مثالی جمہوریت کا کوئی شارٹ کٹ نہیں!

مثالی جمہوریت کا کوئی شارٹ کٹ نہیں!

کل مَیں جناب قدرت اللہ چودھری کا تجزیہ پڑھ رہا تھا۔ اُس میں انہوں نے ذکر کیا کہ مشرف دور کے ایک وزیر بالغ رائے دہی کا حق ختم کر کے میٹرک پاس افراد کو ووٹ کا حق دینے کی مہم چلا رہے ہیں،یہ پڑھ کر مجھے وہ لوگ بھی یاد آئے جو کہتے ہیں کہ مروجہ جمہوریت سے تو ایک صدی میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی،کیونکہ اس میں مختلف ہتھکنڈے استعمال کر کے پیسے والے اسمبلیوں میں پہنچ جاتے ہیں اور پھر من مانی کرتے ہیں وہ یا تو عوامی نمائندگی کو محدود کرنے کی بات کرتے ہیں یا پھر یہ کہتے ہیں کہ جمہوریت کو ختم ہی کر دیا جائے اور معاشرے سے اچھے افراد لے کر نظام حکومت اُن کے سپرد کر دیا جائے۔

دینی جماعتوں کی طرف سے یہ تجویز بھی بہت دیرینہ ہے کہ ملک میں اسلامی نظام نافذ کیا جائے اور تقویٰ و ایمانداری کو کسوٹی بنا کر عمال حکومت چنے جائیں۔

غور کیا جائے تو ان سب سے کوئی تجویز بھی قابلِ عمل نہیں مثلاً صالح اور ایماندار قیادت کیسے منتخب ہو گی،کون کرے گا، کیا ہم نے دیکھا نہیں کہ ضیاء الحق نے مجلس شوریٰ بنانے کے لئے صالح قیادت کے نام پر کیسے کیسے ہیرے قوم کو دیئے،جنہوں نے اب تک ملک و قوم کی جان نہیں چھوڑی۔

جمہوریت کو آئیڈیل بنتے وقت لگے گا، لیکن یہاں پر کوئی ایسا شارٹ کٹ ڈھونڈ رہا ہے جو راتوں رات جمہوریت کو مثالی نظام بنا دے، جن ممالک میں جمہوریت ایک مثالی نظام حکومت کے طور پر موجود ہے وہاں35 سال غیر نمائندہ حکومتیں نہیں رہیں، ہر پانچ دس سال بعد جمہوریت پر شب خون مار کر اُسے لہولہان نہیں کیا گیا،غور کیا جائے تو ہمارے ہاں جمہوریت کو کبھی بلوغت کی عمر تک پہنچنے ہی نہیں دیاگیا۔

بالغ ہونے کی عمر18 سال ہے، اس لئے ہمارا آئین اٹھارہ سال کے افراد کو ووٹ کا حق دیتا ہے۔ ہمارے ہاں کبھی جمہوریت مسلسل اٹھارہ سال تک قائم نہیں رہی، پانچ دس سال کے بعد اس پر آمریت کے حملے ہوتے رہے اور لڈو کے کھیل کی طرح وہ اوپر سے نیچے آتی رہی۔ اس وقت کو تو پیشِ نظر رکھا نہیں جاتا،البتہ جمہوریت کے خلاف فتویٰ ضرور جاری کر دیا جاتا ہے۔

پہلے تو سب کو یہ طے کر لینا چاہئے کہ جمہوریت کے سوا پاکستان میں کوئی نظام نہیں آ سکتا، صدارتی نظام یاشورائی نظام کی بخشیں فضول ہیں، جب یہ بات طے ہو جائے گی تو جمہوریت کو بہتر بنانے پر بھی سوچ بچار ہو گی، جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اَن پڑھ ووٹروں کی وجہ سے ملک میں اچھی قیادت منتخب نہیں ہو سکتی،وہ شاید اِس بات کو بھول جاتے ہیں کہ نمائندگی کا پھیلاؤ جتنا زیادہ ہو گا اتنا ہی میرے لوگوں کو منتخب ہونے میں مشکل پیش آئے گی۔

اگر یہ کہا جاتا ہے کہ لوگ پیسے کے زور پر غریبوں کے ووٹ خرید لیتے ہیں تو ذرا سوچو کہ اگر میٹرک پاس ووٹرز ہوں گے تو اُن کی کم تعداد کے پیش نظر اُنہیں خریدنا کس قدر آسان ہو گا۔

اب یہ کہنا کہ پڑھا لکھا ووٹر نہیں بکے گا، ایک خام خیالی ہے لوگ تو اسمبلی کا رکن بن کر بک جاتے ہیں ووٹر تو پھر ایک عام سا بندہ ہوتا ہے۔

اب بھی جو اچھے لوگ منتخب ہو جاتے ہیں اُس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ووٹرز ہزاروں میں نہیں، لاکھوں میں ہوتے ہیں،جنہیں پیسے یا اختیار کے ذریعے خریدناآسان نہیں ہوتا، ووٹروں کو محدود کرنے کا کوئی طریقہ استعمال کر کے جمہوریت کے معیار کو بہتر نہیں بنایا جا سکتا۔دُنیا میں جہاں جہاں آئیڈیل جمہوریت موجود ہے، وہاں جمہوریت کا تسلسل رہا ہے۔

یورپ اور امریکہ میں تو جمہوریت صدیوں کا سفر کر چکی ہے، ہمارے ہمسائے بھارت میں بھی جو پاکستان کے ساتھ ہی معرضِ وجود میں آیا جمہوریت اس لئے مستحکم ہوئی کہ وہاں مارشل لاء نے جمہوریت کو بار بار دیس نکالا نہیں دیا۔

اگر پاکستان کی جمہوریت بھی آج ستر برس کی ہوتی تو اس کی کئی خرابیاں خودبخود ختم ہو گئی ہوتیں،لیکن اُسے کبھی بڑا ہونے ہی نہیں دیا گیا، جمہوریت آج بھی ایک کم عمر دوشیزہ ہے،جس میں عقل و شعور کی کمی ہے اور جس سے ہر کوئی حظ اٹھانے کی فکر میں غلطاں نظر آتا ہے۔ اب ایک سوال یہ بھی ہے کہ بری جمہوریت کا سارا الزام ووٹر کو ہی کیوں دیا جاتا ہے۔

کیوں یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ ووٹرز ٹھیک ہو جائیں تو جمہوریت بھی آئیڈیل بن سکتی ہے جو انتخابات میں حصہ لیتے ہیں کوئی اُن سے پوچھے کہ ووٹرز کو رام کرنے کے لئے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔

انتخابات کے موقع پر عوام کا رویہ کیا ہوتا ہے اور اُن کا سامنا کرتے ہوئے کتنے خوف دامن گیر ہو جاتے ہیں۔کیا ہم اِس حقیقت کو نظر انداز کر سکتے ہیں کہ پاکستان میں انتخابات شفاف نہیں ہوتے اور عوام کے فیصلے کو تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

عوام کے فیصلے کو تبدیل کرنے کا مقصد ہی یہ ظاہر کرتا ہے کہ جو لوگ اسمبلی میں پہنچتے ہیں، وہ عوام کے حقیقی نمائندے نہیں ہوتے گویا حقیقی نمائندے وہ ہوتے ہیں جو ووٹ تو درحقیقت کم لیتے ہیں،کیونکہ انہیں عوام کے دیئے گئے ووٹوں سے محروم کر دیا جاتاہے،لیکن عوام کی اصل پسند وہی ہوتے ہیں، جو لوگ دھاندلی سے اسمبلی میں پہنچ جاتے ہیں اور جمہوریت کو اپنے کردار و رویے سے بدنام کرتے ہیں، تو یہی سمجھا جاتا ہے کہ عوام میں اچھے نمائندے منتخب کرنے کا شعور نہیں،حالانکہ انہوں نے تو اُن کا انتخاب کیا ہی نہیں ہوتا۔

اس بات پر بھی غور ہونا چاہئے کہ بُری جمہوریت کی ذمہ داری کیا صرف ووٹرز پر عائد ہوتی ہے، کیا سیاسی جماعتیں اور منتخب ہونے والے ارکان اس سے بری الذمہ ہوتے ہیں، کیا وہ بری الذمہ ہو سکتے ہیں۔

اگر سیاسی جماعتیں بُرے کردار کے حامل لوگوں کو ٹکٹ دے کر ووٹرز کے حقِ انتخاب کو ہی محدود کر دیں گی تو وہ کیسے اچھے لوگوں کا انتخاب کر سکیں گے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ ہمارے ہاں دو یا تین بُرے امیدواروں میں سے ووٹرز کو کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔

اب اس صورتِ حال کی موجودگی میں آپ ووٹرز کو پڑھا لکھا رکھیں یا اَن پڑھ، وہ کر ہی کیا سکتے ہیں۔ مثلاً آپ تحریک انصاف کے ووٹرز کی بابت سوچیں، جتنی بڑی تعداد میں ایم این اے اور ایم پی اے مسلم لیگ(ن) سے نکل کر تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں، اگر انہیں پارٹی ٹکٹ بھی مل جاتا ہے تو تحریک انصاف کا ووٹر کیا کرے گا۔

وہ اگر پارٹی وابستگی کی وجہ سے دوسری جماعتوں سے تحریک انصاف میں آئے ہوئے لوگوں کو ووٹ دیتا ہے تو اُس کی حقیقی رائے تو سلب ہو گئی،کیونکہ اُس نے تو ووٹ تبدیلی کے لئے دینا تھا، مگر اُسے امیدوار وہ دیا گیا جو اسٹیٹس کو کی علامت ہے۔ اب جمہوریت بہتر نہ ہونے کا ذمہ دار اُسے کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔

مانا یہ سب خرابیاں ہیں، مگر ان خرابیوں کو دور کرنے کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے،یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم سو کر اُٹھیں اور ہرطرف جمہوریت ایک آئیڈیل نظام کے طور پر موجود ہو، ہر شخص جوابدہ ہو اور مفاد پرستی ختم ہو چکی ہو۔

اس کے لئے وقت لگے گا اور جمہوریت کا تسلسل اس کی بنیادی شرط ہے۔ عوام کو تو پانچ سال بعد صرف ایک دن نمائندے منتخب کرنے کے لئے ملتا ہے، باقی ہزاروں دن تو اُن نمائندوں کے پاس ہوتے ہیں،جنہیں عوام نے ووٹ دیا ہوتا ہے، اصل ذمہ داری تو اُن کی ہے کہ وہ عوامی فیصلے کے مطابق جمہوریت کو ایک ثمر آور نظامِ حکومت بنائیں۔

اب کوئی یہ بتائے کہ اسمبلی کا کورم پورا نہ ہونے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ اُس ووٹرپر جس نے لائن میں لگ کے اُس نمائندے کو ووٹ دیا یا اُس نمائندے پر کہ جو منتخب ہونے کے بعد یہ بھول گیا کہ اُسے عوام نے اپنی نمائندگی کے لئے اسمبلی میں بھیجا ہے اور اسمبلی میں نہ جا کر وہ دراصل عوام کے مینڈیٹ کی توہین کر رہا ہے۔آج نواز شریف ووٹ کی عزت کے حوالے سے بڑی مہم چلا رہے ہیں اُن کے نزدیک ووٹ کی عزت بس یہ ہے کہ منتخب وزیراعظم کو ہر قیمت پر وزیراعظم رہنے دیا جائے، چاہے اُس پر کرپشن اور بددیانتی کے الزامات ہی کیوں نہ ہوں،لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ووٹ کی عزت کو اس طرح پامال کیا کہ پارلیمینٹ ایک غیر متعلق ادارہ بن کر رہ گئی۔

انہوں نے سینیٹ یا قومی اسمبلی کو کبھی اہمیت نہ دی۔دو چار بار اجلاسوں میں شرکت کر کے یہ سمجھ لیا گیا کہ وہ جمہوریت کے بہت بڑے علمبردار ہیں، شاید وہ پاکستانی تاریخ کے واحد وزیراعظم ہیں جنہیں سینیٹ میں بلانے کے لئے باقاعدہ قرارداد منظور کی گئی۔

کوئی بتائے کہ پارلیمینٹ مضبوط نہیں ہو گی تو جمہوریت کیسے مضبوط ہوگی۔ پارلیمینٹ کی بالادستی کے خوش نما نعرے سے تو جمہوریت مضبوط اور عوام کے لئے مفید ثابت نہیں ہو گی، اس کے لئے تو عملی اقدامات کی ضرورت ہے،جمہوری حکومت جب فیصلے پارلیمینٹ کی منظوری سے کرتی ہے تو اُن میں جان بھی ہوتی ہے اور قانونی حوالے سے اُن کے پیچھے عوام کی طاقت بھی موجود ہوتی ہے،مگر یہاں تو اقتدار میں آنے کے بعد ایک طرف عوام کو بھلا دیا جاتا ہے اور دوسری طرف پارلیمینٹ کو غیر متعلقہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

پاکستان میں آئیڈیل جمہوریت لانے کا کوئی شارٹ کٹ نہیں،اس کے لئے ایک طویل ریاضت، جدوجہد اور جمہوریت کے تسلسل کی ضرورت ہے،لیکن ہمارے پاس اس کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں کہ ملک میں جمہوریت چلتی رہے۔

اس کے متبادل کوئی نظام ہمارے مسائل کا مداوا نہیں ہو سکتا،بڑی مشکل سے آمریت کا راستہ بند ہوا ہے، اب کچھ لوگ اگر کسی دوسرے ذریعے سے جمہوریت پر تسلط قائم کرنے کے در پے ہیں تواُن کا راستہ پوری قوت سے روکنے کی ضرورت ہے۔