بہاول وکٹوریہ ہسپتال،شعبہ میڈیسن کی شتر بے مہاریوں پر ڈاکٹر سید صلاح الدین بابر کا تازہ کالم

بہاول وکٹوریہ ہسپتال،شعبہ میڈیسن کی شتر بے مہاریوں پر ڈاکٹر سید صلاح الدین بابر کا تازہ کالم

برائے توجہ وزیر اعلیٰ پنجاب، سیکرٹری ہیلتھ پنجاب و وزیر صحت پنجاب

”میں دیر کرتا نہیں دیر ہو جاتی ہے“ کے مصداق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف بظاہر ایک جذبے سے سرشار اور جوشیلا انداز خطابت اپنانے کے باوجود کچھ انتہائی اہم کاموں کو وقت پر نمٹانے میں فیاضی کی بجائے کفایت شعاری کر گزرتے ہیں ۔میرا مقصد ان کی نیک نیت پر شک کرنا اور ان کے بامقصد اور عوام دوست منصوبوں پر انگلی دھرنا ہر گز نہیں ۔مجھے یہاں پنجاب بھر میں میڈیکل اسٹورز مالکان کی ہڑتال کا واقعہ یاد آگیا۔یہ زیادہ پرانی بات نہیں ہے ۔ یہ ہڑتال تقریباً پانچ دن جاری رہی اور اس دوران مریضوں اور ان کے لواحقین پر کیا گزری ،اس کا اندازہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو شاید نہ ہو سکا۔اگر مریضوں کے کرب اور تکلیف کو سمجھتے تو اسے فوراً سے پہلے ہنگامی بنیادوں پر حل کرتے مگر انہیں ایسا کرنا مناسب نہیں لگا۔ میں مریضوں کی حالت زار اور بے بسی دیکھ دل ہی دل میں کڑھتا رہا اور جہاں تک مجھ سے بن پڑا،میں نے عوام کی اس اذیت ناک حالت کی اطلاع حکام بالا تک پہنچائی۔اس دوران مجھے جن صاحب اختیار ہستیوں سے براہ راست گفتگو کا شرف حاصل ہوا،وہ آدمی تو ضرور تھے مگر ان میں انسان دور دور تک نظر نہ آیا ۔ان کا تفصیلی تذکرہ پھر کبھی سہی!ناصر کاظمی نے غالباً انہی افراد کے بارے میں کہا تھا۔
ایسا مکتب بھی کوئی شہر میں کھولے ناصر
آدمی کو جہاں انسان بنایا جائے
ایک دوسرا شاندار اور قابل ذکر واقعہ ،ہفتہ بھر گزرا ہوگاوزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف ”سرجیکل ٹاور“ کے افتتاح کے لئے میو اسپتال تشریف لائے تاہم ان کی یہ آمد مریضوں کے لئے وبال جان بن گئی۔ مبینہ تفصیلات کے مطابق خادم اعلیٰ پنجاب کی تشریف آوری کے موقع پر سیکیورٹی عملے نے مریضوں کو سرجیکل ٹاور سے نکال باہر کیا اور وہ تپتی دھوپ میں دہیل چیئر پر بیٹھنے پر مجبور رہے۔اتنظامیہ نے خاتون مریضہ کو بھی نہ بخشا اور اسے بھی حدود سے باہر نکال دیا جبکہ جلے ہوئے مریضوں پر بھی عملے کو رحم نہ آیا اور انہوں نے زیر علاج لوگوں کو بھی سرجیکل ٹاور سے باہر نکال دیا۔مریضوں نے انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ اسپتال میں صرف ان مریضوں کو رکھا گیا ہے جن کی صحت بہتر تھی تاکہ وزیر اعلیٰ کو” سب اچھا ہے“ کی رپورٹ پیش کر کے عملہ اپنی بہتر کارکردگی کا دعویٰ کرسکے۔
ہمارے ہاں سب سے آسان کام مسائل کے حل کی بجائے ان سے روگردانی کی روش اختیار کرنا ہے ۔اس میں صرف حکام بالا کو ”ماموں“بنانا ہوتا ہے اور یہ کام ایک جملے”سب اچھا ہے“سے پورا ہو جاتا ہے اور صاحب اختیار حکمران بالا بھی صر ف یہی جملہ سننا پسند فرماتے ہیں یہی وجہ ہے کہ خاص و عام عہدوں پر فائز افراد کھل کر اپنی من مانیاں کرتے ہیں کیونکہ کوئی پوچھنے والا نہیں۔میںآج بہ طور خاص میں بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال میں ”کارڈیالوجی سینٹر “ کا ذکر کروں گا جو حال میں ہی بنایا گیا ہے جسے قائد اعظم میڈیکل کالج بہاولپور کے طلباءبھی تربیت کے لیے استعمال کریں گے۔حکومت پنجاب نے پنجاب بھر میں کارڈیالوجی سینٹرز بنائے ہیں۔ مذکورہ کارڈیالوجی سینٹرکو کارڈیالوجی سے متعلقہ جدید آلات و سامان سے مزین کیا گیا ہے ابتدائی طور پر تقریباً ساٹھ بستروں کا انتظام کیا گیا ہے ۔یہاں پرانے کارڈیالوجی یونٹ کا تذکرہ بھی ضروری ہے جو شعبہ حادثات کے ساتھ بنایا گیا تھا جسے ماضی میں حکومتی وسائل اور مخیر حضرات کے عطیات سے بنایا گیا ۔نیا کارڈیالوجی سینٹر فی الحال اسٹاف سے محروم ہے یعنی ابھی تقرریوں کا مرحلہ باقی ہے یاں البتہ پرانے کارڈیالوجی یونٹ میں ڈاکٹرز سمیت تمام عملہ تعینات ہے اور اپنے فرائض ادا کر رہا ہے ۔ مبینہ طور پر اندر کی بات یہ ہے کہ شعبہ میڈیسن سے وابستہ سینئر پروفیسرز حضرات نے زور لگا رکھا ہے کہ پرانی کارڈیالوجی یونٹ کی عمارت ان کے حوالے کر دی جائے ۔ مجھے یہاں یہ لازمی طور پر بتانا ہے کہ بہاولپورشہر ایک ڈویژن کی حیثیت رکھتا ہے اور بہاولپور کے علاوہ ضلع رحیم یارخان ،ضلع بہاولنگر اور دیگر نواحی علاقوں کی صحت اور علاج معالجے کی ضروریات پوری کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہاں ہر وقت مریضوں کا تانتا بندھا رہتا ہے اور سچی بات تو یہ ہے مذکورہ دونوں کارڈیالوجی سینٹرز ملا کر غریب عوام کی ضروریات اور سہولیات کے لیے ناکافی ہیں تاہم دو سینٹر کی موجودگی سے نسبتاً بہتر خدمات انجام دی جا سکتی ہیں۔
بہاولپور کی آبادی میں خاصا اضافہ ہو چکا ہے اور دیہی علاقوں کے لوگ بھی بہاولپوروکٹوریہ ہسپتال کے شعبہ کارڈیالوجی سے استفادہ کرتے ہیں۔ مبینہ تفصیلات کے مطابق شعبہ میڈیسن سے وابستہ پروفیسر صاحبان نے پرنسپل میڈیکل کالج کو یرغمال بنا رکھا ہے اور ان سے اپنی من مرضی کے فیصلے کروائے جاتے ہیں۔شعبہ میڈیسن سے وابستہ یہ بے حس اور ہمدردی و انسانیت سے عاری ڈاکٹرز صرف اور صرف شعبہ میڈیسن کے بلاجواز گن گاتے ہیں اور شعبہ کارڈیالوجی جیسے انتہائی اہم اور حساس شعبے کو خاطر میں ہی نہیں لاتے۔مذکورہ نام نہاد مفاد پرست ٹولے نے شعبہ کارڈیالوجی کی پرانی عمارت پر قبضے کا پروگرام بنایا ہے۔بہاولپور کے عوام انہیں اس خود غرضانہ عمل کی کسی صورت اجازت نہیں دیں گے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب،سیکرٹری ہیلتھ پنجاب اور وزیر صحت پنجاب تھوڑی دیر کے لیے خواب غفلت سے بیدار ہوں اور اس اہم ترین مسئلے میں شعبہ میڈیسن کے مفاد پرست اور بااثر پروفیسرز کو اپنی من مانیاں کرنے سے روکیں اور شعبہ کارڈیالوجی
کو مزید وسعت دیتے ہوئے نئے کارڈیالوجی سینٹر کا پرانے شعبہ کارڈیالوجی سے الحاق کیا جائے تاکہ غریب اور مزدور افراد جو دل کے امراض کا شکار ہیں انہیں علاج معالجہ کی مناسب سہولیات مہیا ہو سکیں۔اس حوالے سے تحریری مکتوب وزیر اعلیٰ پنجاب،سیکرٹری ہیلتھ پنجاب صوبائی وزیر صحت اور کمشنر بہاولپور کو بھجوا دیئے گئے ہیں۔
ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا ملک ترقی پذیر ہے اس سے بڑا المیہ انفرادی اور اجتما عی طور پر لوگوں کی سوچ بھی زوال پذیر ہے۔تعلیم کے باوجودپاکستان میں ابھی تک طب کی حالت قابل رحم ہے ۔ ملک میں ابھی تک شعبہ جراحی اور طب دیگر شعبوں کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ شعبہ طب سے وابستہ پروفیسرز کی یہ خود غرضانہ اور چھوٹی سوچ ہے کہ وہ سوائے طب کے کسی شعبے کو خاطر میں ہی نہیں لاتے اور اس خام خیالی کا شکار ہیں کہ شعبہ میڈیسن میں بہت وسعت ہے مثال کے طو ر ان نام نہاد اور دانشور نما زرخیز اذہان کا نادر خیال ہے کہ شعبہ نفسیات،شعبہ جلد،شعبہ کارڈیالوجی،یورالوجی، وغیرہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ان تمام شعبوں کے مریضوں کا تو وہ خود بہ طور احسن علاج کر سکتے ہیں۔ترقی یافتہ ممالک میں میڈیکل کے تمام شعبوں کو یکساں اہمیت دی جاتی ہے اور ان کی ضرورت کو سمجھا اور اجاگر کیا جاتا ہے ۔مجموعی طور پر اور بالخصوصمیڈیسن اور سرجری سے وابستہ سینئر پروفیسرزحضرات اپنی انا کی تسکین اور ذاتی رعب اور دبدبہ برقرار رکھنے کے لیے دیگر شعبوں کو پس پشت ڈال رہے ہیں جس کا خمیازہ نہ صرف عوام کو بھگتنا پڑتا ہے بلکہ میڈیسن اور سرجری کے علاوہ دیگر شعبوں سے وابستہ ڈاکٹرز اور پروفیسر ز بھی ذہنی کرب اور تکلیف سے گزرتے ہیں۔
میں عرصہ دراز سے ڈاکٹری سے شعبے وابستہ ہوں مجھے معلوم ہے کہ دل کے امراض کا شکار مریضوں کو زیادہ طویل وقت کے لیے ہسپتال میں داخل ہونا پڑتا ہے ۔دیکھا جائے تو امراض دل میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے ۔ایسی سنگین صورت حال میں شعبہ میڈیسن کی منظق سمجھ سے بالا تر ہے کہ ایک ہی کارڈیالوجی سینٹر کافی ہے۔میرے نزدیک ایک بہت بڑی بیماری جو میڈیکل کے شعبے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے وہ اثر و رسوخ،رعب اور دبدبہ ہے۔سینئرز پروفیسرز صاحبان اپنے اختیار اور اثر و رسوخ کا غلط استعمال کرتے ہیں ۔حد تو یہ ہے کہ افراد اتنے توانا اور مضبوط ہو چکے ہیں کہ پرنسپل قائد اعظم میڈیکل کالج بہاولپور کو بھی ڈمی سمجھتے ہیں اور پرنسپل کو خود مختار فیصلے نہیں کرنے دیتے اور ہر فیصلے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔میری وزیر اعلیٰ پنجاب، سیکرٹری ہیلتھ پنجاب، وزیر صحت پنجاب، کمشنر بہاولپور سے گزارش ہے کہ خدارا عوام کی حالت پر رحم کرتے ہوئے اس معاملے کو سنجیدگی لیں اور کسی ایک کارڈیالوجی سینٹر یا یونٹ کو غیر فعال کرنے کی بجائے دونوں کارڈیالوجی سینٹر ز کو چلایا جائے ۔کالم کا اختتام حسب معمول دو سچے اشعار پر

روشنی کا کچھ نہ کچھ امکان ہونا چاہئے
بند کمرے میں بھی ،روشن دان ہونا چاہئے

وہ جو ان پڑھ ہیں، چلو حیوان ہیں، تو ٹھیک ہے
ہم پڑھے لکھوں کو تو، انسان ہونا چاہئے