زائد المعیاد غذا کھانے والا امریکی شہری

زائد المعیاد غذا کھانے والا امریکی شہری

واشنگٹن(نیوزلیب ویب ڈیسک) امریکی شہری نے مہینوں پرانی غذائیں کھاکر اپنی کیفیات اور تجربے پر بلاگ تحریر کردیا، پہلی مرتبہ اسکاٹناش نامی شہری نے چھ ماہ پرانا دہی کھایا تھا جس کا ذائقہ تبدیل ہوچکا تھا البتہ اسکاٹ کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔

تفصیلات کے مطابق عام طور پر لوگ بازار یا دکان سے کوئی خریدتے ہیں تو پہلے اس کی ایکسپائری ڈیٹ یعنی زائد المعیاد ہونے کی چیزیں دیکھتے ہیں کیونکہ ذہنوں میں یہ بات ثبت ہے کہ زائدالمعیاد چیزیں کھانے سے انسان کو کوئی نقصان یا طبی امراض لاحق ہوجاتے ہیں لیکن ریاست میری لینڈ کے رہائشی اسکاٹناش نے ان باتوں کو غلط ثابت کردیا۔

اسکاٹناش نےجو خود ایک ماحولیات اور معروف فوڈ اسٹور کے مالک ہیں کاکہناتھا کہ بعض اشیاء ایسی ہوتی ہیں جن پر ایکسپائری ڈیٹ لکھنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی جیسے شہد، نمک وغیرہ۔۔۔۔

ان کا کہنا تھا کہ نمک ایسی شے ہے جو خود کروڑوں برس قدیم ہے پھر کوئی کیسے اس کے ایکسپائر ہونے کی تاریخ طے کرسکتا ہے؟

انہوں نے بتایا کہ کمپنیاں و فوڈ اسٹور اشیاء پر ایکسپائری ڈیٹ اس لیے لکھتے ہیں تاکہ صارفین انہیں جلدی جلدی تلف کریں اور اسٹورسے نئی چیزیں خریدیں جس سے کمپنیوں کو فائدہ ہو اور مسلسل منافے میں اضافہ ہوتا رہے۔

اسکاٹ کا کہنا تھا کہ رنگ،بو، ذائقہ تبدیل ہوجائے تو اشیاء کو پھینک دیا جاتا ہے لیکن بہت سے ایسے افراد بھی ہیں جو کھانوں کی مقررہ تاریخ ختم ہونے کے بعد ضائع کردیتے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ اسکاٹناش خود پر کیے گئے تجربے کے دوران گوشت کی معیاد ختم ہونے کے ایک ہفتہ بعد، چھ ماہ پرانا دہی ، 1 سال پرانی روٹیاں کھاچکے ہیں اور اپنے اہل خانہ کو بھی کھلا چکے ہیں جبکہ ایکسپائری ڈیڈ ختم ہونے کے بعد کریم کا استعمال بھی کرچکے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی شہری تجربے کےلیے ایسا زائد المعیاد مکھن بھی کھا چکا ہے جس پر پھپھوند آچکی تھی تاہم اسکاٹ کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔

امریکی شہری کا کہنا تھا کہ اشیاء پر ایکسپائری تاریخ لکھنے کا رواج ختم ہوناچاہیے یا پھر اس کا مقصد بیان ہونا چاہیے اور اشیاء پر (Best if Use by) یا پھر (Used By) لکھا ہونا چاہیے۔

اسکاٹ کا کہنا تھا کہ میرا بلاگ تحریر کرنے کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ آپ زائد المعیاد اشیاء کا استعما ل شروع کردیں۔

بشکریہ:اے آر وائے نیوز