سلیم الرشید کا بربادی ہی بربادی کی نقاب کشائی کرتا مضمون آزادی نیوزلیب پر

سلیم الرشید کا بربادی ہی بربادی کی نقاب کشائی کرتا مضمون آزادی نیوزلیب پر

مقروض آدمی آزادی مانگے گا بھی تو خیرات کے سے انداز میں، جہاں مردوں کی غیرت سو جائے وہاں عورتوں میں حیا مر جائے گی۔۔ ایسی آزادی سے اللہ کی پناہ!!

آزادی کا مفہوم آج آزاد قوموں کے فہم سے بھی باہر ہے۔ انسان کا کام ہی کیا ہے آزادی سے؟ آزادی لے کے کرے گا ہی کیا؟ آزادی آخر کس سے؟ بلکہ آزادی کس کس سے؟ سب سے بد ترین غلامی نفس کی غلامی ہے جو انسان کی آزادی مکمل طور پہ سلب کر لیتی ہے۔
دنیا میں اس وقت بظاہر کتنی قومیں آزاد ہیں مزید سوچیں تو پتہ چلے کہ کتنی قومیں غلام ہیں۔ غلام قوم آزاد ہو بھی جائے تو غلامانہ سوچ جاتے جاتے دوبارہ غلامی آن پڑتی ہے۔بس پھر سے غلامی کا دور دورہ اور پھر سے آزادی کی تحریکیں۔۔
آزادی تو ابلیس کا پہلا مطالبہ تھا ہم کیسی آزادی چاہتے ہیں ہمیں سوچنا چاہئیے۔ بے لگام آزادی کا نتیجہ بربادی ہی بربادی ہے۔ انسان پہلے آزادی مانگتا ہے پھر اختیار مانگتا ہے بس پھر اختیار ملنے کے بعد وہ انسان نہیں رہتا وہ آزاد نہیں رہتا شتر بے مہار بن جاتا ہے۔
شیر جنگل میں خوش، مچھلی پانی میں خوش، پرندے آزاد فضاؤں میں خوش، مومن خانہء خدا میں خوش اور عیاش غیر ضروری آزادی میں خوش۔سب خوش۔۔مگر سب آزاد نہیں۔ محض آزادی خوشی کا نام نہیں، قناعت خوشی کا نام ہے، انسانی برداشت جہاں ختم ہوتی ہے آزادی کی تحریک وہیں سے شروع ہوتی ہے ۔
عقلمند جانور ایک کان سے بات سنتا ہےاور کچھ سوچنے کے بعد ہی دوسرا کان ہلاتا ہے، صاحبِ وصف انسان کان سے نہیں دل سے سنتا ہے، دل کی سنتا ہے اس کے دل میں ہی اس کے کان ہیں اس کے دل میں ہی آنکھیں ہیں۔ سائنس والوں کو یہ بات مضحکہ خیز لگے گی صرف اس لیئے کہ ان کے دلوں کے کان اور آنکھیں نہیں ،وہ آزاد نہیں ،وہ قاعدوں کلیوں کے پابند ہیں انکی سوچیں آزاد نہیں اور جہاں سوچیں آزاد نہیں وہاں آزادی خود آزاد نہیں۔
دُھول نے اُڑ کر کہاں جانا ہے؟ دُھول جہاں سے اٹھے گی دُھول وہیں بیٹھے گی بس دل کو تسلی دینے والی بات ہے۔ انسان کی اپنی ہی مثال لے لیں کھنکھناتی مٹی سے بننے والی یہ انسانی مشین تھی آج یہ مشینی انسان اسی مٹی سے خود کو بچاتا ہے مٹی کا پرزہ مٹی سے آزادی چاہتا ہے۔ کبھی مکڑی کو جالا بنُتے دیکھا ہے؟ مکڑی کیلئے وہ جالا نہیں گھروندا ہے، کسی اور کیلئے وہ جالا نہیں مکمل جال ہے مکڑی ہمیں اس میں قید نظر آتی ہے اپنی نظر میں وہ وہاں آزاد ہوتی ہے، اپنا اپنا اندازِ نظر ہے۔ جیسے بادشاہت کو اگر کسی سے خطرہ ہے تو بادشاہوں سے ہے اسی طرح اگر آزادی کو کسی سے خطرہ ہے تو وہ بے لگام آزاد لوگوں سےہے۔
مقروض آدمی آزادی مانگے گا بھی تو خیرات کے سے انداز میں، مقروض قوم کی آزادی ہر وقت خطرے میں رہے گی۔ جہاں مردوں کی غیرت سو جائے گی وہاں عورتوں میں حیا مر جائے گی۔۔ ایسی آزادی سے اللہ کی پناہ!!!
عبادت میں آزادی ہے، مسجدیں ویران ہیں۔ یہ قوم کتنی آزاد ہو گئی ہے کے مسلمان کوئی ملتا نہیں اور ہر طرف اسلام ہی اسلام کی باتیں ہو رہی ہیں ہر طرف فتوے دیئے جا رہے ہیں ، بات بات پہ حوالے دیئے جا رہے ہیں، حوالے مانگے جا رہے ہیں، حوالے کے علاوہ بات ہی کوئی نہیں جب اس قدر حوالے تو پھر ہم بھی اللہ کے حوالے۔۔
آپ آزادی کس سے چا ہتے ہیں؟افسر سے؟ بیوی سے؟امریکہ سے؟ اپنے خدا سے؟ تو جائیں آپ آزاد ہیں خدا کو بھی ایسے بندے نہیں چاہئیں ایسی بندگی نہیں چاہیئے۔
بیوی کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وُہ خاوند کی تابعداری کرے اس تابعداری میں وہ آزاد ہے عورت کےلیئے اتنی آزادی بہت ہے کہ وہ خاوند کے کہے پہ عمل کرے ، روکے سے رُک جائے۔ اولاد والدین سے آزادی چاہتی ہے۔ والدین اولاد کی آزادی سے پریشان ہیں یہاں طلباء پڑھائی سے آزادی چاہتے ہیں ایسے بھی طلباء ہیں جو نتیجہ آنے کے بعد پڑھائی شروع کرتے ہیں یہ کیا ہو گیا ہے ہر طرف آزادی ہی آزادی ہے ہر کوئی اتنا آزاد ہو گیا ہے کہ خود آزادی شرمندہ ہے۔دنیا میں ہنسی کی زبان ایک ہی ہے، دنیا میں ہر قوم کا رونا ایک بھی طرح کا ہے۔ دنیا میں آزادی کے انداز مختلف ہیں آزاد قومیں اگر پریشان ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے حصولِ آزادی کے مقاصد کو بھُلا دیا ہے اسی لیئے آزادی کے ثمرات محسوس نہیں ہو رہے۔ آزادی کا مزہ آئے بھی تو کیسے جب آزاد لوگ کئی ٹکڑوں میں بٹ جائیں۔ جہاں آزادی کو بے لگام آزادی حاصل ہو گی وہاں غلامی کا دور آنے والا ہے۔ آزادی کا فقط دن منانے کی بجائے اگر ہر دن اپنے آزاد ہونے کا شکر ادا کر کے اسکی غلامی کی جائے تو آزادی قائم رہے گی۔ جہاں آزادی فقط منانے کیلیئے ایک دن بچانا پڑے تو سمجھ لیں کہ آزادی کو بچانے کے دن آگئے
تحریر وتہذیب:محمد سلیم الرشید