سخت کرفیو توڑ کر کشمیری سڑکوں پر آ گئے،’’بھارت واپس جاؤ‘‘ کے نعرے

سخت کرفیو توڑ کر کشمیری سڑکوں پر آ گئے،’’بھارت واپس جاؤ‘‘ کے نعرے

سرینگر(نیوز لیب ویب ڈیسک) مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد شہریوں کی بڑی نے سرینگر میں زبردست مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ’’بھارت واپس جاؤ‘‘ کے نعرے لگائے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد کشمیری شہریوں کی بڑی تعداد نے کرفیو توڑتے ہوئے زبردست مظاہرہ کیا، مظاہرے میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔

مظاہرین نے’’بھارت واپس جاؤ‘‘،’’بھارتی آئین نا منظور‘‘ اور ’’ہم کیا چاہتے آزادی‘‘ کے بلند شگاف نعرے لگائے۔ بھارتی پولیس نے دعویٰ کیا کہ سورا میں ایک وقت پر 10 ہزار سے زائد شہریوں نے شدید احتجاج کیا۔

خبر رساں ادارے کے مطابق اس دوران بھارتی قابض فوج نے پیلٹ گن کا بے دردانہ استعمال کیا جس سے بچوں، خواتین سمیت شہریوں کی بڑی تعداد زخمی ہو گئی۔ 52 کے قریب افراد کو سرینگر کے ہسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ کچھ زخمیوں کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ ان کی حالت نازک ہے۔

ہم ڈرنے والے نہیں،زخمی شہریوں کے حوصلے بلند ہسپتال میں زیر علاج کچھ زخمیوں کے حوصلے بلند ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم ڈرنے والے نہیں، ہم اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے اور کسی صورت میں بھی مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت کو ختم کیے جانے کو نہیں مانیں گے۔

سرینگر میں مظاہرے کے دوران جب پولیس کی بڑی تعداد مظاہرین کو پکڑنے کے لیے پیچھے بھاگی تو کچھ نوجوانوں نے جان بچانے کے لیے دریا میں چھلانگ لگا دی جس سے ایک نوجوان زندگی کی بازی ہار گیا۔

قابض پولیس کا کہنا پانچ روز سے شہریوں کے مظاہرے بڑھتے جا رہے ہیں، یہ صورتحال پر تشدد ہوتی جا رہی ہے، ایک ہفتے کے دوران 150 کے قریب مظاہرے ہو چکے ہیں،

اُدھر مقبوضہ کشمیر میں چھٹے روز بھی کرفیو اور دیگر پابندیاں جاری ہیں، وادی کا بیرونی دنیا سے رابطہ معطل ہے، خوراک اور ادویات کی قلت کی وجہ سے شہریوں کو سخت تکلیف کا سامنا ہے۔ جنت نظیر بھارتی فوجیوں کے حصار میں ہے، کشمیری گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے، وادی میں ٹیلی وژن، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی سہولیات معطل ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ روز ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا، پولیس کی فائرنگ سے درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔ سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق سمیت تقریباً تمام حریت رہنما گھروں اور تھانوں میں نظر بند ہیں۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں بھی طلبہ سمیت دیگر سول سوسائٹی کی بڑی تعداد مقبوضہ کشمیر کی عوام کی حمایت میں سامنے آ گئی۔ مظاہرین نے کالے رنگ کی پٹیاں باندھی ہوئی تھیں، یہ احتجاج نئی دہلی کے علاقے جنتر منتر میں کیا گیا۔

نئی کے مشہور چوک میں دہلی یونیورسٹی، جامعہ اسلامیہ، جواہر لعل نعرو یونیورسٹی سمیت کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں کے طلبہ سمیت سول سوسائٹی کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ چھ روز سے ہم اپنے گھر والوں سے بات نہیں کر پائے۔ پونچھ سے تعلق رکھنے والے ایک طالبعلم کا کہنا تھا کہ مقبوضہ وادی میں کرفیو ختم کیا جائے۔ فائق فیض کا کہنا تھا کہ بھارتی فیصلہ کسی صورت قبول نہیں۔

امریکی کانگریس کے رکن تھامس سوزی نے بھی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیوکو خط لکھا ہے، خط میں مائیک پومپیو کو کشمیرکی صورتحال پر نوٹس لینے کا کہا گیا ہے۔ تھامس سوزی نے پوچھا کہ مودی کے فیصلے کے بارے میں امریکا کیا کرے گا۔

نیو یارک میں بھارتی قونصلیٹ کے سامنے سکھوں سمیت کئی ممالک کی مسلم تنظیموں نے بھی احتجاج کیا، مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ متنازعہ اقدام واپس لیا جائے۔ اقوام متحدہ اور عالمی ادارے مداخلت کر کے اپنا کردار ادا کرے۔

برطانیہ میں بھی کشمیریوں کی بڑی تعداد نے مظاہرہ کیا اور بھارت مخالف نعرے لگائے۔ شہریوں نے پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا ہوا تھا’’کشمیریوں کا قتل عام‘‘ بند کیا جائے۔ ’’ہم کشمیر کے ساتھ کھڑے ہیں‘‘۔ ’’مودی فاشسٹ ہے‘‘۔ ’’کشمیر پر بھارتی قبضہ ختم کیا جائے‘‘۔

برطانوی پارلیمنٹ کے ممبر جیس فلپ نے سیکرٹری داخلہ ڈومینک راب کو خط لکھا ہے جس میں مطالبہ کیا ہے کہ برطانیہ کو اس معاملے میں آگے آنا چاہیے۔ 38 ہزار کے قریب فوجیوں کو وادی میں بھیجا گیا ہے، یہ دنیا کا سب سے خطرناک مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ حریت رہنماؤں کو گھر میں نظر بند کیا گیا ہے۔ پاکستان اور بھارت اس تنازع پر مذاکرات کریں۔

برسلز میں کشمیر کونسل یورپ کے چیئر مین علی رضا سیّد نے بھی بھارتی فیصلے کیخلاف احتجاج کیا اور مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کی شدید مذمت کی۔

دریں اثناء نیشنل کانفرنس نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کیے جانے کے فیصلے کو چیلنج کر دیا ہے۔ نیشنل کانفرنس کی طرف سے ملکی سپریم کورٹ سے کہا گیا ہے کہ وہ مودی حکومت کے اس فیصلے کو مسنوخ کرے، جس کے تحت چند روز قبل جموں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کا اعلان کر دیا گیا تھا۔

درخواست میں نیشنل کانفرنس کی طرف سے بھارتی سپریم کورٹ سے کہا گیا ہے کہ جموں کشمیر کو بھارتی دستور کے تحت ایک خاص آئینی حیثیت حاصل ہے، جس کے خاتمے کا نئی دہلی میں مودی حکومت کا حالیہ فیصلہ اس لیے غیر آئینی ہے اور فوراﹰ منسوخ کیا جانا چاہیے کیونکہ اس کے لیے مرکزی حکومت نے جموں کشمیر کی ریاستی اسمبلی کی رضا مندی حاصل کرنے کے بجائے یہ فیصلہ یکطرفہ طور پر کیا ہے۔