نئے ڈاکٹروں کا غیر محفوظ مستقبل،ذمہ دار کون؟

نئے ڈاکٹروں کا غیر محفوظ مستقبل،ذمہ دار کون؟

نئے ڈاکٹروں کا غیر محفوظ مستقبل،ذمہ دار کون؟
تحریر:پروفیسر ڈاکٹر سید صلاح الدین بابر

میرا، اندرون و بیرون ملک سفر کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔دوران سفر مجھے زندگی کے مختلف شعبوں اور پہلوﺅں کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔جہاں مناسب محسوس ہوتا ہے حکمران بالا کو اپنی تجاویز اور مشورہ دینے میں کبھی بخل سے کام نہیں۔ہمیشہ خدا لگتی کہنا ،حق کا ساتھ دینا اور مسائل کے حل میں اپنا حصہ ڈالنا ضروری جانا ہے۔ہمارے ہاں تعلیم اور طب کے شعبے میں جو ترقی ہونی چاہئے تھی وہ بد قسمتی سے نہیں ہوئی ۔اس بد ترین زوال میں جہاں حکومتیں منصوبہ سازی میں ناکام رہی ہیں وہاں ماہر تعلیم و طب بھی خاموش تماشائی بنے رہے ہیں لہذا نتیجتاًمعیار تعلیم تو گرا ہی ہے ۔میڈیکل کی تعلیم کا معیار انتہائی پستی کا شکار ہو چکا ہے اور زوال کا یہ سفر تیز رفتاری سے جاری ہے۔پوری دنیا میں ایک اصول واضح طور سامنے آیا ہے کہ اگر معیار بلند کرنا ہے تو تعداد میں کمی ضرور ہوگی اور اگر تعداد میں بے ہنگم اضافہ کیا جائے گا تو معیار برقرار نہیں رہے گا۔میں سمجھتا ہوں کہ میڈیکل کے شعبے میں تعدا د کا معیار کے ساتھ سودا نہ کیا جائے۔یہ ایک ایسا شعبہ ہے جس سے منسلک پیشہ ورانہ مہارت کے حامل ڈاکٹرز معاشرے میں انسان کے دکھ،درد،تکلیف اور بیماری میں ایک مسیحا کا کردار ادا کرتے ہیں۔
ڈاکٹر بننا لوگوں کا ایک خواب رہا ہے جسے عملی جامہ پہنانے کے شب و روز کی ان تھک محنت درکار ہوتی ہے مگر پچھلی ایک دہائی میں ڈاکٹر بننا کوئی بڑی بات نہیں رہا۔مادہ پرست لوگوں نے حکومت کے متعلقہ اداروں کی مٹھی گرم کر کے اپنے میڈیکل کالج بنانا شروع کیے اور پھر ان کی تعداد میں وہ ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا کہ کوئی بھی ذی عقل انگشت بدنداں رہ جاتا ہے۔
پی ایم ڈی سی اور وفاقی وزارت صحت نے اپنی نا اہلی کی انتہا کر دی اور یہ نہیں سوچا کہ ہم سینکڑوں پرائیویٹ میڈیکل کالجزکو اجازت نامے جاری کر رہے ہیں ۔کیا ان میڈیکل کالجز میںفیکلٹی پوری ہے؟کیا ان کالجز کا کسی ہسپتال سے الحاق ہے ؟جہاں میڈیکل کے طالب علموں کو عملی تربیت دی جاتی ہے ۔کمال تو یہ ہے کہ پیسہ پرست لوگوں نے گھروں میں میڈیکل کھول لیے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔صدر پاکستان وفاق کے ذمہ دار عہدے پر فائز ہیں ۔میرا جناب سے عاجزانہ سوال ہے کہ ان سینکڑوں پرائیویٹ میڈیکل کالجز سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد ان نئے ڈاکٹروں کا مستقبل کیا ہے؟ کیا حکومت ان ہزاروں ڈاکٹرز کی آسامیاں رکھتی ہے جہاں انہیں تعینات کیا جائے گا۔جناب صدر پاکستان صاحب! معذرت کے ساتھ ،ہمارے ہاں ایسا کوئی نظام نہیں کہ ہم ان مستقبل کے ڈاکٹروں کو باعزت اور معقول روزگار فراہم کر سکیں۔دوسری گزارش یہ بھی ہے وہ والدین جن کے بچے کسی سرکاری میڈیکل کالج میں میرٹ پر پورے نہیں اترتے،وہ ان نجی میڈیکل کالجز میں بھاری رقم ادا کر کے داخلہ لے لیتے ہیں جہاں وہ ڈگری حاصل کرنے میں تو کامیاب ہو جاتے ہیں مگر بغیر عملی تربیت کے، وہ انسانی زندگیوں سے کھیلیں گے۔
کشتی کا ذمہ دار فقط ناخدا نہیں
کشتی میں بیٹھنے کا سلیقہ بھی چاہئے

میری وزیر اعظم پاکستان اور تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سے درخواست ہے کہ نئے پرائیویٹ کالجز میں داخلے روک دیں اور کسی نئے میڈیکل کالج کی اجازت نہ دیں ۔ نئے میڈیکل کالجزکھولنے پر پابندی کم از کم پانچ سال تک لازمی ہو۔ وہ ڈاکٹرز جو تربیت حاصل کر چکے ہیں اور آخری سال میں زیر تعلیم ہیں ۔انہیں معقول روزگار مہیا کریں ۔پاکستان کے دیہی علاقوں میں ڈاکٹرز نہ ہونے کی وجہ سے کئی افراد لقمہ اجل بنتے ہیں۔
پی ایم ڈی سی میں تعینات عملہ کوئی چھوٹے بچوں پر مشتمل نہیں ہے تمام صاحب علم و دانش افراد مرکزی عہدوں پر تعینات ہیں اور ان میں اکثر ،خیر سے اپنے پرائیویٹ میڈیکل کالج کے مالک بھی ہیں۔انہیں کوئی پرائیویٹ کالج چکمہ دے یہ بات دل نہیں مانتا۔ہاں اگر جیب کا درجہ حرارت بڑھا دیا جائے تو پھر سب اچھا ہے۔میری دانست میںپی ایم ڈی سی جب بھی کسی کالج کا معائنہ کرے ۔معائنے کے دن اور تاریخ کا علم کالج کو نہیں ہونا چاہیے اور معائنے کا یہ عمل ہنگامی ہونا چاہیے مگر حقیقت یہ ہے کہ بیشتر پرائیوٹ کالجوں کو اس روز کا پہلے سے معلوم ہوتا ہے اور اس کے مطابق مناسب تیاری کر لی جاتی ہے تاہم کاغذی کارروائی کے لئے پی ایم ڈی سی نے گزشتہ کچھ برسوں میں ”اکا دکا“ ادارے بند کروائے ہیں۔ ان اکا دکا ادارے بند کروانے پر پی ایم ڈی سی کو مبارک باد نہیں دی جا سکتی۔
پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کی بھاری فیسوں کی وجہ سے مستحق اورغریب طلبا ءکی بڑی تعداد میڈیکل تعلیم سے محروم ہورہی ہے، سرکاری کالجوں میں ایم بی بی ایس کی سالانہ فیسں تقریبا25 ہزار سے32 ہزارروپے تک ہے جبکہ پرائیویٹ میڈیکل کالجوں میں سالانہ 6سے8لاکھ روپے فیسیں وصول کی جارہی ہیں جبکہ داخلہ فارم اور طلبا کے میڈیکل کرانے کے نام پر بھی علیحدہ فیسیں وصول کی جاتی ہیں۔بیشتر پرائیویٹ میڈیکل کالجز انتطامیہ امیدواروں کو میرٹ کی بجائے سیلف فنانس اور اورسیزکے نام پربھاری فیسیں وصول کررہی ہیں لیکن حکومت اورپی ایم ڈی سی زائد فیسیں وصول کرنے والے ان کالجوں کے خلاف کارروائی سے گریزاں نظر آتی ہے کیونکہ یہ پرائیویٹ میڈیکل کالجزانتہائی بااثر سیاسی شخصیات کے ہیں۔
مجھے اس بات کی خوشی ہوئی ہے کہ حال ہی میں سپریم کورٹ نے نجی میڈیکل کالجز میں نئے داخلوں پر پابندی عائد کردی ہے۔ عدالت نے حکم دیا ہے جو داخلے ہوچکے ہیں انہیں منسوخنہ کیا جائےجبکہ سالانہ فیس 6 لاکھ 45 ہزار سے زائد وصول نہ کی جائے۔ عدالتی کارروائی مکمل ہونے تک یہ احکامات پورے ملک پر
لاگو ہونگے۔ جبکہ سندھ بھر کے نجی میڈیکل کالجز میں سہولیات کی فراہمی سے متعلق انسپیکشن کا بھی حکم دیا گیا ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا ہے کہ فی الحال پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کسی مزید کالج کو رجسٹرڈ نہیں کرے گی۔ اس معاملے کا پوری طرح جائزہ لیا جائے گا۔ نجی کالجز کو ایک فارم دیا جائے گا جسے مکمل کرکے عدالت میں جمع کرایا جائے۔ اس فارم میں بتایا جائے کہ نجی کالجز میں کیا کیا سہولیات موجود ہیں اور کیا وہ معیار پر پورے اترتے ہیں یا نہیں۔جسٹس ثاقب نثار نے حکم دیا ہے کہ جو داخلے ہوچکے، انہیں منسوخ نہیں کیا جا رہا لیکن مزید کوئی داخلہ نہیں دیا جائے گا۔عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا ہے کہ جو داخلے دیے جا چکے، ان کی فیس 6 لاکھ 45 ہزار سے زائد وصول نہ کی جائے، عدالتی کارروائی مکمل ہونے تک یہ احکامات پورے ملک پر لاگو ہوں گے۔
میری بڑی شدید خواہش ہے کہ میرے ملک کے بچے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں اور اپنے شعبے میں مہارت حاصل کرکے ملک و قوم کی خدمت کریں۔انہوں کوئی چند سکوں کے عوض دھرتی کی مٹی سے جد ا نہ کر پائے۔ان کا روزگار پاکستان سے وابستہ ہو۔اللہ نے چاہا تو وہ دن ضرور آئے گا۔ کالم کے اختتام پر جبار واصف کا ایک قطعہ قارئین کی نذر
میں نے اپنا وِیزا پھاڑ کے پھینک دیا
آنکھیں پھوڑ کے دِرہَم جوڑ نہیں سکتا
ا جرت میں سونے کے سِکّوں کی خاطر
ہِیروں جیسے بچّے چھوڑ نہیں سکتا