ہم ”جن “کب بنیں گے

ہم ”جن “کب بنیں گے

پھر وہی 23مارچ کی تقریبات،لگے بندھے جملے،اخبارات کی شہہ سرخیوں میں جلی حروف میں بلند و بانگ عہد و پیمان۔ایک بار پھر کئی دہائیوں پر محیط لگاتارپس ماندگی کو بالائے طاق رکھ وطن عزیز کو دنیا کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک قرار دیا گیا۔کہیں مرکزی عہدوں پر فائز افراد ملک کو درپیش مسائل اور ترقی کی راہ میں رکاوٹوں کا ذکر فرماتے دکھائی دیئے۔عجیب،بلکہ خود فریبی کہا جائے تو بہتر ہو گا۔آج کے کالم میں مجھے کسی اور موضوع پر بات کرنی ہے تاہم مذکورہ باتوں پر آنکھیں موند لینا بھی غیر مناسب ہو گا۔
ہم سے بعد میں آزادی حاصل کرنے والے ہمسایہ ملک چین کو ہی دیکھ لیجئے۔چین آبادی کے اعتبار سے ایک بڑا ملک ہے تاہم اوور پاپولیشن کو اس نے ترقی کی راہ میں آڑے نہیں آنے دیا۔وہاں ترقی کی سب سے بڑی وجہ سیاست دانوں اور قوم کا باشعور اور محب وطن ہونا ہے۔اس کے بر عکس ہمارے سیاست دانوں کا کیا کہنا،یہ صرف سچ بولتے ہیں ایسا سچ جس پر اگر عمل درآمد ہوتا تو پاکستان کو حکومتی نظام چلانے کے لئے قرض کا کشکول نہ اٹھانا پڑتا۔میرے ملک کے ہر شہری کا بال بال قرض میں جکڑا ہے اور سونے پر سہاگہ حکمرانوں کے کھوکھلے دعوے اور پرتعیش طریقہ زندگی۔
مجھے بخوبی علم ہے کہ یہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے اور دانشور نما سیاست کے شہہ سواروں کو کچھ عرض کرنا بھینس کے آگے بین بجانا ٹھہرا۔نجانے کیوں دل یہی مشورہ اور تاکید کرتا ہے کہ اپنے حصے کا کام لازمی کیا جائے نتیجہ رب العزت کے ہاتھ ہے ۔احمد فراز نے ایک دفعہ کہا تھا کہ
شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

اس کی وہ جانے اسے پاس وفا تھا کہ نہ تھا
تم فراز اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے
ابن انشاءنے چین کے بزرگوں اور بوڑھوں کو ”الہ دین“ اور” جنوں“ سے تشبیہہ دی ہے ۔واقعہ کچھ یوں ہے کہ ستر اسی برس کا بزرگ اپنے گھر کے باہر آم کا پیڑ لگا رہا تھا ۔ایک راہگیر نے رک کر استفسار کیا کہ تم زندگی کی آخری منزل تک پہنچ چکے ہو ۔اس پیڑ کا پھل کھانے کے لئے زندہ کب رہو گے ناحق زحمت اٹھا رہے ہو۔بزرگ نے عاجزی سے جواب دیا کہ جن درختوں کے پھل میں نے کھائے ہیں وہ میرے پرکھوں نے لگائے تھے ۔جو درخت میں لگا رہا ہوں اس کا پھل میرے بچے پوتے کھائیں گے۔
چین کی ترقی کے پیچھے وہ حقیقی اور صاف شفاف جذبہ حب الوطنی ہے جو ہر چینی کے دل میں موجود ہے۔1959ء میں چین کے انقلاب کی دسویں سالگرہ تھی۔1958ءکے اواخر میں پیکنگ کے لوگوں نے عزم کیا کہ وہ سالگرہ کی تقریب کے لئے دس عظیم الشان عمارتیںبنائیں گے اور صرف دس ماہ کے قلیل عرصے میں بنائیں گے ۔پیکنگ کا نیا ریلوے اسٹیشن بھی ان دس ماہ میں بنا بلکہ ساڑھے سات مہینوں میں مکمل ہو گیا تھا۔مذکورہ عمارتوں کی تعمیر میں کاریگر اور کارندے تو کام کر ہی رہے تھے لیکن پیکنگ کے لوگ رضاکارانہ طور آکر کام میں جٹ گئے ۔ ہزاروں شہری شاموں میں اور اتوار کوآکر تعمیر کے کام میں ہاتھ بٹاتے اور فخر سے کہتے کہ اس عمارت کی تعمیر میں ہمارا ہاتھ ہے۔شاعر نے غالباً یہ شعر اسی موقعے کے لئے کہا ہے کہ
جلانے والے جلاتے ہی ہیں چراغ آخر
یہ کیا کہا کہ ہوا تیز ہے زمانے کی
میں سمجھتا ہوں کہ آج بھی پاکستان میں تعمیر و ترقی کا کام جذبے سے شروع ہو جائے تو کامیابی یقینی ہے۔ اس کے لئے جہاں نسل نو کی تعلیم و تربیت ضروری ہے وہاں ہمیں اپنے آپ کو ایک رول ماڈل کے طور پر پیش کرنا ہو گا۔ہمارے ملک میں بدقسمتی سے گذشتہ دہائیوں میں ملک قرضہ جات کے حصول میں تو بازی لے گیا ہے مگر دولت پرستی نے جذبہ حریت کو ناپید کر دیا گیا ہے۔ میری رائے میں پاکستان کے صرف چند شہر وں کوسہولیات اور ترقی سے آراستہ کر دینا کافی نہیں ہے۔ملک کی ترقی اور بہتری کے لئے منصوبہ بندی کرنے والوں کو اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر یہ دیکھنا چاہئے کہ سہولیات کی دستیابی کا دائرہ کاروسیع تر کیا جائے۔ یہاں میں بہاولپور کی مثال ضرور دوں گا کہ یہ وہ شہر ہے جس نے پاکستان کو اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا اور قائد اعظم تا حیات بہاولپور کے شکر گزار رہے اور فرمایا کہ پاکستان بہاولپور کے احسانات کا بدلہ تا حیات نہیں اتار سکتا۔موجودہ ارباب اختیار کے سنہرے فیصلوں نے کئی محکموں کا ہیڈ کوارٹر لاہور کو بنا دیا ہے۔بہاولپور کا تاریخی ہسپتال بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال میں سہولیات میں اضافہ کرنے کی بجائے ،جو سہولیات یہاں موجود ہیں انہیں لاہور منتقل کیا جا تا ہے۔بہاولپور کا وسیع و عریض رقبہ ہے جسے مفید منصوبوں کے لئے استعمال میں لایا جا سکتا ہے ۔یہاں قیام پاکستان سے قبل تعمیر کیا گیا ڈرنگ اسٹیڈیم ہے جسے ایشیا کا دوسرا بڑا اسٹیڈیم کہا جاتا ہے ۔ کئی دہائیوں سے یہاں کوئی قومی یا بین الاقوامی میچ منعقد نہیں ہوا۔
اسی طرح قلعہ دراوڑ کی شاندار عمارت صرف چولستان جیپ ریلی کو روشن دکھائی دیتی ہے باقی سال کے تمام دن اس کا کوئی پرسان حال نہیں۔یہاں کا خوب صورت اور وسیع رقبے پر پھیلا ہوا لال سوہانرا نیشنل پارک ملک بھر میں اپنی مثال آپ ہے۔میری تجویز اور مشورہ یہ ہوگا کہ حکومت اس پارک کی سہولیات میں اضافہ کرے تاکہ ملکی اور غیر ملکی سیاح اس خوبصورت مقام کا رخ کریں اور انہیں کسی سہولت کی کمی محسوس نہ ہو۔اس سے ملک کے مالی وسائل پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔بہاولپور میں ہی سبزی منڈی کو ختم کر کے وہاں” کرافٹ بازار“ تعمیر کیا گیا ہے جو تعمیر کی تکمیل کے بعد، سالوں سے ویرانی اور حکومتی عدم دلچسپی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ چاہئے تو یہ تھا وہاں دست کاری سے منسلک خواتین و حضرات کو کم پیسوں میں پلیٹ فارم مہیا کیا جاتا اور کرافٹ بازار اندرون و بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کا مر کز بنتا مگر معاملات اس کے برعکس ہیں۔وہاں اکا دکا ن ہی کھلی نظر آتی ہے باقی کرافٹ بازار آوارہ کتوں کو نذر کر دیا گیا ہے جو دن اور رات کے اوقات میں بلا رکاوٹ مٹر گشت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔میری سمجھ سے باہر ہے کہ اس کرافٹ بازار کو بنانے کا مقصد صرف غریب عوام سے وصولے گئے پیسے کا ضیاع تھا یا کچھ اور۔
قابل حیرانی اور پریشانی، بات یہ ہے کہ صوبہ پنجاب کے تمام جنوبی حصے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے واحد برن سنٹر یا جھلسے ہوئے مریضوں کے علاج کا مرکز ملتان میں موجود ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق تقریباً 55 بستروں پر مشتمل یہ مرکز صوبے کے اس وسیع اورگنجان علاقے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔کسی حادثے یا آفت کی صورت میں اس کا بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے۔ حال ہی بہاولپور کے قریب احمد پور شرقیہ ،آئل ٹینکر میں آگ لگنے کے حادثے میں سینکڑوں افراد لقمہ اجل بنے۔سینکڑوں زخمیوں کو لاہور کے جناح ہسپتال بھیجنا پڑا تھا کیونکہ ملتان برن یونٹ میں مزید مریضوں کی گنجائش نہ تھی ۔ سینکڑوں معصوم شہریوں کو موت کے سپرد کرنے کے بعد حکومت پنجاب نے صوبے میں دو مزید برن سنٹر تعمیر کرنے کا ارادہ باندھا ہے۔ ایک برن سنٹر کی تعمیر پر ڈیڑھ سے دو ارب روپے لاگت آ تی ہے ۔ کہا یہ جا رہا ہے ایک برن سنٹر راولپنڈی اور دوسرا بہاولپور میں تعمیر کیا جائے گا۔اس بات کی صداقت پر شبہ بالکل جائز ہو گا کہ گذشتہ تین دہائیوں سے پنجاب میں ایک ہی سیاسی پارٹی راج کر رہی ہے اور اس پارٹی کے راہنما سفید و سیاہ کے مالک ہیں مگر ترقیاتی کاموں کی رفتار بڑھنے کی بجائے سست روی کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔غریب،بے کس اور معصوم عوام پر آفتوں اور مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں یا وہ بے روزگاری اور فاقوں سے تنگ آکر خود سوزی کر لیں حکمرانوں کے سر پر جوں تک نہیں رینگتی۔اس کی وجہ ان کی ترجیحات ہیں خدا کرے کہ کبھی غریب عوام بھی ان کی ترجیح کا حصہ بنیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ تمام اختیارات لاہور سیکرٹریٹ کی بجائے بہاولپور سمیت دیگر شہروں کو حاصل ہونے چاہییں۔اس طرح مختلف علاقے کے باسیوںکو دوسرے شہر آمد و رفت سے پنجاب کے دوسرے شہروں بارے معلومات حاصل ہوںگی۔ وہاں کی ثقافت اور تہذیب و تمدن اجاگر ہو گی اور عوام کو ایک دوسرے کے قریب آنے اور سمجھنے کا موقع ملے گا اور یقینی طور پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔بجائے اس کے ،کسی بھی شعبے سے کوئی کام نکل آیا ہے تو صرف لاہور جا کر ہی ہو گا۔ لاہور ایک بڑا شہر ہے وہاں رہائش اور خوراک مہنگی ہے ایک عام آدمی کے لئے اسے برداشت کرنے ممکن نہیں ہے ۔اس سے کہیں بہتر مختلف شہروں کے اختیارات میں اضافہ کرنا اور انہیں ہیڈ کوارٹر اور سیکر ٹریٹ کا درجہ دینا ہے۔
میری بڑی شدید خواہش ہے کہ پاکستان میں بھٹے کی اینٹیں ہلدی اور مرچ میں ملا کر معدے کی تعمیر کی بجائے صرف مکان بنانے میں استعمال ہوں۔ دودھ تالابوں ، نلکوں اور نہروں کی بجائے گائے اور بھینسوں سے حاصل کیا جائے۔حکم عدولی کے مرتکب افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے اور کوئی حکومتی اور با اثر فرد ان کی پشت پناہی نہ کرے۔میں نے بات شروع کی تھی ہمسایہ ملک چین کی ترقی سے۔اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ عصر حاضر میں چین کی ہمہ جہت ترقی پر جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل، مغربی ممالک بھی انگشت بدنداں ہیں کہ جواہداف ان مغربی ملکوں نے صدیوں کی شب و روز تحقیق و جستجو کے بعد بتدریج حاصل کئے ، وہ چین نے ایک نہایت ہی قلیل مدت میں کیسے حاصل کرلئے۔ یہ صرف اور صرف محنت اور اعلیٰ قیادت کا نتیجہ ہے کہ چین کا اقتصادی ترقی کا سالانہ گراف اور شرحِ نموبھی مسلسل اور نہایت تیزی سے بڑھتی جارہی ہے۔
چینی راہنماﺅں نے 1949ءمیں ایک بین الاقوامی پالیسی متعارف کروائی اور اس پر عمل درآمد پر زور دیا۔جس میں تین نکات قابل ذکر ہیں ۔پہلا نکتہ یہ تھا کہ زیادہ سے زیادہ چینی ہنر مندوں اور انجینئروں کو مغربی ممالک (فرانس، امریکہ، جرمنی، برطانیہ) میں بھیجنا اور ان کو سائنس اور ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں مہارت حاصل کرکے واپس اپنے ملک آنے کا پابند بنانا۔دوسرا نکتہ ملک کی صنعتی اور عسکری ترقی کے حصول میں دن رات ایک کردینا۔تیسرانکتہ یہ طے پایا کہ اس وقت تک کسی بھی جنگ و جدل میں کود نے سے گریز کرنا جب تک ایسا کرنا ناگزیر نہ ہو جائے۔چین اپنے اہداف حاصل کرنے میں کس قدر کامیاب رہا ہے اس کا فیصلہ آپ کو کرنا ہے۔میرے کالم کا اختتام اس پر امید شعرپر، باقی باتیں آئندہ سہی۔
انہی غم کی گھٹاو¿ں سے خوشی کا چاند نکلے گا
اندھیری رات کے پردے میں دن کی روشنی بھی ہے