ریاست کا یتیم خانہ

ریاست کا یتیم خانہ

شرم کا مقام یہ ہے کہ 22 کروڑ کو چھوتی ہوئی آبادی میں ٹیکس گزاروں کی تعداد انتہائی کم ہے۔ پاکستانی ریاست سے لطف اندوز ہونے والے جو کما رہے ہیں، اس میں سے ریاستی حصہ ادا کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

پاکستان کے بازاروں اور سڑکوں پر رونق ہے، ہوٹل بھرے رہتے ہیں، ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔

نئے سے نئے شادی گھر تعمیر ہو رہے ہیں، بعض مقامات پر ون ڈش کی پابندی کے باوجود لاکھوں روپے ضیافتوں کی نذر ہوجاتے ہیں۔ سرکاری
دفاتر میں مہمان نوازی کے نام پر دستر خوان سجے رہتے ہیں ۔
جہاں بھی چلے جائیں ریل پیل اور رونق میلہ ہے۔ ہر بڑے چھوٹے شہر کو ہاؤسنگ سوسائٹیوں نے لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ بڑے بڑے شہروں کے بیچوں بیچ فارم ہاؤس تعمیر ہو رہے ہیں اور ایک ایک شخص درجنوں کیا سینکڑوں افراد کا زمینی حصہ ہڑپ کئے بیٹھا ہے۔

عالی شان کوٹھیاں تعمیر ہو رہی ہیں، پراپرٹی ڈیلروں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، لیکن ملکی خزانے میں وہ کچھ نہیں پہنچ رہا جو اس کا حق ہے۔

ایک عرصے سے کاروبار مملکت قرض پر چلایا جاتا رہا ۔ پاکستان کا محل وقوع اس کی معیشت کو سنبھالنے کا ذریعہ بنا رہا ۔ قرض لینا بری بات نہیں، بشرطیکہ اسے کاروباری، تجارتی یا صنعتی مقاصد کے لئے لیا جائے۔ ایسا قرض لینے والے اسے بآسانی واپس کر دیتے ہیں اور اپنی قسمت بھی تبدیل کر گزرتے ہیں۔۔۔ ایک زمانے تک پاکستان بھی بیرونی وسائل کو اندرونی وسائل کی کشادگی کے لئے استعمال کرتا اور آگے بڑھتا رہا۔۔۔ لیکن پھر یہ ہوا کہ غیر پیداواری قرضے لئے جانے لگے۔ قرضوں کی بہتی گنگا میں ہاتھ اس طرح دھوئے گئے کہ ان کی واپسی کے لئے بھی قرض لیا جاتا رہا (اور لیا جا رہا ہے)

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اب پاکستانی معیشت کا سائز بہت بڑھ چکا ہے، لیکن یہ اس سے سو گنا بڑھ سکتا تھا، اگرکفایت شعاری اور ذمہ داری سے کام لیا جاتا۔ اس دوران پاکستانی ریاست کو کئی صدمے بھی برداشت کرنا پڑے، بڑا حصہ بڑی خونریزی کے بعد الگ ہوا۔ مشرقی پاکستان خون میں نہا کر بنگلہ دیش بنا اور ہمارے چہرے پر ایک ایسا داغ لگا گیا کہ دھوئے نہیں دھلتا۔

’’نئے پاکستان‘‘ میں بڑے بڑے صنعتی اداروں پرسرکار قابض ہوگئی۔ بھٹو مرحوم کی اس پالیسی نے ہماری معیشت کی وہ درگت بنائی کہ الحفیظ الامان، ابھی تک اس کے اثرات سے جان نہیں چھوٹ سکی۔ سرمایہ کاروں کو رسوا کیا گیا،ان کے جہاں سینگ سمائے، وہاں چلے گئے۔ وہ دن جائے اور آج کا آئے، پاکستان خالی ہاتھ ہے۔

وہ برآمدات کے قابل مصنوعات تیار نہیں کر پایا۔ جاپان، جنوبی کوریا، ملائیشیا، تائیوان کہاں سے کہاں نکل گئے اور ہم ابھی تک خاک چاٹ رہے ہیں۔ ہماری برآمدات سے بنگلہ دیش کی برآمدات بھی بڑھ چکی ہیں۔

نوازشریف منظر عام پر ابھرے تو تعلیم اور صحت کے شعبوں میں نج کاری کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ کم پڑتے وسائل نے ان شعبوں میں سرکار کی موجودگی کو کم سے کم کر دیا۔ اس کا نتیجہ آج سامنے ہے۔

تعلیم مہنگی ہوچکی، سرکاری تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کی بحالی آسمان سے تارے توڑ کر لانے کے مترادف ہو چکی۔ مقامِ آہ و فغاں کوئی ایک توہے نہیں۔۔۔’’تن ہمہ داغ داغ شد، پنبہ کجا کجا نہم‘‘۔۔۔ بہرحال لشٹم پشٹم آگے کا سفر جاری ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے جہاں ٹیکس اصلاحات کی ہیں، وہاں اندرون اور بیرون ملک موجود پاکستانیوں کی دولت کو بھی قومی معاشی دھارے میں واپس لانے کی سعی کی ہے۔

اس پر اپوزیشن جماعتوں نے ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے۔ عمران خان صاحب نے اسے ’’چوروں‘‘ کو نوازنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے برطانیہ میں اپنا فلیٹ اسی طرح کی ایک ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈکلیئر کیا تھا۔بہرحال معاشی ماہرین کی بھاری تعداد اس اقدام کی حمایت کررہی ہے۔

ضروری یہ ہے کہ جو بھی اقدام ہو، اسے پارلیمنٹ کے ساتھ ریاستی اداروں کی اشیر باد بھی حاصل ہو۔ اگر عدالتوں نے اس میں دخل اندازی شروع کردی تو پھر یہ سکیم سانس لینے سے پہلے ہی دم توڑ جائے گی۔ سپریم کورٹ کے فاضل چیف جسٹس نے اس معاملے کا سوموٹو نوٹس لے رکھا ہے۔

کوشش ہونی چاہیے کہ جو کچھ کیا جارہا ہے، اس پر عدالتی مہر لگ جائے تاکہ استفادہ کرنے والے اطمینان قلب کے ساتھ کام کرسکیں۔ ان کے لئے بھی یہ سنہری موقع ہے کہ اب دنیا بھر میں سرمائے کا شجرہ نسب دریافت کیا جارہا ہے۔ پاکستان سے لے جائی جانے والی دولت پر وہاں بجلی گرسکتی ہے، اس لئے اگر ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھالیا جائے گا، تو یہ خود اہل سرمایہ کے شدید ترین مفاد میں ہوگا۔

پاکستان سے سرمایہ باہر لے جانے کی ایک بڑی وجہ بھٹو عہد کی نیشنلائزیشن سے پیدا ہونے والی بے یقینی ہے۔ اب اس طرح کی کوئی صورت حال پیدا ہونے کا امکان تو نہیں ہے، لیکن تحفظ کا احساس ہر ممکن حد تک دلایا جانا چاہیے۔

اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ بھی فیصلہ کرلیا جائے کہ اس ایمنسٹی سکیم سے فائدہ نہ اٹھانے والوں کے ساتھ پوری شدت اور طاقت سے نبٹا جائے گا اور ہر ایسی جائیداد(یا سرمایہ) جسے ڈکلیئر نہ کیا گیا ہو، اسے مکمل طور پر بحق سرکار ضبط کرلیا جائے گا۔

اس کے لئے پوری قوم کو متحرک کرنا ہوگا کہ جو شخص ایسی کسی جائیداد کا سراغ لگا کر اس کی اطلاع فراہم کرے ، اس کا ایک بڑا حصہ اس کو بطور انعام دے دیا جائے ۔ پاکستانی ریاست کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہے تو اسے اپنے ہر شہری کے کاروبار سے ہر قیمت پر اپنا حصہ وصول کرنا ہوگا۔ ملک یتیم خانوں کی طرح چلائے نہیں جاسکتے۔