رانی مکر جی کی ہچکی بار بار دیکھنے کو جی چاہے گا

رانی مکر جی کی ہچکی بار بار دیکھنے کو جی چاہے گا

’ہچکی‘ دوستوں پھر بچپن کے دوستوں، پھر آفس کے ساتھیوں، پھر اپنے بچوں اور گھر والوں، اپنے والدین اور اسٹوڈنٹس اور ٹیچرز سب کے ساتھ بار بار دیکھنے والی فلم ہے۔
فلم ایک ایسی خاتون کی کہانی ہے جو ’استانی‘ بن کر ہنر، پڑھائی اور اپنے آپ کو گھر والوں اور دنیا بھر کے سامنے ثابت کرنا چاہتی ہے۔ اس خاتون کو بچپن سے ’ٹارٹ سینڈروم‘ یعنی ایسی دماغی بیماری ہے جس میں ہر چند منٹ بعد ہچکیوں جیسی آوازیں گلے سے نکلتی ہیں اور ان آوازوں کو کنڑول بھی نہیں جاسکتا۔
فلم ’ہچکی‘ نے اس مشکل بیماری کے بارے میں آگاہی بھی بہت آسانی سے دیکھنے والوں کو دی، اس سے پہلے عامر خان اور درشیل سفاری ’تارے زمین پر‘ کے ذریعے لوگوں کو ’ڈائی سلیکسیا‘ کے بارے میں بھی فلم کا میڈیم استعمال کرکے بتاچکے ہیں۔
’تارے زمین پر‘ میں بھی اسکول کی کہانی تھی جہاں ایک ٹیچر اپنے مختلف انداز کی وجہ سے تمام بچوں کا فیورٹ ہوجاتا ہے یہاں بھی کہانی ایک ایسی ہی ٹیچر کے گرد گھومتی ہے۔ ’تارے زمین پر‘ میں فلم دیکھنے والوں کا دل درشیل سفاری کے ساتھ جُڑ جاتا ہے یہاں فلم دیکھنے والے رانی کے بچپن سے اس کا درد محسوس کرنا شروع کردیتے ہیں۔
فلم کے آغاز میں انٹرویوز میں مسترد ہونے کے بعد جب رانی کا بچپن دکھایا جاتا ہے تو فلم دیکھنے والوں کو ایسا جکڑتی ہے کہ آپ انٹرویل میں بھی باہر جا کر بریک لینا نہیں چاہتے اور نہ ہی ’دی اینڈ‘ کے بعد آپ کو باہر جانے کی جلدی ہوتی ہے۔
فلم کے اینڈ کے ساتھ ہی آپ کی آنکھیں نم، چہرے پر مسکراہٹ اور ہاتھ تالیاں بجا بجا کر فلم بنانے والوں اور اس میں کام کرنے والوں کو داد دے رہے ہوتے ہیں۔
رانی کے بچپن میں ہچکیاں روکنے کی کوشش، باتھ روم میں چھپ کر ٹشوز منہ میں ٹھونسے کا منظر، ریستوران میں باپ کے شرمندہ ہونے سے اینڈ میں فخر تک کے مناظر، بچپن سے بڑے ہونے تک کی مشکلات، اسکول میں اسٹوڈنٹس اور سینئرز کی طرف سے چیلنج پھر کامیابی ایک ٹریک ہے دوسرا ٹریک طبقاتی فرق اور اچھے اسکول میں پڑھنے والے غریب خاندان کے بچوں کی مشکلات کو دکھاتا ہے۔
اداکاری کے ٹیلنٹ کا پاور ہاؤس، سب سے بڑا پروڈکشن ہاؤس، مجبوری اور معذوری میں محنت و لگن سے اپنے سے طاقتور کا چیلنج اور پھر کامیابی کا لائٹ ہاؤس، یہ تینوں ’ہاؤس‘ہیں بالی وڈ کی فلم”ہچکی“ میں، یہی نہیں فلم کا بجٹ بھی زیادہ نہیں اوپر سے فلم دیکھنے والوں کے دلوں کو چھوگئی ہے اوران کے دل سے جُڑ گئی ہے۔
فلم ایک اونچے اسٹینڈرڈ کا اسکول ہے جہاں حکومت کی پالیسی اور قوانین کے تحت ایسے بچے بھی پڑھتے ہیں جو وہاں کے اور بچوں کی طرح نہ تو بڑے گھرانوں کے ہوتے ہیں اور نہ ہی انھیں باقی بچے اور اسکول ٹیچر اچھا سمجھتے ہیں۔
طبقاتی فرق کی اس کہانی میں کس طرح اسکول کے اِن بچوں کو اسکول سے نکالنے کی سازش ہوتی ہے اور کیسے رانی مکھرجی ان بچوں کیلئے دیوار، سہارا اور مقصد بنتی ہے، یہ سب فلم دیکھنے والوں کیلئے بڑا سرپرائز تھا۔
فلم ہالی وڈ کی فلم’فرنٹ آف دی کلاس‘ سے متاثر ہے، فرنٹ آف دی کلاس ایک حقیقی کردار ”بریڈ کوہن“ سے متاثر ہو کر بنائی گئی تھی، اُس فلم کا مرکزی کردار ایک لڑکے کا تھا۔
باقی اسپیشل بچے کیلئے ماں کی محبت، باپ کی بے بسی اور غصہ، ایک چھوٹا بھائی، بچپن کی مشکلات، کلاس فیلوز کا ہنسنا اور ان کا تنگ ہونا، بطور ٹیچر انٹرویوز میں مسترد ہونا اور سب سے بڑھ کر ایک ٹیچر کی رہنمائی کی وجہ سے خود اعتمادی آنا سب وہی ہے لیکن یہاں رانی اور ڈائریکٹر نے سب مناظر کو اپنا بنا کر اپنے رنگوں میں ڈھال کر سب کیلئے اپنا بنالیا۔
فلم کا دوسرا ٹریک تھوڑا سا فلم ’چک دے‘ سے متاثر لگتا ہے جہاں ایک تقریبا ’فیل کلاس‘ کو کامیاب کرانے اور اپنے آپ کو ثابت کرنے کیلئے رانی مکھر جی شاہ رخ خان کی طرح چیلنج لیتی ہے، پھر کامیاب ہوتی ہے اور تو اور رانی کے کچھ اسٹوڈنٹس اور ساتھی بھی بالکل ’چک دے‘ کے کچھ کرداروں کی طرح ڈیزائن کیے گئے ہیں۔
فلم کا اینڈ کافی فلمی ہے لیکن جذباتی بھی بہت ہے، آخر میں بالکل بچوں کی طرح کے بڑے بھی نظر آتے ہیں۔ اسی طرح اجے کی فلم ’گول مال فور‘ میں بھی ہوا تھا، جب بڑوں کی شکل اور اسٹائل سے ملتے جلتے بچوں کو یقینا بڑی مشکل سے تلاش، تیار اور پیش کیا گیا ہوگا۔
فلم میں طبقاتی فرق کو بالکل حقیقی انداز میں پیش کیا گیا، رانی جیسی مڈل کلاس ٹیچر کا کچی بستی میں جا کر حیران ہونا بالکل حقیقی ہے۔ ہمارے یہاں بھی ڈیفنس اور کلفٹن میں رہنے والوں کو شاید ناظم آباد کا نہیں پتہ تو سر جانی والوں کو یقیناََ ڈیفنس کے راستے بھی معلوم نہیں۔
مچھلیوں والے کی چورن ٹرالی، ٹھیلے والا حلیم اور کچالو شاید ایک نسل کھانے تو دور کی بات کبھی دیکھے بھی نہیں ہوں اور نہ ہی وہاں کے تکے، کلیجی اور قلفیوں کے ذائقے سے آشنا ہوں اور تو اور انھوں نے پیسنے والی ’سِل بٹا‘ شاید انٹرنیٹ پر بھی نہیں دیکھی ہو۔
فلم کے سارے بچے، ساتھی اداکار اور پرنسپل سب نے بہت نیچرل اداکاری کی ہے لیکن رانی کے بعد اگر کوئی اداکار فلم میں دکھا ہے تو وہ ان بچوں کے مخالف ٹیچر یعنی نائن اے کے کلاس ٹیچر کی کردار نگاری ہے۔
رانی مکھرجی کا تو نام ہی کسی فلم کیلئے کافی ہے، فلم ہٹ ہو یا فلاپ رانی کا کردار بہت پاور فل ہوتا ہے۔ بہترین اداکارہ اور بہترین معاون اداکارہ کے 7ریکارڈز، ایک ہی کردار سے بہترین اداکارہ اور کریٹکس ایوارڈز جیتنے کا اعزاز، تینوں بڑے خان ہیروز کے ساتھ ہیٹ ٹرک کرنے والی بالی وڈ کی واحد ایکٹریس، خان تو خان ابھیشیک بچن، سیف علی خان اور ویویک اوبرائے جیسے ہیروز کے ساتھ بھی سپر ہٹ فلمیں یہ صرف رانی مکھرجی کے کیریئر میں ہی نظر آتا ہے۔
رانی مکھر جی تو پہلے کے عدنان سمیع خان کی ویڈیو میں بھی نظر آنے سے نہیں گبھرائیں۔
رومانس کی بات ہو تو ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ یا ’چلتے چلتے‘ اور ’ساتھیا‘، ایکشن اور ڈرامہ ہوتو ’مردانی‘، تھرلر اور کورٹ ڈرامہ ہو تو ’نو ون کلڈ جسیکا‘ اور ’ویر زار‘، مسٹری ہو تو ’تلاش‘ جیسی فلمیں اور کردار اور سب سے بڑھ کر ’بلیک‘رانی مکھر جی جیسا کوئی نہیں۔
رانی مکھرجی کی ہچکی ان کی 40 ویں سالگرہ کے ساتھ ہی ریلیز ہوئی اور بالی وڈ میں 30 کے بعد ہی ہیروئن کا کیریئر تقریباَ ختم ہوجاتا ہے۔
رانی کی کزن کاجول اور سہیلی پریٹی زنٹا اب مرکزی کرداروں میں نظر نہیں آرہی لیکن رانی ابھی بھی ڈٹی ہوئی ہیں، اس میں تھوڑا کمال ان کے جیون ساتھی آدیتہ چوپڑا کا بھی ہے جو بالی وڈ کے سب سے بڑے پرودکشن ہاؤس یش راج کے مالک اور خود بھی کامیاب ڈائریکٹر ہیں۔
یہ بھی بڑی دلچسپ بات ہے کہ آدی چوپڑا نے رانی مکھرجی کے ساتھ بطور پروڈیوسر تو بہت کام کیا لیکن بطور ہدایت کار رانی کو صرف ’رب نے بنادی جوڑی‘ کے ایک گانے میں مہمان اداکارہ کے طور پر کاسٹ کیا تھا۔
رانی مکھرجی کی آخری ریلیز ہونے والی فلم کا نام ’مردانی‘ تھا جس میں رانی نے ایکشن دکھانے والی پولیس افسر کا یادگار کردار ادا کیا تھا، فلم مردانی چار سال پہلے ریلیز ہوئی تھی اور باکس آفس پر کامیاب ہوئی تھییعنی رانی نے مردانی سے استانی تک کا کامیاب سفر کیا ہے۔
فلم ہچکی کے ہدایتکار سدھارتھ ملہوترا ہے، آپ سوچ رہے ہیں یہ تو ہیرو ہیں جنھوں نے غالباَ چپکے سے فلم بھی بنادی، یہ سدھارتھ ملہوترا ہیرو نہیں بلکہ ڈائریکٹر ہیں اور اس سے پہلے کاجول اور کرینہ کپور کے ساتھ فلم” وی آر فیملی“ بھی بناچکے ہیں۔
فلم کے پروڈیوسر منیش شرما ہیں جو یش راج بینر کیلئے ’میری پیاری بندو‘ اور ’دم لگا کے ہے شا‘ کے پروڈیوسر اور ’فین‘، ’بینڈ باجا بارات‘ اور ’شدھ دیسی‘ رومانس جیسی فلمیں ڈائرکٹ کرچکے ہیں۔
ہچکی کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ یہ فلم سب کے دیکھنے والی اور سب کو پسند آنے والی فلم ہے، ’کوئین‘ اور ’انگلش ونگلش‘ کی طرح یہاں بھی ہیروئن ہی ہیرو ہے۔
یہاں بھی ان دونوں فلموں کی طرح فلم کب شروع ہو کر ختم ہوجاتی ہے دیکھنے والوں کو پتا بھی نہیں چلتا، وہ ایسا جڑ جاتے ہیں اس فلم سے کہ تالیاں بجانے اور اسکرین بلیک ہونے کے باوجود ان کے قدم تو سینما گھر سے اٹھ جاتے ہیں لیکن ان کا دل سفید ”چالک “ اور سیاہ ” بلیک بورڈ“ سمیت فلم کے مناظر اور اپنی اسکولنگ کی یادوں کی ایک ساتھ ہچکیاں لے رہا ہوتا ہے۔