نیب اپوزیشن کو ہراساں کر رہی ہے: بلاول بھٹو زرداری

نیب اپوزیشن کو ہراساں کر رہی ہے: بلاول بھٹو زرداری

اسلام آباد(نیوزلیب)چیئر مین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ نیب اپوزیشن کو ہراساں کر رہی ہے۔ عدلیہ پر بھی سازش کے تحت حملہ کیا گیا۔ ہم کسی سے ڈرنے والے نہیں ہیں، ہم نے ضیاء الحق اور ایوب خان کی آمریت کا مقابلہ کیا ہے۔ سچ تو یہ ہے اسٹیبلشمنٹ ہی سب کچھ چلا رہی ہے۔ سی ای سی کی میٹنگ میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کرینگے۔ قانون ہے کہ رکن اسمبلی کی گرفتاری سے پہلے سپیکر اسمبلی سے اجازت لی جائے۔ قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لگتا ہے حکومت قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں چلنے دینا چاہتی۔ پروڈکشن آرڈر آصف زرداری کا حق ہے۔ لاڑکانہ سے منتخب رکن قومی اسمبلی کو بولنے نہیں دیا گیا۔ آصف زرداری کے تمام دوستوں کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ سویلین ملکوں میں فوج بارڈر، بینکرمیں ہوتی ہے، ہم اسی لیے جمہوریت کو مضبوط کرنے کی کوشش کررہے ہیں، بار بار جمہوری سسٹم چلے گا تو ادارے مضبوط ہوں گے، جس طرح نانا، والدہ نے مقابلہ کیا میں بھی کروں گا۔ سچ تو یہ ہے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 10 اے سب کو شفاف ٹرائل کا حق دیتا ہے۔ ہر شہری کو فیئر ٹرائل کا حق حاصل ہے۔ حکومت مارتی بھی ہے، رونے بھی نہیں دیتی، ایسا رویہ ضیاء اور مشرف دور میں نہیں دیکھا جو نئے پاکستان میں دیکھ رہے ہیں۔

چیئر مین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ حکومت سلیکٹڈ میڈیا، سلیکٹڈ اپوزیشن اور سلیکٹڈ عدلیہ چاہتی ہے۔ بجٹ میں غریب پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ مجھے قومی اسمبلی میں بولنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ پچھلے اجلاس میں بھی مجھے بولنے نہیں دیا گیا، آج مجھے مائیک دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ حکومت کے تین وزرا نے اسمبلی میں تقریر کی ۔حکومت جمہوری، انسانی حقوق پر حملے کر رہی ہے۔ اسپیکرسندھ اسمبلی کے گھر پر حملہ کیا گیا۔ چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسپیکرقومی اسمبلی کووزیرستان سے تعلق رکھنے والے دوممبران بارے خط لکھا تھا۔ وزیرستان کے ممبران کے پروڈکشن آرڈرکا بھی مطالبہ کیا تھا۔ جھوٹ بولا گیا کہ خط نہیں ملا۔ اسپیکر،ڈپٹی اسپیکرکومستعفی ہو جانا چاہیے۔ دونوں کے رویے کی مذمت کرتا ہوں۔ آج قومی اسمبلی میں جو کچھ ہوا سب نے دیکھا۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا ملکی مسائل زیادہ ہیں کوئی ایک پارٹی حل نہیں کر سکتی، جے یو آئی (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن جب بھی اے پی سی بلائیں گے شرکت کے لیے جائیں گے۔