محمد سلیم الرشید کا تازہ ترین اور خوب صورت مضمون “پیاس”

محمد سلیم الرشید کا تازہ ترین اور خوب صورت مضمون "پیاس"

پیار کی پیاس دیر پا ہے اور پیاسا پیار وقتی ہے۔ باغ بہار کا پیاسا ہے، محبت ملن کی پیاسی ہے،محب کو محبوب کی پیاس ہے اور یہ سب پیاس ساری زندگی آپ کے آس پاس ہے۔

ایک ایسا لفظ جس کو سوچنے کےدوران ہی اس کی اھمیت کا اندازہ ہونے کگتا ہے۔ ایک ایسی کیفیت کہ جس میں طلب انتہا کو پہنچ جاتی ہے۔ اگر پیاس بجھنے کی آس ہو تو پیاس کی شدت میں وقتی کمی آ سکتی ہے اگر یہ احساس ہو کہ پیاس کا بجھنا محض قیاس ہے تو شدت مین اضافہ بھی ہو سکتا ہے پیاس صرف پانی کی ہی نہیں ہوتی۔۔۔۔ تخلیق کار کو اپنی تخلیق کی داد کی پیاس ہوتی ہے۔ قیدی کو فریاد کی پیاس ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ یہ دنیا صرف بھوکی ہی نہیں پیاسی بھی ہے۔ اس بات کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ انسان کی پیاس بھوک سے زیادہ کڑی ہے،سخت ہے،نا قابل برداشت ہے۔اگر ایک پیاس بجھ جاۓ تو دوسری پیاس جاگ اٹھتی ہے۔ یہ کوئ بری بات نہیں ہے آپ کے انسان ہونے کی دلیل ہے۔ اگر کسی کو اقتدار کی پیاس ہے تو یہ پیاس جتنی بجھاتے جائیں یہ پیاس ترقی کر کہ حوس کا روپ دھار لے گی۔لہٰذہ ضروری نہیں کہ ہر پیاس بجھائ جاۓ۔
پیار کی پیاس دیر پا ہے اور پیاسا پیار وقتی ہے۔ باغ بہار کا پیاسا ہے، محبت ملن کی پیاسی ہے،محب کو محبوب کی پیاس ہے اور یہ سب پیاس ساری زندگی آپ کے آس پاس ہے۔ انسانی حیات کی بقاء کا ضامن پانی ہے۔ پانی بقاء کا ضامن مگر موت کا سندیسہ بھی ہو سکتا ہے۔ صحرا میں پیاس ہے پانی کی۔ سمندر میں موت ہے پیاسے کی۔ حد سے تجاوز موت ہے اور طلب سے کم ملنا امتحان ہے۔ ضروری نہیں کہ پانی ہی پیاس بجھاۓ دیدار بھی پیاس بجھا سکتا ہے ،گر بعد از دیدار پیاس بڑھ جاتی ہے پھر انسان سوچتا ہے کہ اگر میری پہلی پیاس نہ بجھتی تو اس کی تڑپ اور طلب اس قدر زیادہ نہ ہوتی۔
پیاس اگر پیاس رہے تو پیاس ہے اور اگر ایک بار بجھ جاۓ تو ہر بار بجھنے یا بجھانے یا بجھوانے کا دل کرتا ہے۔ پیاس کی اپنی مٹھاس ہے جو کہ یس کے خواص خاص میں سے ایک ہے۔ کچھ پیاسے ایڑھیاں رگڑیں تو چشمے پھوٹیں اور کچھ حوض کوثر کے مالک ہوکہ بھی پیاسے رہیں۔ یہ مالک کی تحریر ہے کس کو کیا دینا ہے کس کو دینا ہے ہے کس سے دلوانا ہے کس کو دلوانا ہے کس کو پیاسا رکھ کہ ہیرو بنانا ہے کس کی پیاس بجھا کر اس کو رسوا کرنا ہے۔۔۔۔۔۔ سب لکھا جا چکا ہے۔
اوقات مخصوصہ میں پیاسا رھنا نیکی ہے۔ ایسی پیاس ہمیں خوشی سے منظور ہے مگر خوشی سے قبول کی جانے والی ہر پیاس ھماری پیاس نہیں بجھاتی۔ ہمیں پیاس و طلب و حوس میں تمیز کرنی چاہیۓ
فطری ضرورت پیاس ہے
معاشی ضرورت طلب ہے
اور پیاس اور طلب دونوں کو یکجا کر کہ کثرت سے پورا کرنا حوس ہے جو آپکو حواس باختہ کر سکتی ہے پھر حوس کی پیاس اور طلب اور طلب اور پیاس کی حوس  کل ملا کہ بس حوس ہی رہ جاتی ہے اور ھوس پوری کرتے کرتے حسرت ہی رہ جاتی ہے کہ اب حوس کی بھی پیاس بجھ جاۓ تا کہ کوئ پیاس باقی نہ رہے۔بقول اقبال
سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم
بخیلی ہے یہ رزاقی نہیں ہے

تحریر وتہذیب:محمد سلیم الرشید