقے کلفٹن کے بلاک 4 میں واقع چینی قونصل خانے پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا دیا گیا،فائرنگ اور دھماکے میں دو پولیس اہلکاروں سمیت 4 افراد شہید اور ایک زخمی ہو گیا جبکہ پولیس اور رینجرزاہلکاروں کی جوابی کاروائی میں3 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا، مارے گئے دہشت گردوں کے قبضے سے خودکش جیکٹ اور اسلحہ بھی برآمد کرلیا گیا۔

پولیس کے مطابق قونصل خانے کا تمام چینی عملہ بالکل محفوظ رہا اور صورتحال پر قابو پالیا گیا ہے۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی امیر شیخ کے مطابقصبح ساڑھے 9 بجے کے قریب 4 دہشت گردوں نے چینی قونصل خانے میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم گارڈز کے روکنے پر انہوں نے فائرنگ کردی، جس پر قونصلیٹ پر تعینات سیکیورٹی گارڈز نے بھی جوابی فائرنگ کی، اس دوران دھماکے کی آواز بھی سنی گئی۔ تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے جبکہ ہمارے دو پولیس اہلکار شہید ہو گئے۔ان کا کہنا تھا پولیس، رینجرز اور ایف سی اہلکار قونصلیٹ کی سیکیورٹی پر مامور ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے قونصلیٹ سے دور گاڑی کھڑی کر کے قونصل خانہ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھاکہ ایک حملہ آور کو گیٹ پر ہی ہلاک کر دیا گیا جبکہ دو دہشت گردوں نے کمپاؤنڈ میں داخل ہونے کی کوشش کی تاہم وہ اندر داخل نہیں ہو سکے اور ان کو بھی ہلاک کر دیا گیا۔ان کا کہنا تھاکہ دہشت گر د اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہر اور ملک کے دشمنوں کو مل کر ہی ہم ناکام بنا سکتے ہیں۔ ڈی آئی جی ساتھ جاوید عالم اوڈھو نے تصدیق کی کہ ملزمان کی جانب سے کیے گئے ابتدائی حملے میں قونصلیٹ پر تعینات 2پولیس اہلکار شہید ہوئے جبکہ ایک سیکیورٹی گارڈ کو زخمی حالت میں جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔ جبکہ ترجمان جناح ہسپتال ڈاکٹر سیمی جمالی کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ چار افراد کی نعشیں جناح ہسپتال منتقل کی گئی ہیں جن میں دو پولیس اہلکار محمد اشرف اور محمد عا مر شامل ہیں جبکہ دو سویلین افراد کی نعشیں ہسپتال منتقل کی گئی ہیں جبکہ ایک پولیس اہلکار محمد جمن کو شدید زحمی حالت میں لایا گیا ہیجس کے جسم کے نچلے حصہ پر زخم ہوئے ہیں اور لگتا ہے یہ دھماکہ کی وجہ سے شہادتیں ہوئی ہیں ۔جبکہ ڈی آئی جی ساؤتھ جا وید عالم اوڈھو کے مطابق دو دہشت گر دوں کو ہلاک کر دیا گیا جن کے قبضہ سے خود کش جیکٹس اور اسلحہ بھی برآمد ہواہے۔ ان کا کہنا تھا لگتا ہے دہشت گردوں کی تعداد دو ہی تھی ۔ان کا کہنا تھا ایک مشکوک گاڑی کو قونصلیٹ کے باہر سے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ دہشت گرد فائرنگ کرتے ہوئے قونصلیٹ میں داخل ہوئے۔ اس دوران دھماکہ بھی ہوا اور قونصلیٹ سے شدید دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا گیا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری جائے وقوع پر پہنچ گئی اور علاقے کا محاصرہ کرلیا۔

دوسری جانب تمام داخلی و خارجی راستوں کو سیل کرکے قونصلیٹ کی طرف جانے والی ٹریفک روک دی گئی۔ایس ایس پی ساتھ پیر محمد شاہ کی سربراہی میں پولیس کی ایک ایڈوانسڈ پارٹی جبکہ رینجرز کی نفری بھی قونصلیٹ میں داخل ہوگئی اور کلیئرنس کی کارروائی کی۔ کراچی پولیس چیف کے مطابق بم ڈسپوزل اسکواڈ کی جانب سے علاقے میں سرچ آپریشن کیا گیا جبکہ جائے وقوعہ کے قریب سے ایک مشکوک گاڑی بھی ملی ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق قونصلیٹ میں پاکستانی اور چینی شہریوں سمیت 50 کے قریب ملازمین کام کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ چینی قونصل خانہ سی ویو سے کچھ دور کلفٹن بلاک 4 میں واقع ہے، جہاں غیر ملکی قونصل خانوں سمیت ہائی پروفائل دفاتر واقع ہیں۔