دل کش و حسین پاؤں آپ کی شخصیت کا آئینہ ہیں

عام طور پر پاؤں میں نمی رہنے سے فنگل انفیکشن ہوجاتا ہے جس سے پاؤں کی انگلیوں کی درمیانی جلد بھی سفید ہوجاتی ہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا

نرم و ملائم اور خوب صورت پاؤں بلاشبہہ خواتین کی شخصیت کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔

اکثر خواتین کی خوب صورتی کا اندازہ ان کے پاؤں دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے۔ اگر ان کی ٹھیک سے دیکھ بھال نہ کی جائے تو یہ دیکھنے میں بد نما لگنے لگتے ہیں۔ پاؤں کی حفاظت اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہ ہمارے جسم کا وہ خاص عضو ہیں جو دن بر ہمارا وزن برداشت کرتے ہیں، اسی لیے ضروری ہے کہ ان کی صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھا جائے۔

ہماری خواتین اکثر و بیش تر صرف چہرے کو سنوارنے کے لیے محنت کرتی ہیں، مگر وہ یہ بھول جاتی ہیں کہ ہاتھ اور پاؤں بھی ان کی توجہ مانگتے ہیں۔ موسم چاہے کوئی بھی ہو، سب سے پہلے پاؤں خصوصاً ایڑیاں جلدی متاثر ہوتی ہیں، کیوں کہ پاؤں کی جلد زیادہ نازک ہوتی ہے، اسی لیے موسمی اثرات سب سے پہلے قبول کرتی ہے۔ تیز دھوپ میں پاؤں کو حفاظت کی زیادہ ضرورت محسوس ہوتی ہے، اسی لیے دن میں کم از کم دو بار پاؤں دھوکر ان پر کوئی معیاری موئسچرائزر لگانا بہت ضروری ہوتا ہے، خاص طور پر سوتے وقت تو ان کی خاص کیئر کرنی چاہیے۔

صرف سردی میں ہی نہیں بلکہ گرمی کے موسم میں بھی اکثر پیروں کی جلد پھٹ جاتی ہے جس کے لیے ایک گلاس عرقِ گلاب میں گلیسرین کے دو بڑے چمچے اور ایک بڑا چمچہ لیموں کا رس نچوڑ کر اچھی طرح مکس کرکے کسی صاف ستھری شیشی میں بھر کر فریج میں رکھ لیں۔ پھر یہ محلول روزانہ رات کو سوتے وقت پیروں پر ملیں، کچھ ہی دنوں میں پھٹی ہوئی جلد ٹھیک ہوجائے گی۔

پیروں کی بدنمائی دور کرنے کے لیے ایک چھوٹے ٹب میں گرم پانی لیں اور اس میں تھوڑا سا نمک ڈال کر اس میں بیس منٹ تک پاؤں بھگو کر بیٹھ جائیں۔ پھر جھانوے کی مدد سے پاؤں صاف کرکے دھولیں اور خشک کرنے کے بعد کوئی اچھی سی کریم لگالیں۔ روزانہ یہ عمل کرنے سے پاؤں پر کشش ہوجائیں گے۔

اگر پاؤں میں کٹ کے نشان ہیں تو موم اور تیل گرم کرکے لگائیں اور موزے پہن لیں، پھر دوسرے دن نمک والے پانی میں پیروں کو بھگوکے رکھیں، پاؤں ٹھیک ہوجائیں گے۔ اس کے علاوہ جو کا موٹا آٹا اور موٹا نمک ایک کپڑے کی تھیلی میں بھرکر اس سے پاؤں صاف کریں۔ اس کے لیے پہلے پاؤں گیلے کریں اور بعد میں گرم پانی میں پیر ڈال کر خوب اچھی طرح سے مساج کریں۔

صرف سرسوں کے ہلکے گرم تیل میں نمک ملا کر مساج کرنے سے بھی پاؤں صاف ہوجاتے ہیں۔ عموماً بند جوتے پہننے سے بھی پاؤں سے عجیب طرح کی بد بو آنے لگتی ہے، اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے نیم کے پتوں کو سکھا کر پاؤڈر بنالیں اور روزانہ جوتوں یا پاؤں پر چھڑک لیں، بو نہیں آئے گی۔ پاؤں میں اگر موچ آجائے تو چلنا محال ہوجاتا ہے، اس کے لیے بہترین طریقہ یہ ہے کہ جہاں موچ آئی ہے، وہاں گرم پانی کی ٹکور کریں۔

دیسی انڈے کی زردی میں تھوڑا سا گیرو پیس کر ملائیں اور ہلکا گرم کرکے اس کا اچھی طرح لیپ کریں۔ پھر روئی سے سینکائی کرلیں، فوری افاقہ ہوگا۔ اگر پاؤں میں جوتے پہننے سے نشان پڑجاتے ہیں تو گلیسرین کے چار بڑے چمچے اور ایک بڑا چمچہ لیموں کا رس ملا کر اس سے دھبوں پر مالش کریں اور کچھ دیر بعد پاؤں دھولیں، ایک ہفتے میں پیروں سے نشانوں کا خاتمہ ہوجائے گا۔

عام طور پر پاؤں میں نمی رہنے سے فنگل انفیکشن ہوجاتا ہے جس سے پاؤں کی انگلیوں کی درمیانی جلد بھی سفید ہوجاتی ہے اور خارش کے ساتھ ساتھ درد بھی رہتا ہے، اس تکلیف سے نجات کے لیے نہانے کے بعد انگلیوں کے درمیانی حصوں کو اچھی طرح صاف کریں، تا کہ نمی نہ رہے اور جب بھی کہیں باہر سے گھر آئیں تو پاؤں کو اچھی طرح دھوئیں، اس سے ان پر جمی ہوئی مٹی، گرد و غبار، دھول اور پسینہ سب صاف ہوجائے گا اور پاؤں نرم و ملائم دکھائیں دیں گے۔