زیادہ بیٹھنا ذہانت کے لیے نقصان دہ

زیادہ بیٹھنا ذہانت کے لیے نقصان دہ

اپنا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا ذہانت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ سست طرز زندگی دماغ کے ان حصوں کو چھوٹا کرتا ہے جو کہ یاداشت تشکیل دینے کے لیے ضروری ہے۔

اس میں زیادہ دیر تک بیٹھنے کے نقصانات میں ایک اور خطرے کا اضافہ کردیا گیا ہے۔

اس سے پہلے متعدد شواہد سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا نقصان دہ عادت ہے جو کہ امراض قلب، ذیابیطس، متعدد اقسام کے کینسر اور قبل از وقت موت کا خطرہ بڑھاتی ہے۔

اس نئی تحقیق میں محققین نے 35 رضاکاروں کی خدمات حاصل کیں اور معلوم ہوا کہ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا غبی بنانے کے ساتھ ساتھ ڈیمینشیا جیسے جان لیوا مرض کا باعث بن سکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق سست طرز زندگی سے دماغی گرے میٹر کم ہوتا ہے، چاہے وہ دن بھر میں کچھ دیر کے لیے چہل قدمی ہی کیوں نہ کرتے ہوں۔

دماغ کے ان حصوں کے حجم میں کمی الزائمر کی ابتدائی علامات میں ظاہر ہوتی ہے۔

اس تحقیق میں 45 سے 75 سال کی عمر کے افراد سے ان کے طرز زندگی کی تفصیلات معلوم کی گئیں۔

ہر فرد کو ایم آر آئی اسکین سے گزارا گیا تاکہ دماغ کے اس حصے کی تفصیلات جانی جاسکیں جو کہ نئی یادوں کو تشکیل دینے میں مدد دیتا ہے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے والے افراد کے وہ دماغی حصے پتلے ہوتے ہیں، چاہے وہ جسمانی سرگرمیوں کو اپناتے کیوں نہ ہو۔

محققین نے خبردار کیا کہ تحقیق سے یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ بہت زیادہ بیٹھنا دماغی اسٹرکچر کو پتلا کرتا ہے، تاہم اس سے عندیہ ملتا ہے کہ بہت زیادہ بیٹھنا دماغ کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔

اس سے بچنے کے لیے زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے سے گریز کرنا چاہئے۔

اس سے قبل ماضی کی تحقیقی رپورٹس میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ جسمانی سرگرمیوں اور ہپوکیمپس کے درمیان تعلق موجود ہے جو کہ یاداشت بشمول چہرے اور اشیاءپہچاننے اور زبان سیکھنے میں مدد دیتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج جریدے PLOS One میں شائع ہوئے۔