زندگی کے ہر لمحے سے لطف اندوز ہوں اور خوش رہیں

زندگی کے ہر لمحے سے لطف اندوز ہوں اور خوش رہیں

سوچنے اور دماغ سے کام لینے میں کوئی حرج تو نہیں، تاہم بہت زیادہ سوچنا بھی ایک مسئلہ ہے اور بہت سی پریشانیوں کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ صورتحال اس وقت مزید پریشان کر سکتی ہے جب آپ سوچتے سوچتے منفی خیالات کے نرغے میں آجائیں اور ایک اچھے کام یا اچھے موقع کو منفی سوچوں کی نذر کردیں۔

اسی طرح چھوٹی چھوٹی اور بے معنی چیزوں کے بارے میں سوچتے رہنا آپ کا سکون برباد کردیتا ہے اور آپ ہر وقت ذہنی تناؤ میں مبتلا رہتے ہیں۔

اگر آپ بھی اس عادت کا شکار ہیں تو آئیں آج ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ بہت زیادہ سوچنے کی عادت سے کیسے چھٹکارہ پایا جائے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ چھوٹی موٹی باتوں کو نظر انداز کر کے زندگی کے لمحات سے لطف اندوز ہوا جائے اور خوش رہا جائے۔

تصور کریں کہ سنہ 2019 آپ کی زندگی کا آخری سال ہے۔ اب آپ کیا کریں گے؟ یقیناً آپ اپنی وہ خواہشات پوری کرنا چاہیں گے جو آپ کب سے دل میں دبائے بیٹھے ہیں اور آپ کے پاس لوگوں سے لڑنے جھگڑنے کا وقت نہیں ہوگا۔

اس خیال کو سوچتے ہوئے اپنے پسندیدہ کام کریں، نئے دوست بنائیں، تفریحی مقامات پر جائیں، کتابیں پڑھیں، پرانے دوستوں سے رابطہ کریں، غرض ہر وہ کام کریں جو آپ اپنی زندگی میں کرنا چاہتے ہیں۔

ان سرگرمیوں میں مصروف ہو کر آپ کے پاس سوچنے، منصوبہ بندی کرنے اور اس کے منفی پہلوؤں پر نظر رکھنے کا وقت کم ہوگا۔

ہم اپنی زندگی میں بہت سے کام کرنا چاہتے ہیں لیکن اپنے خوف یا ’لوگ کیا کہیں گے‘ کی وجہ سے انہیں نہیں کر پاتے۔ اس خوف کو نکال پھینکیں اور رسک لیں۔ وہ کام کریں جو پہلے کبھی نہیں کیے۔

بالوں اور ڈریسنگ کا نیا انداز اپنائیں، نئے کھانے چکھیں۔ اپنی سرگرمیوں کا دائرہ کار بڑھائیں۔بائیک رائیڈنگ، سائیکلنگ، جمنگ، یوگا یا تیراکی وغیرہ بھی کی جاسکتی ہے۔ اگر آپ کھانا پکانا سیکھنا چاہتے ہیں تو فارغ وقت میں یہ کام کریں۔ دراصل یہ تمام کام آپ کو مصروف رکھیں گے اور آپ کے پاس اتنا وقت نہیں ہوگا کہ آپ باتوں کو بار بار سوچیں اور ان کے منفی مطالب نکالیں۔

لوگوں سے اپنی توقعات لگانا کم کردیں۔ آج کل کی مصروف زندگی میں کسی کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ آپ کو خصوصی طور پر وقت دے۔

چھوٹی چھوٹی باتوں کو درگزر کرنا اور سنجیدگی سے لینا چھوڑ دیں۔ ہنسیں مسکرائیں، زندگی کے معمولی لمحات سے لطف اٹھائیں اور خوش باش رہیں۔