بجٹ 2019 -2020:صحت اورپانی کے لیے 93 ارب روپے مختص

بجٹ 2019 -2020:صحت اورپانی کے لیے 93 ارب روپے مختص

اسلام آباد(نیوزلیب)پاکستان تحریک انصاف کے وزیرِ مملکت برائے محصولات حماد اظہر آج اپنی حکومت کا پہلا سالانہ بجٹ پیش کررہے ہیں، بجٹ کا حجم 67 کھرب روپے رکھا گیا ہے۔ ترقیاتی کاموں کے لیے 1800 ارب روپے مختص کیے  گئے ہیں، ٹیکس وصولیوں کا ہدف 550 ارب رکھا گیا ہے۔ وفاقی بجٹ کا خسارہ 3560ارب روپے ہوگا۔

بجٹ میں وفاقی وزراؤں کی تنخواؤں میں 10 فیصد کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ گریڈ 21 اور 22 کے سرکاری افسران کی  تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ چارلاکھ سالانہ آمدن والوں کو انکم ٹیکس دینا ہوگا۔

وزیرمملکت حماداظہر نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کامجموعی قرضہ 31000ارب روپےہے، کمرشل قرضے سود پر لئے گئے ،بیرونی قرضوں کا حجم ضرورت سے زیادہ تھا،جاری کھاتوں کاخسارہ20ارب ڈالراورتجارتی خسارہ32ارب ڈالرتھا۔بجلی کےنظام کاقرضہ 1200ارب روپے تک پہنچ گیا تھا۔

گزشتہ برس ترقیاتی کاموں کے لیے دس کھرب تیس ارب روپے وفاقی سطح پر مختص کیے گئے تھے ، رواں برس تقریبا اٹھارہ کھرب روپے مختص کیے  گئے ہیں۔ اس میں سے 950 ارب روپے وفاقی منصوبوں کے لیے اور باقی صوبائی منصوبوں کے لیے ہیں۔

ترقیاتی بجٹ میں حکومت صحت، پانی وغیرہ کے لیے 93 ارب مختص کرے گی، حکومت کوشش کرے گی کہ قیمتوں میں کم از کم اضافہ ہو، عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافہ ہو تو بھی غریبوں پر بوجھ نہیں ڈالیں گے، 950 ارب روپے وفاقی ترقیاتی بجٹ کے لیے رکھے گئے ہیں، ترقیاتی بجٹ کی ترجیحات میں صاف پانی، سرمایہ کاری اور بجلی کی فراہمی شامل ہیں۔

نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے لیے 156 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، پشاور کراچی موٹر وے کے سکھر سیکشن کے لیے 19 ارب روپے مختص، انسانی ترقی کے لیے 60 ارب روپے کی تجویز ہے۔ کوئٹہ ڈیویلپمنٹ پیکج کا حجم 10.2 ارب روپے رکھا گیا ہے، 43.5 ارب روپے کراچی کے منصوبوں کے لیے رکھے گئے ہیں۔

پاکستان اپنے مخصوص جغرافیے کے سبب سیکیورٹی خدشات کا شکار ہے، دفاع پر کثیر رقم خرچ کرنا ہماری سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ گزشتہ برس دفاع کے لیے 11 کھرب روپے مختص کیے گئے ، پاک فوج کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ اس سال دفاعی بجٹ میں اضافہ نہیں لیا جائے گا۔

پاکستان میں توانائی کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے مستقل اقدامات کی ضرورت ہے گزشتہ برس اس مد میں 138 ارب روپے رکھے گئے تھے، رواں برس توانائی کی مد میں 80 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ 300 یونٹ سے کم استعمال کرنے والوں کے لیے 200 ارب روپے کی سبسڈی رکھی گئی ہے تاکہ انہیں لاگت سے بھی سستی بجلی فراہم کی جاسکے۔

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا حصول ایک انتہائی مشکل امر ہے اور اس مد میں بہت کم رقم مختص کی جاتی ہے، گزشتہ برس اس میں میں 57 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، رواں برس اس ضمن میں 43 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

اٹھارویں ترمیم کے بعد سے صحت صوبائی معاملہ ہے لیکن وفاق بھی صحت کی سہولیات کی فراہمی میں اپنا حصہ ڈالتا ہے گزشتہ برس صحت کی مد میں37 روپے مختص کیے گئے تھے۔ صحت اورپانی کیونکہ لازم و ملزوم ہیں لہذا صحت و پانی کے منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 93 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

پاکستان کی معیشت میں زراعت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہےگزشتہ سال اس شعبے کی دی جانے والی سبسڈی صوبوں کی صوابدید پر چھوڑی گئی تھی ، اس سال زراعت کے فروغ کے لیے 240 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

  سے 16 تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فی صد اضافہ، 17 سے 20 گریڈ تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 5 فی صد اضافہ، 21 سے 22 گریڈ تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تمام پنشنرز کی پنشن میں 10 فی صد اضافہ کیا جا رہا ہے، معذور افراد کے وظیفے میں 1000 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔

وزرا نے رضا کارانہ طور پر تنخواہوں میں 10 فی صد کمی کا تاریخی فیصلہ کیا۔ بجٹ میں کم سے کم تنخواہ 17500 روپے کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

امپورٹڈ اشیا پر کم سے کم ٹیکس لگایا جا رہا ہے، غیر بُنے کپڑے کی امپورٹ میں کمی کی جا رہی ہے، لکڑی کے فرنیچر میں استعمال کی کچھ اشیا پر ڈیوٹی کم کی جا رہی ہے، بجٹ میں لکڑی پر ڈیوٹی کم کی جا رہی ہے۔

خوردنی تیل صاف کرنے والے پلانٹس کے پارٹس پر ڈیوٹی کم کر رہے ہیں، اسمگلنگ کم کر کے ضایع ہونے والے محصولات کو واپس لایا جائے گا، ادویہ میں استعمال کیمیکل پر ڈیوٹی 3 فی صد کم کی جا رہی ہے، ایل این جی پر 5 فی صد کسٹم ڈیوٹی عاید کر دی گئی ہے۔