مقبوضہ کشمیر کی خود مختاری کا خاتمہ، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جاری

مقبوضہ کشمیر کی خود مختاری کا خاتمہ، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جاری

اسلام آباد(نیوزلیب) مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کیخلاف پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس دوسرے روز بھی جاری ہے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی وطن واپس پہنچ گئے، ایوان میں پالیسی بیان متوقع ہے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا اقوام متحدہ کشمیر کا مسئلہ حل کرائے، کشمیر ایک عالمی تنازع ہے، کشمیر کی حیثیت کو تبدیل کرنا غیر قانونی اقدام ہے، بھارت نے عالمی سطح پر جنگی جرم کیا ہے، بھارت نے غلط اقدامات سے عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی کی، بھارت مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کر رہا ہے۔

شیریں مزاری کا کہنا تھا بھارت نے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی دھجیاں اڑائیں، بھارت جنگی جرائم کا مرتکب ہوا ہے، بھارت نے ایل او سی پر کلسٹر بم استعمال کر کے معاہدے کی خلاف ورزی کی، صدر سلامتی کونسل اور یو این سیکرٹری جنرل کو بھی خط لکھا گیا، سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کیلئے بھی کوشش کی جا رہی ہے، اسرائیل نے جو فلسطین میں کیا وہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں کر رہا ہے، خطے میں امن کیسے آئے گا جب بھارت جنگ کی تیاری کر رہا ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کا ارادہ رکھتا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما راجا ظفر الحق نے ایوان سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا مسئلہ کشمیر انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے، انٹرویو میں ایک سیاستدان نے کہا کشمیر کے 3 حصے ہونے چاہئیں، بھارت نے بالکل ویسے ہی حصے کیے ہیں، ایوان میں کہا گیا کہ معاملے کو سنجیدہ لیں تو کہا گیا کہ کیا حملہ کر دوں، آرٹیکل 370 کا خاتمہ بی جے پی کا منشور تھا، پاکستان کو بھی اپنے فرائض پورے کرنے چاہیے تھے، اپوزیشن کو نیچا دکھانے کیلئے تمام انرجی استعمال کی جا رہی ہے۔

راجہ ظفر الحق کا کہنا تھا پہلے ہی دیکھ لینا چاہیے تھا کہ مودی جو کچھ کر رہا ہے اس کے نتائج کیا ہونگے، ٹرمپ سے ملاقات کا کیا نتیجہ نکلا، وزیراعظم کا ملائیشین وزیراعظم اور ترک صدر کو فون کافی نہیں۔